سیف سٹی اور محفوظ پنجاب

قانون شہادت، گواہان، عدالتی ماحول، حلف نامہ اور اس میں مندرج اللہ کو حاضر ناظر جان کر جو کہوں گا سچ کہوں گا اور سچ کے سوا کچھ نہیں کہوں گا اگر میں جھوٹ بولوں یا کوئی بات چھپائوں تو مجھ پر اللہ کا غضب ہو یا اللہ مجھ سے ناراض ہو۔ دونوں صورتوں میں توبہ استغفراللہ۔ توبہ توبہ مجھ سے یہ گواہی نہیں دی جا سکتی ہے۔ مصلحت کا شکار ہونا ناممکن اور حق اور ناحق کے درمیان فرق واضح کرنا بنیادی ذمہ داری۔ انتہائی احتیاط کی ضرورت ہے۔ خیر یہ ہے ان لوگوں کا معاملہ جن کے ہاں حلف نامہ کی حساسیت کا شعوری احساس ہے۔ یہاں تھانہ کچہری کلچر ہے اور یہاں کے معاملات نرالے ہیں۔ گواہ اس طرح کے حلف اٹھانے میں جھٹ مارتے ہیں ایسے تو نہ قاتل چور اچکے بندے مارنے میں جھٹ مارتے ہیں اور ایسے گواہان صحیح سلامت گھر سے آتے ہیں اور حقائق کا تیا پانچہ کرکے بحفاظت گھر روانہ ہو جاتے ہیں۔ امکان ہے کہ چوری چھپے اپنے رب سے معافی مانگ لیتے ہوں تاہم منصف سوچ میں پڑجاتا ہے اور فائل کی لکھی تحریریں پڑھنے کی حتی المقدور کوشش کرتا ہے اور بالآخر سر پکڑ کر بیٹھ جاتا ہے اور یوں انصاف کا سارا نظام ہی زمین بوس ہوجاتا ہے جبکہ ملزم جملہ گواہان کی شہادت اور حالات وواقعات کی روشنی میں باعزت بری ہوجاتے ہیں۔ مقتول کی روح بارگاہ خداوندی میں پیش ہو چکی ہے اور قیامت برپا ہونے کی منتظر۔ انتظار کی گھڑیاں ٹک ٹک چل رہی ہیں۔ اس سارے منظر میں آجا کے اداروں کو دوش دیا جاسکتا ہے اور ادارے ایک دوسرے پر “مدعا” ڈال کر سرخرو ہونے کی ناکام کوشش کرتے ہیں اور بالآخر مٹی پاو تے چپ ہو جاو۔ آوے کا آوا بگڑا ہوا ہے۔ حل کیا ہے حل بتانے والے گہری سوچ میں گم بیٹھے ہیں اوران کو بھی سانپ سونگھ گیا ہے۔ ایک تو یہ سانپ ہمارے جوڑوں میں بیٹھ گیا ہے کبھی تو یہ آستین میں آکر بیٹھ جاتا ہے اور ہم بغیر سوچے سمجھے بغلیں بجانا شروع کر دیتے ہیں۔ حالانکہ ہم فقیر لوگوں کو اچھی طرح معلوم ہے کہ سانپ کا ڈسا پانی نہیں مانگتا اور ہمارے ہاں تو مانگنے والے بھی نہیں کنٹرول ہورہے ہیں۔ جو دے جائے اس کا بھی بھلا اور جو نہ دے جائے اس کی جیب کی خیر نہیں ہے۔ خیر اور شر باہم نبرد آزما ہیں اور ہم نے خیر کا ساتھ دے کر انصاف کا بول بالا کرنا ہے الحمدللہ انفرمیشن ٹیکنالوجی نے ہمارے زیادہ تر کام سیدھے کردیئے ہیں۔ متذکرہ بالا صورتحال پر کڑھنے، چیخنے اور چلانے کی قطعا ضرورت نہیں ہے۔ ارد گرد کے ماحول سے استفادہ کرنے کی ضرورت ہے۔ جرائم کے خاتمے کے لئے ترقی یافتہ ممالک نے کیا اقدامات کئے ہیں۔ گلوبلائزیشن کا دور ہے۔ نیٹ نے پوری دنیا کو سب کے سامنے کھول کر رکھ دیا ہے۔ اب آنکھیں کھول کر دیکھنے کی ضرورت ہے اور دماغ کی کھڑکیاں کھول کر سوچنے کی ضرورت ہے۔سب مسائل کا ایک ہی علاج۔ آئی ٹی، سوفٹویر، آٹومیشن اور انٹگریشن۔ محترم فاروق امجد بٹر ایک انتہائی متحرک اور سمجھدار پولیس افسر ہیں جب میں ڈپٹی کمشنر راجن پور تھا وہ ان دنوں وہاں ڈی پی او تھے اور کچے کے ڈاکوں کے لئے ٹھیک ٹھاک درد سر بنے رہے۔ ان میں اور مجھ میں ایک یہ بھی قدر مشترک ہے کہ ان کا اور میرا ایک ہی دن راجن پور سے تبادلہ ہوا تھا۔ ان کے توسط سے مجھے سیف سٹی کا ہیڈ کوارٹر دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ کمال کا اتفاق۔ ایک ہی بلڈنگ میں چوبیس اضلاع کے شہروں کی چلتی سڑکیں اور سڑکوں پر رونما ہونے والے واقعات اور ان واقعات کو کیمرے کی آنکھ میں مثل پتلی محفوظ کرنا۔ مزید یہ کہ اس ساری ریکارڈنگ کو عدالت ہائے میں قابل قبول شہادت کے طور پر تسلیم کرنا۔ تفتیش اور پراسیکیوش کی دنیا میں انقلاب اور حقیقی معنوں میں انقلاب۔ نعروں میں انقلاب تو آتے بارہا دیکھا ہے درحقیقت اس کو انقلاب کہتے ہیں۔ گواہوں کو ایسی دستاویزی شہادت کا جب معلوم ہو جائیگا تو ان کی ہوش بھی مکمل طور پر ٹھکانے آجائیں گی۔ ان کی اخلاقی جرات جوش میں آجائیگی اور غیرت ہوش کے ناخن لے کر عدالت کے کٹہرے میں پہنچے گی اور سچ سر چڑھ کر بولے گا اور منصف شاہد اور مشہود سب دنیا اور آخرت کی عدالت میں سرخرو ہو جائینگے۔ یوں انصاف کے راستے میں حائل سارے کانٹے توبہ استغفار پڑھنا شروع ہو جائیں گے۔ جھوٹ اور مکروفریب کو انفرمیشن ٹیکنالوجی کے سامنے سرنڈر کرنا ہوگا۔ سیف سٹی کے سربراہ احسن یونس سے پرانی یاد اللہ ہے۔ بہت پہلے وہ ڈی پی او ٹوبہ ٹیک سنگھ تھے اور ان کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کی بدولت آج تک وہاں کے لوگ ان کو یاد کرتے ہیں۔ ان سے ملاقات ہوئی۔ سیف سٹی کا ادارہ 2016 میں معرض وجود میں آیا۔ دوران گفتگو سیف سٹی کی ساری پرتیں ایک ایک کر کے ہمارے سامنے کھل گئیں۔ وہ دن دور نہیں جب سارا پنجاب جام جم کی طرح ایک ہی کمرے میں بیٹھ کر دیکھا جائیگا۔ ہمارے معاشرے میں عورتوں کے بے شمار مسائل ہیں اور پھر ان سے متعلقہ جرائم۔ وومن سیفٹی ایپ کا افتتاح محترمہ مریم نواز شریف وزیراعلیٰ پنجاب نے کردیا ہے۔ حوا کی بیٹی کی بھی سنی گئی ہے اس سلسلے میں بھی ڈیجیٹل نظام انکوائری اور تفتیش۔ وہاں ایک ایسے شخص سے بھی ملاقات ہوئی جس کی بچی گم ہوگئی تھی اور اس نے سسٹم کی مدد سے اپنی بچی کو ٹریس کرلیا۔ گذشتہ ڈیڑھ سال میں سات لاکھ سے زیادہ عورتوں کے مسائل کی بابت درخواستیں اور اس پر نوے فیصد سے زائد حل۔ زیادہ تر درخواستیں گھریلو مسائل کی وجہ سے دی گئیں جس میں میاں بیوی کے تنازعات پائے گئے۔ بروقت کارروائی کی بدولت بڑے بڑے جرائم ہونے سے بچ گئے۔کاروکاری اور عزت کے نام پر ہونے والے قتل پیشگی وقوعہ اقدامات سے ہی روکے جا سکتے ہیں۔ بچے گم ہونے کا درد والدین ہی جانتے ہیں۔ سسٹم کے تحت ایسے بچے ٹریس کرنے کا بھی مربوط نظام۔ ایک دو نہیں لاکھوں بچوں کا سراغ لگایا گیا ہے یہاں تک کہ اکیس سال قبل گم ہونے والی بچی کو اس کے والدین کے پاس پہنچا دیا گیا ہے۔ چائلڈ پروٹیکشن ہم سب کی ذمہ داری۔ سیف سٹی میں تعلیمی اداروں کو کسی بھی حادثہ سے محفوظ بنانے کے لئے ایک نیا پروگرام مرتب کیا جا رہا ہے۔ گٹروں کے ڈھکنوں کو بھی سیف سٹی سسٹم سے یقینی بنایا جائیگا۔ اور اس طرح کے بے شمار پروگرام جو کہ سیف سٹی ادارہ شروع کرنے جا رہا ہے۔ ہمارے سارے مسائل کا ایک ہی حل۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے تحت وضع کئے گئے پروگرام۔ گذشتہ دنوں پنجاب کابینہ کے ایک اجلاس میں مزید نئے آئی ٹی پروگرامز کی منظوری دی گئی ہے پنجاب میں ڈیجیٹل انقلاب۔ راولپنڈی میں دوسرا آئی ٹی سٹی بنے گا۔وزیر اعلیٰ پنجاب نے صوبہ میں صحیح معنوں میں انقلاب لانے کے لئے عملی طور پر اقدامات کئے ہیں اور ان کے سارے ترقیاتی اور سوشل ویلفیئر کے کاموں میں ایپ کا استعمال کیا گیا ہے۔ تاکہ کرپشن کا خاتمہ اور میرٹ کو یقینی بنایا جا سکے۔ہر قسم کے جرائم سے پاک پنجاب ہی وقت کی اہم ضرورت ہے ۔ سرسبزوشاداب اور لہلاتا پنجاب۔ روشن پنجاب اور مسکراتا پنجاب۔ ہر لحاظ سے آگے بڑھتا پنجاب۔ زندہ وتابندہ پنجاب۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں