سیلاب متاثرین کیلئے موثر اقدامات کی ضرورت ہے

فیصل آباد ( سٹاف رپورٹر) سا بق وفاقی پارلیمانی سیکرٹری اور سینئر سیاستدان رانا زاہد توصیف نے کہا ہے کہ سیلاب متاثرین کی بحالی کیلئے ہنگامی بنیاد پر مؤثر اقدامات کی ضرورت ہے، ہر سال بدترین سیلاب سے تباہ کاریاں آتی ہیں مگر کسی حکومت نے مستقل بنیاد پر حکمت عملی طے نہیں کی ضروری ہے کہ سیلابی پانی سٹور کرنے کیلئے آبی ذخائر تعمیر کئے جا ئیں امریکہ میں ہر کلو میٹر کے فاصلہ پر تالاب بنائے گئے ہیں اور یہی جھیل کا پانی زراعت اور پینے کیلئے استعمال میں لایا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس مرتبہ مونجی کی فضل کاشت نہ کرنے کی ہدایت کی گئی وجہ یہ بتائی گئی کہ نہروں میں پانی نہ ہے۔ اور سیلاب کے باعث نہروں میں ریت اور مٹی وغیرہ آ جائے گی لہٰذا ضروری ہے کہ آئندہ سال سیلاب کی تباہ کاریوں سے بچاؤ کے لئے تمام صوبوں میں نہریں بنائی جائیں اس ضمن میں ہر صوبائی حکومت کو برابری کی بنیاد پر فنڈز جاری کئے جائیں ،چاروں صوبائی حکومتیں وفاقی حکومت سے مل کر حتمی فیصلہ کریں کہ اگلے سال سیلاب سے بچاؤ کے لئے کیا لائحہ عمل طے کرنا ہے۔ رانا زاہد توصیف نے مزید کہا کہ اگر ہم ہر دریا کے آگے 50نہریں بنا دیتے ہیں تو کروڑوں کیوسک پانی سٹاک ہو گا جو پورا سال ختم نہ ہوگا اس اقدام سے ریگستان بھی آباد ہوں گے اگر ہم زمین کی کھدائی کر کے نہریں بناتے ہیں تو مختلف علاقوںسے ہوتا ہوا پانی سمندر میں جائے گا۔ اس طرح ہم سیلاب سے ہونے والے جانی و مالی نقصانات سے محفوظ رہ سکتے ہیں آخر میں انہوں نے کہا کہ اربوں کے فضول اور بے کار منصوبوں پر رقم خرچ کرنے کی بجائے اگر ہم آبی ذخائر اور نہریں بنا دیتے ہیں تو اس سے قیمتی جانیں ضائع ہونے سے بچ جائیں گی نیز فصلوں اور مویشیوں کا بھی نقصان نہیں ہو گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں