سیلاب سے تباہی کی نئی داستان رقم

لاہور(بیوروچیف) چناب، راوی اور ستلج نے تباہی کی نئی داستانیں رقم کردیں،،سیلابی پانی میں ڈوب کر اموات کی تعداد 41ہو گئی۔پی ڈی ایم اے کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق پنجاب میں سیلابی صورتحال سے 3ہزار 129دیہات متاثر ہوئے، ریلوں نے 24لاکھ 8ہزار آبادی کو متاثر کیا، مختلف مقامات پر 390فلڈ ریلیف اور 389میڈیکل کیمپس قائم کر دیئے گئے، ہزاروں متاثرہ خاندانوں کو پناہ فراہم کی گئی۔ متاثرہ علاقوں سے بڑے پیمانے پر انخلا، 9لاکھ 32ہزار 323افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا، 6لاکھ 48ہزار 62مویشیوں کو سیلاب متاثرہ علاقوں سے نکالا گیا، چناب نے سب سے زیادہ 1ہزار 578 دیہات کو متاثر کیا۔پی ڈی ایم اے کے جاری اعداد و شمار میں بتایا گیا کہ راوی کے سیلاب سے 1ہزار 33اور ستلج کے 518مواضع متاثر ہوئے۔دریں ثناء ۔لاہور (بیوروچیف) پنجاب میں سیلاب ہزاروں دیہات اور فارمز بہا لے گیا۔اب یہ تباہی پاکستان کی معیشت کے لیے خطرہ بن گئی ہے۔ پنجاب کے سیلاب میں 2ہزار گائوں ڈوب گئے، 20لاکھ افراد متاثر ہوئے۔ سیلابی متاثرین کے لیے اب سینکڑوں کی تعداد میں کیچڑ بھرے خیمے ہی گھر بن گئے ہیں۔ 1988کے بعد کے بدترین سیلابوں میں روزگار تباہ ہو گئے۔ تباہ شدہ فصلیں غذائی سلامتی کو خطرے میں ڈال رہی ہیں اور مہنگائی کو بڑھا رہی ہیں۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان کے زرخیز میدانی علاقے پنجاب میں، گزشتہ کئی دہائیوں کے بدترین سیلاب کے بعد گھر، فصلیں اور مویشی بہہ جانے کے بعد خاندان اپنی زندگیوں کو دوبارہ سے سنوارنے کی جدوجہد کر رہے ہیں۔ صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کا کہنا ہے کہ 20لاکھ سے زائد افراد متاثر ہوئے ہیں، جبکہ 2ہزار سے زائد دیہات زیر آب آ گئے ہیں۔ تقریباً 7لاکھ 60ہزار افراد اور 5لاکھ 16 ہزار جانوروں کو محفوظ مقامات پر منتقل کردیا گیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں