91

سیاسی عدم استحکام اور معاشی چیلنجز سے نمٹنا ناگزیر… (اداریہ)

ملک میں سیاست ہر روز نئے رُخ اختیار کر رہی ہے اتحادی حکومت کی اہم ترین سیاسی جماعت پیپلزپارٹی کے ساتھ حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) میں لفظی گولہ باری جاری ہے پیپلزپارٹی کئی کلیدی عہدے انجوائے کر رہی ہے ساتھ ہی بلاول بھٹو کو وزیراعظم بنوانے کیلئے راستوں کی تلاش میں بھی ہے پنجاب حکومت اور سندھ حکومت کے وزراء ایک دوسرے پر تنقید کر رہے ہیں اور بظاہر کارکردگی پر ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی کوشش کی جا رہی ہیں اور عوام کو باور کرایا جا رہا ہے کہ ہم بہتر ہیں لیکن بعض حلقوں کے مطابق (ن) لیگ اور پی پی پی ایک دوسرے پر تنقید کر کے عوام کی توجہ پی ٹی آئی سے ہٹانا چاہتی ہیں تحریک انصاف صوبہ خیبرپختونخوا تک محدود ہو کر رہ گئی ہے پیپلزپارٹی سندھ میں اپنی اجارہ داری مضبوط کرنے میں مصروف جبکہ (ن) لیگ پنجاب کو اپنا مضبوط قلعہ بنا رہی ہے بلوچستان میں بھی سیاسی ہلچل کی خبریں ہیں سابق وزیراعظم اپنی صاحبزادی کو سیاسی طور پر مضبوط کرنا چاہتے ہیں المختصر یہ کہ ہمارے ملک کی سیاست کا حال عجیب وغریب ہوتا جا رہا ہے مگر سیاسی عدم استحکام کے خاتمہ کیلئے عمومی کوششیں کی جا رہی ہیں جن میں کامیابی کے مواقع کم ہیں یہ بات حکمرانوں اور ملک کی تمام سیاسی جماعتوں کو معلوم ہے کہ سیاسی اور معاشی استحکام کا چولی دامن کا ساتھ ہے سیاسی استحکام ہو اور پالیسیوں کا تسلسل چلتا رہے تو سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھتا ہے جس سے معیشت چلتی اور ترقی کرتی ہے لیکن اگر سیاسی عدم استحکام آ جائے، انتشار کی کیفیت پائی جا رہی ہو تو ترقی کے عمل کا رُک جانا فطری امر ہے یہ حالات ہوں تو نہ صرف غیر ملکی سرمایہ کاری نہیں آتی بلکہ ملکی سرمایہ کار بھی ہاتھ کھینچ لیتے ہیں جس سے برآمدات میں کمی تو آتی ہی ہے مقامی صنعتوں کی پیداواری صلاحیت بھی بے حد متاثر ہونے لگتی ہے اس طرح بے روزگاری بڑھتی ہے اور عوامی سطح پر بے چینی اپنے پورے عروج پر پہنچ جاتی ہے اس وقت پی ٹی آئی اکیلی ہی حکومت کیلئے اپوزیشن جماعت کا رول ادا کر رہی ہے کبھی احتجاج کبھی دھرنا’ کبھی سول نافرمانی کی دھمکی کبھی اوورسیز پاکستانیوں کو ملک میں ترسیلات زر نہ بھیجنے کے سندیسے دیئے جا رہے ہیں جو نہ صرف ملک وقوم بلکہ خود پی ٹی آئی کے حق میں بھی نقصان دہ ہے، وزیراعظم شہباز شریف ایوان میں تمام جماعتوں کا اعتماد حاصل کرنے کیلئے کوشاں ہیں انہوں نے پاکستان کی خاطر میثاق معیشت کا تصور بھی پیش کیا تاکہ ملک کی معیشت بحال ہونے کے ساتھ ساتھ سیاسی استحکام بھی ممکن ہو مگر پی ٹی آئی کی لیڈر شپ نے اسے انا اور ہٹ دھرمی کا مسئلہ بنا لیا جس سے سیاسی خلفشار میں اضافہ ہوا اور ملک میں اونچے درجے کا سیاسی عدم استحکام پایا جانے لگا جو ملک کی ترقی میں رکاوٹ بن رہا ہے، ہمارے سیاستدان جمہوریت کے راگ تو الاپتے ہیں مگر جمہوریت کے مفہوم سے شائد آگاہ نہیں کیونکہ یہاں سب کام غیر جمہوری طریقوں سے ہی ہو رہے ہیں اور خرابی یہیں سے جنم لیتی ہے اگر ایک دوسرے کے حق کو تسلیم کیا جائے یا کم ازکم اختلاف رائے کو ہی ایک دوسرے کا حق مان لیا جائے تو شائد ہم عدم استحکام سے باہر نکل آئیں جس نے ہمیں کئی دہائیوں سے گھیر رکھا ہے پاکستان کے موجودہ حالات اس بات کے متقاضی ہیں نہ ہماری سیاسی قیادت مل بیٹھے ملک کو درپیش بحرانوں کا حل نکالے سیاسی عدم استحکام کے خاتمہ کیلئے سنجیدگی اختیار کرے اور معیشت کی مضبوطی کیلئے حکومت کا ساتھ دے پاکستان کو درپیش مسائل اس قدر گھمبیر ہیں کہ اکیلی حکومت ان سے نبردآزما نہیں ہو سکتی اس کے لیے ملک میں سیاسی استحکام کی اشد ضرورت ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ اپوزیشن اپنی ہٹ دھرمی کو چھوڑ کر حکومت کے ساتھ بامقصد مذاکرات کو ترجیح دے تاکہ بیرون سرمایہ کار پاکستان کا رُخ کریں اور ہماری معیشت مضبوط ہو ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہو ملک میں امن ہو روزگار کے مواقع بڑھیں۔ ہماری برآمدات ایک بار عروج پر پہنچیں ہمارے ملک میں زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہو، ہم غیروں سے مالی مدد مانگنے کے بجائے خود اپنے پائوں پر کھڑے ہو سکیں ایسا اسی صورت ہی مکن ہے کہ ملک میں سیاسی استحکام ہو اس کیلئے تمام سیاسی قیادتوں کو قومی مفاد کو ترجیح دینا ہو گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں