69

سیاسی قیادت کے متحد ہونے سے مسائل کا حل ممکن قرار (اداریہ)

ملک میں بڑھتے ہوئے سیاسی’ معاشی’ اقتصادی’ امن وامان کے مسائل اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ سیاسی قائدین ملک وقوم کی رہنمائی کیلئے اپنے اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے متحد ہو جائیں یہ وقت ہے کہ ہم مل کر ملک کو مشکلات سے نکالیں اگر سیاسی قائدین نے میں نہ مانوں والی روش جاری رکھی تو مسائل میں کمی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا بلکہ مسائل میں مزید اضافہ ہی ہوتا رہے گا آخر کسی نہ کسی کو یہ جمود توڑنا ہے حکومت اور اپوزیشن دونوں ملکر ملک کی ڈوبتی نائو کو پار لگا سکتی ہیں سیاسی اختلافات کوختم کر کے ملک وقوم کی خاطر ایک جان ہونے سے ملک میں جاری سیاسی عدم استحکام کا خاتمہ ممکن ہے ملک شدید سیاسی ومعاشی مشکلات کا شکار ہے اس کے ساتھ ساتھ ملک دشمن عناصر امن عمل کو سبوتاژ کرنے کیلئے میدان میں ہیں’ سی پیک منصوبوں کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے کیلئے ملک دشمن عناصر دن رات سازشوں میں مصروف ہیں’ بھارت اور بنگلہ دیش چین کا مقابلہ کرنے کیلئے متحرک ہیں دونوں ممالک نے اپنے دفاعی تعلقات کو مزید وسعت دیتے ہوئے سمندری’ سلامتی’ معیشت’ خلاء اور ٹیلی کمیونیکیشن کے شعبوں مین تعاون کو بڑھانے کیلئے متعدد معاہدوں پر دستخط کئے ہیں، بھارت نے سی پیک منصوبوں کی اہمیت کم کرنے کیلئے قبل ازیں ایران کے ساتھ ملکر سمندری تجارت کے حوالے سے چاہ بندر کو استعمال کرنے کا منصوبہ بنایا تھا جو بُری طرح ناکام ہوا اب بھارت بنگلہ دیش کے ساتھ دفاعی منصوبے بنا کر اپنی طاقت بڑھانے کے خواب دیکھ رہا ہے مگر اسے پھر بھی کامیابی نہیں حاصل ہو گی’ چین نے اقتصادی راہداری منصوبوں پر افواہوں اور سازشوں کی پرواہ نہیں کی اور یہ منصوبے تیزی سے تکمیل کی جانب بڑھ رہے ہیں سی پیک پر گزشتہ چند روز میں ہونے والی پیشرفت خوش آئند ہے بالخصوص ملکی ترقی کے اس منصوبے پر سیاسی قیادت کا ایک پیج پر نظر آنا اطمینان بخش اور پاکستان اور چین کے درمیان تعاون کی نئی اور جدید سوچ ہے’ چینی وزیر لیوجیان جائو کہتے ہیں کہ ترقی کے لیے اندرونی استحکام ضروری ہے سرمایہ کاری کیلئے سکیورٹی صورتحال کو بہتر بنانا ہو گا، پاکستانیوں کی سی پیک کی حمایت کو سراہتے ہیں پاکستان اور چین ترقی کی نئی راہوں پر گامزن ہیں ترقی دونوں ممالک کیلئے فائدہ مند ہو گی’ سی پیک کے اپ گریڈیشن کے حوالے سے بھی چینی قیادت پرعزم ہے اور سی پیک کے اس نئے ویژن جس میں 5نئی راہداروں کی تیاری شامل ہے مل کر کام کرنے کا اظہار کیا ہے پاکستان اور چین کے مابین تعلقات کو مضبوط بنانے کیلئے حکومت چین بھی سمجھتی ہے کہ پاکستان میں سیاسی جماعتوں کے اتحاد سے ہی گیم چینجر منصوبے کو سرعت کے ساتھ مکمل کرنے میں مدد مل سکتی ہے، ہماری سیاسی قیادت کو یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ سی پیک منصوبہ کی بدولت ہی ہم بیرونی قرضوں سے نجات حاصل کر سکیں گے کاش سیاستدان یہ سمجھ سکیں کہ چین کی خارجہ پالیسی میں پاکستان کو ایک خاص مقام حاصل ہے چین پاکستان کی اقتصادی ترقی کی حمایت جاری رکھنی چاہتا ہے لیکن کیا ہم سنجیدہ ہیں چین تو سی پیک کے اگلے مرحلے پر عملدرآمد کیلئے تیار ہے مگر اس کیلئے ضروری ہے کہ ہمارے سیاستدان بھی بھرپور طریقے سے اپنا مثبت کردار ادا کریں کیونکہ سیاسی قیادت کے متحد ہونے سے ہی ہمارے مسائل حل ہو سکتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں