40

سیاسی عدم استحکام کے باعث تاجر برادری میں گہری تشویش

اسلام آباد(بیوروچیف)ملک بھر میں 8 فروری کو عام انتخابات کے انعقاد کے بعد سیاسی صورتحال واضح نہ ہونے کے سبب تاجر برادری تشویش میں مبتلا ہے ، بہت سے لوگوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ وہ مزید سیاسی عدم استحکام اور معاشی بدحالی کا سامنا نہیں کرسکیں گے ۔ رپورٹ کے مطابق یہ صورتحال ایسے وقت میں پیدا ہورہی ہے جب یہ واضح ہے کہ آنے والی حکومت کو کہ عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی شرائط کے زیرِ اثر استحکام پیدا کرنے کی کوششوں میں کچھ مشکلات پیدا ہوسکتی ہیں۔سربراہ پاکستان بزنس کونسل (پی بی سی) احسان ملک نے کہا کہ میں نہیں سمجھتا کہ اقتدار کے لیے لڑنے والی جماعتوں میں سے کسی کو بھی اس دباؤ کا اندازہ ہے جس کا سامنا اُن اصلاحات کے نفاذ کے نتیجے میں کرنا پڑے گا جو کم از کم ایک دہائی قبل نافذ کردینی چاہئیں تھیں۔انہوں نے کہا کہ 24واں آئی ایم ایف پروگرام ناگزیر ہے اور اس پروگرام کے تحت اب ان اصلاحات پر بحث و مباحثے کی گنجائش باقی نہیں رہی ہے ۔احسان ملک نے کہا کہ آنے والی حکومت کو فوری طور پر ایک طویل، وسیع اور اصلاحات پر مرکوز آئی ایم ایف پروگرام پر بات چیت کرنی ہو گی، کسی بھی بڑی سیاسی جماعت نے اپنے منشور میں اس کو شامل نہیں کیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں