سیاسی وعسکری قیادت دہشتگردی کے خاتمہ کیلئے پرعزم (اداریہ)

پاکستان سے دہشتگردی کے خاتمہ کیلئے اور ملک میں امن وامان کے قیام کیلئے سیاسی وعسکری قیادت پرعزم ہے دہشتگردی ایک ایسا ناسور ہے جس نے نہ صرف سینکڑوں جانیں نگل لیں بلکہ قومی معیشت’ سماجی ہم آہنگی اور ریاستی رٹ کو بھی شدید نقصان پہنچایا جس کے بعد پاکستان نے اس عفریت کے خلاف بھرپور حکمت عملی اپنائی قومی ایکشن پلان اسی عزم کا مظہر ہے جسے سیاسی وعسکری قیادت کے باہمی اشتراک سے تشکیل دیا گیا موجودہ دور میں وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں وفاقی حکومت اور پاک فوج کی اعلیٰ قیادت بالخصوص چیف آف آرمی سٹاف وچیف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر دہشت گردی کے خاتمے اور انتہاپسندی کے سدباب کیلئے ایک واضح دوٹوک اور نتیجہ خیز حکمت عملی پر عمل پیرا ہیں قومی ایکشن پلان 2014ء میں سانحہ اے پی ایس کے بعد پوری قوم کے اجتماعی ضمیر کی آواز تھا اس منصوبے کے 20نکات میں دہشت گرد تنظیموں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی’ نفرت انگیز تقاریر’ لٹریچر پر پابندی’ مدارس کی اصلاحات’ دہشت گردی کی مالی معاونت کا خاتمہ اور خیبرپختونخوا’ سابق فاٹا بلوچستان میں پائیدار امن کا قیام شامل تھا ماضی میں اس منصوبے پر عملدرآمد میں سستی اور کمزوریاں دیکھنے میں آئیں تاہم شہباز شریف کی موجودہ حکومت نے قومی ایکشن پلان کو ایک بار مؤثر انداز میں زندہ کیا ہے وزیراعظم کا موقف ہے کہ امن وامان کے بغیر معاشی ترقی’ سرمایہ کاری اور عوامی فلاح ممکن نہیں اسی سوچ کے تحت وفاقی اور صوبائی سطح پر قومی ایکشن پلان کے تمام نکات کا جائزہ لیا گیا نیشنل کائونٹر ٹیررازم اتھارٹی (نیکٹا) کو فعال بنایا گیا انٹیلی جنس اداروں کے درمیان رابطہ کاری کو مزید مضبوط بنایا گیا وزیراعظم کی زیرصدارت ہونیوالے اعلیٰ سطحی اجلاس اس کا ثبوت ہیں کہ داخلی سلامتی حکومت کی اولین ترجیح ہے دہشت گردی کے خلاف اس قومی جدوجہد میں عسکری قیادت کا کردار کلیدی حیثیت رکھتا ہے چیف آف آرمی سٹاف وچیف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے اپنی قیادت میں سکیورٹی اداروں کو واضح پیغام دیا کہ پاکستان میں دہشت گردی اور شدت پسندی اور ریاست مخالف سرگرمیوں کیلئے کوئی جگہ نہیں’ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اس بات پر بار ہا زور دے چکے ہیں کہ دہشت گردی کا خاتمہ صرف فوجی کارروائیوں سے ممکن نہیں بلکہ اس کیلئے ریاستی اداروں کی ہم آہنگی’ قانون کی عمل داری’ عوامی اعتماد ناگزیر ہے یہی وجہ ہے کہ فوج اور سول اداروں کے درمیان تعاون کو ایک نئے درجے تک لے جایا گیا ے جس کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں خصوصاً KP اور بلوچستان میں درپیش سکیورٹی چیلنجز کے تناظر میں پاک فوج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے مربوط اور جامع حکمت عملی اپنائی ہے، قومی ایکشن پلان کا ایک اہم اور بنیادی پہلو انتہاپسندانہ سوچ اور نظریات کا خاتمہ ہے شہباز شریف کی حکومت نے اس حوالے سے علماء ومشائخ مذہبی اسکالرز اور سماجی راہنمائوں کو اعتماد میں لیکر ایک ایسا قومی بیانیہ تشکیل دینے کی کوشش کی ہے جو کہ اسلام کے حقیقی’ پُرامن اور اعتدال پسند تشخص کو اجاگر کرتا ہے نفرت انگیز تقاریر اور مواد کے خلاف کارروائیاں تیز کی گئیں، سوشل میڈیا پر شدت پسندانہ پروپیگنڈے کی کڑی نگرانی کی جا رہی ہے اور نوجوانوں کو مثبت سرگرمیوں کی طرف راغب کرنے کیلئے تعلیمی وسماجی منصوبے متعارف کروائے گئے ہیں، شہباز شریف اس حقیقت سے بخوبی آگاہ ہیں کہ غربت’ بیروزگاری اور احساس محرومی انتہاپسندی کو فروغ دیتے ہیں اسی لئے ان کی حکومت نے معاشی بحالی’ روزگار کے مواقع اور پسماندہ علاقوں کی ترقی کو اپنی ترجیحات میں شامل کیا ہے سیاسی وعسکری قیادت کے درمیان مثالی ہم آہنگی سے ملک ترقی وخوشحالی کی منزل حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ ملک میں قیام امن یقینی بنانے اور غیر ملکی سرمایہ کاری کیلئے راہ ہموار ہو رہی ہے جو خوش آئند ہے سیاسی وعسکری قیادت ملک سے دہشت گردی کے مکمل خاتمہ کیلئے پُرعزم ہے انشاء اﷲ وہ دن دور نہیں جب پاکستان میں دہشتگردی کا اندھیرا ہمیشہ کیلئے ختم ہو گا ملک کو پُرامن بنانے کیلئے پوری قوم سیاسی وعسکری قیادت کے شانہ بشانہ ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں