سیلاب کی صورتحال سنگین’ملتان اور قریبی اضلاع کو شدید خطرہ

ملتان (بیوروچیف) ملتان سمیت پنجاب کے جنوبی اضلاع دریائے چناب کے بڑھتے ہوئے پانی کی وجہ سے شدید سیلاب کے خطرے سے دوچار ہیں، اور حکام شہری علاقوں کو ڈوبنے سے بچانے کے لیے شیر شاہ بند میں شگاف ڈالنے کی تیاری کر رہے ہیں۔رپورٹ کے مطابق حکام کا کہنا تھا کہ اگلے 48 گھنٹوں میں سیلابی ریلہ ملتان کی طرف بڑھے گا، جس سے شہر کے لیے صورتحال نہایت سنگین ہو جائے گی جو پہلے ہی سیلاب کے خطرے سے دوچار ہے۔اس پس منظر میں، یہ ظاہر ہوتا تھا کہ ملتان کی جانب سے تریموں ہیڈ ورکس سے آنے والے بڑے ریلے کے پیشِ نظر بند میں شگاف ڈالنے کا فیصلہ پہلے ہی کر لیا گیا تھا۔ملتان کے ایم این اے اور سابق وزیرِاعظم یوسف رضا گیلانی نے ایک فیس بک پوسٹ میں بند کے ساتھ آباد بستیوں میں رہنے والوں سے فوری طور پر محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ پانی کو شیر شاہ، گگرا کچور، موضع ہمر اور دیگر قریبی علاقوں کی طرف موڑا جائے گا تاکہ سیلابی دبا کو توڑا جا سکے اور مزید نقصان سے بچا جاسکے۔گزشتہ روز جلال پور پیروالا میں داخل ہونے والے سیلابی پانی نے ضلع کی مزید بستیوں کو ڈبو دیا، جن میں علی پور تحصیل بھی شامل ہے، دریائے چناب کا پانی دریائے سندھ میں گرنے سے رکنے کی وجہ سے پانی نے پنجند کے اوپر کی سمت بہنا شروع کر دیا۔پانی سب سے پہلے پنجند ہیڈ ورکس کے ڈان اسٹریم علاقوں مکھن بیلا، عظمت پور، بیٹ ملانوالی، بیٹ نبی شاہ، پکا نیچ، بذوالا، لٹی مری، بیٹ براہا، کندرالا، اور بیٹ چھنہ میں داخل ہوا، اور بعد میں اپ اسٹریم علاقوں غلواں-1 اور دمر والا جنوبی کو بھی ڈبو دیا۔ حکام نے ہزاروں لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا۔وزیرِاعظم شہباز شریف نے منصوبہ بندی کے وزیر احسن اقبال کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دی ہے، جو دو ہفتوں کے اندر جاری سیلاب کے نقصانات اور ضروریات کی رپورٹ مکمل کرے گی۔ملتان میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل عرفان علی کاٹھیا نے کہا کہ جلالپور پیروالا اب بھی سیلاب کے خطرے سے دوچار ہے، پہلا سیلابی ریلہ آہستہ آہستہ نکل رہا ہے لیکن پانی اتر نہیں رہا، جب کہ ہیڈ تریموں سے آنے والا ایک اور ریلا ملتان کی جانب بڑھ رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ اگلے 24 گھنٹوں میں ہیڈ محمد والا اور شیر شاہ بند پر دبا بڑھے گا، اب تک سیلاب سے پنجاب بھر میں 63 افراد جان سے جا چکے ہیں اور ریسکیو کشتیوں نے ملتان میں 27 ہزار سے زائد بار سفر کرکے لوگوں کو ریسکیو کیا ہے، 26 اضلاع کی 4 ہزار 300 بستیاں راوی، ستلج اور چناب کے سیلاب سے متاثر ہوئیں۔کمشنر ملتان عامر کریم خان نے بتایا کہ جلال پور پیروالا سے 4 ہزار افراد کو نکال کر محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے۔پنجاب ریلیف کمشنر نبیل جاوید نے کہا کہ مشرقی دریاں کے سیلاب سے 41 لاکھ 99 ہزار افراد 4300 بستیوں میں متاثر ہوئے ہیں۔ ان کے مطابق 2.147 ملین افراد، جو سیلاب میں پھنسے ہوئے تھے، کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا اور 412 ریلیف کیمپس اور 492 میڈیکل کیمپس قائم کیے گئے۔کمشنر نے مختلف ڈیموں کی صورتحال بھی بتائی، جن میں منگلا ڈیم 88 فیصد، تربیلا ڈیم 100 فیصد بھرا ہوا ہے، بھارت میں دریائے ستلج پر بھاکڑا ڈیم 90 فیصد، پونگ ڈیم 99 فیصد اور تھیئن ڈیم 97 فیصد بھرا ہوا ہے۔5 لاکھ 24 ہزار کیوسک سے زائد پانی پنجند سے گزر رہا تھا، مگر پانی اپ اسٹریم کی طرف جا رہا تھا، گزشتہ شب ساڑھے 12 بجے تک پنجند میں 6 لاکھ 9 ہزار 664 کیوسک کا بہا ریکارڈ کیا گیا، جو پیر کی شام ساڑھے 3 بجے تک کم ہو کر 5 لاکھ 24 ہزار کیوسک رہ گیا۔چناب بھی بالکل اسی طرح راوی کے پانی کو واپس دھکیل رہا ہے، یہ وہی مظہر ہے جس نے ماضی میں راوی پر سدھنائی بیراج پر خطرناک دبا میں اضافہ کیا تھا۔گزشتہ چند دنوں سے بہا ایک لاکھ 35 ہزار کیوسک سے زیادہ خطرناک حد تک مستحکم رہا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں