87

سہاگن وہی جو پیا من بھائے

کوئی مانے یا نہ مانے ارض وطن پاکستان میں فوجی اسٹیبلشمنٹ کا کردار نہایت اہم چلا آ رہا ہے، اسے تسلیم کرنے والے ہمیشہ ہر طرح کے ثمرات سے مستفید ہوتے رہتے ہیں اور انکار کرنیوالوں کی خیر نہیں ہوتی، دنیا کے بہت سے ممالک میں فوجی اسٹیبلشمنٹ کا کردار ایک مسلمہ حقیقت کے طور پر تسلیم کیا جاتا ہے، یہی وجہ ہے کہ ان ممالک میں کبھی بھی حکومت اور فوج میں محاذ آرائی نہیں ہوئی، پاکستان میں مسند اقتدار لینے سے قبل بہت وعدے کئے جاتے ہیں لیکن برسراقتدار آنیوالے لوگ بدقسمتی سے اپنے وعدوں کو بھول جاتے ہیں، انہوں نے جو وعدے کئے ہوتے ہیں ان کا مقصد ملک وقوم کی ترقی وخوشحالی ہوتا ہے مگر حکمران جب اپنے وعدوں کو بھول جائیں تو اس کا نتیجہ اچھا نہیں ہوتا، فوجی اسٹیبلشمنٹ اور حکمرانوں کا اتفاق ملک وقوم کی بہتری کے لیے بڑی اہمیت کا حامل ہے اور بہت سے ممالک کے ساتھ دوستانہ تعلقات کو مزید پائیدار بنانے کیلئے بھی فوجی اسٹیبلشمنٹ کا کردار کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے، دوست ممالک سے قرضوں امداد اور سرمایہ کاری کیلئے بھی فوجی اسٹیبلشمنٹ کا کردار عوام کیلئے آسانیاں پیدا کرنے کا ذریعہ بنتا چلا آ رہا ہے، سول حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان انڈرسٹینڈنگ ہونا ہمیشہ ملک وقوم کے بہترین مفاد میں ثابت ہوا ہے، موجودہ حکمرانوں اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان بھی اچھی انڈرسٹینڈنگ ہے جس سے حکومت کی راہوں میں مزید آسانیاں پیدا ہونے لگی ہیں، 8 فروری 2024ء کو ہونے والے عام انتخابات کے نتائج سب کے سامنے ہیں، الیکشن میں کسی سیاسی جماعت کو دو تہائی اکثریت حاصل کر کے تنہا حکومت بنانے کا مینڈیٹ نہیں ملا، سیاسی جماعتوں سے پاکستان مسلم لیگ (ن) نے سب سے زیادہ نشستیں حاصل کیں اور پاکستان پیپلزپارٹی دوسرے نمبر پر رہی، تاہم آزاد حیثیت سے الیکشن لڑنے والے پاکستان تحریک انصاف کے حمایت یافتہ امیدوار سب سے زیادہ کامیاب ہوئے لیکن چونکہ PTI کو انتخابی نشان نہ مل سکا تھا اس لئے الیکشن جیتنے والے ان کے حامی امیدواروں کو آزاد ممبران اسمبلی ہی کہا گیا، بعدازاں ان ممبران اسمبلی نے سنی اتحاد کونسل میں شمولیت اختیار کر لی جس کے باوجود انہیں مخصوص نشستیں بھی نہ مل سکیں بلکہ ان مخصوص نشستوں کو دوسری جماعتوں میں تقسیم کر دیا گیا جس کی وجہ یہ بتائی گئی کہ سنی اتحاد کونسل نے عام انتخابات سے قبل الیکشن کمیشن کو مخصوص نشستوں کے بارے میں کوئی درخواست جمع نہیں کروائی تھی اور قواعد کی روشنی میں اب ان کا ان نشستوں پر حق نہیں تھا، قصہ مختصر یہ کہ یہ مخصوص نشستیں ملنے کے باوجود کوئی بھی سیاسی جماعت تنہاء حکومت بنانے کی پوزیشن میں نظر نہیں آئی اور الیکشن 2024ء کے بعد مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلزپارٹی نے شراکت اقتدار کے تحت حکومت بنائی’ میاں محمد شہباز شریف وزیراعظم بنے اور آصف علی زرداری صدر مملکت کے منصب پر فائز ہو گئے، موجودہ حکومت کی خوش قسمتی ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کے قریب ہے، انہیں برسراقتدار آئے ابھی صرف اڑھائی ماہ گزرے ہیں اور ان کی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے تو وہ زیادہ تسلی بخش نہیں ہے بلکہ مہنگائی نے عوام کو مایوس کیا ہے، پٹرولیم مصنوعات’ بجلی اور گیس کی قیمتوں میں مسلسل اضافے سے بھی کھانے پینے کی تمام اشیاء کی قیمتیں آسمان کو چھونے لگتی ہیں اور پیداواری لاگت میں اضافے کو ”جواز” بنا کر ملک بھر میں مہنگائی کا نیا طوفان برپا کر دیا جاتا ہے، ملک کے معاشی حالات بھی عوام کے لیے شدید پریشانی کا باعث بن چکے ہیں، معاشی بحران’ بجلی’ گیس اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہوشرباء اضافے کی وجہ سے عام آدمی کے ساتھ ساتھ بڑے بڑے صنعت کار بھی مشکلات کا شکار ہیں، صنعتوں خصوصاً ٹیکسٹائل سیکٹر کی بڑھتی ہوئی مشکلات اور برآمدات میں کمی سے صنعتکاروں کی پریشانیوں میں آئے روزاضافہ ہورہا ہے جس کی وجہ سے صنعتی اداروں پربندش کے خطرات منڈلانے لگتے ہیں اوربڑی تعداد میں محنت کشوں کے بیروزگارہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے،وطن عزیز میں اس وقت غربت،مہنگائی اوربیروزگاری کے طوفان نے عوام کودن میں تارے دکھا دیئے ہیں مگر اس کے باوجود 21 اپریل کوہونیوالے ضمنی انتخابات میں مسلم لیگ (ن)نے میدان مارلیا ہے اورقومی وصوبائی اسمبلیوں کی 21نشستوں پرچاروں صوبوں میں ہونیوالے ضمنی الیکشن کے غیرسرکاری وغیرحتمی نتائج دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ ملک کے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں رائے دہندگان کی اکثریت مسلم لیگ( ن) کیساتھ ہے،ضمنی انتخابات میں قومی اسمبلی کی 5اورصوبائی اسمبلیوں کی 16نشستوں کے ضمنی انتخابات میں مسلم لیگ(ن)نے 11نشستوں پرکامیابی حاصل کی ہے،پاکستان پیپلزپارٹی اورسنی اتحاد کونسل کودو،دوجبکہ مسلم لیگ(ق)استحکام پاکستان پارٹی اوربی این پی کوایک،ایک نشست پرکامیابی ملی ہے،خیبرپختونخواکے ایک حلقہ باجوڑ میں ایک آزاد امیدوار نے صوبے کی حکمران جماعت کو شکست سے دوچار کر کے بڑا اپ سیٹ کردیا،21اپریل کوہونے والے ضمنی انتخابات سمجھ داروں کیلئے ایک بڑااشارہ ہے،مسلم لیگ(ن)نے اڑھائی ماہ میں کون سا معرکہ سرانجام دیا؟مہنگائی کم نہیں ہوئی بلکہ بڑھی،تاہم یہ تابعداری کا نتیجہ ہے کہ (ن) لیگ کو ضمنی الیکشن میں سرخروئی ملی اوریہ کہا جائے توبیجانہ ہوگا کہ فوجی اسٹیبلشمنٹ کیساتھ ہم آہنگی سے سول حکومت پرعوام کا اعتماد بحال ہوا ہے،ملک میں اس وقت اتفاق رائے کی اشد ضرورت ہے،فوجی اسٹیبلشمنٹ بھی ہماری اورسیاستدان بھی ہمارے ہیں اورسبھی مل جل کر کام کریں تویہ ملک وقوم کے بہترین مفاد میں ہو گا،ضمنی الیکشن کے نتائج سے یہ حقیقت ایک بار پھر روز روشن کی طرح عیاں ہو گئی ہے کہ سہاگن وہی ہوتی ہے جو پیامن بھائے، نہیں تووہ پیاکے من سے اترجاتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں