سینیٹ میں2کروڑ82لاکھ کی بے ضابطگیوں کا انکشاف

اسلام آباد (بیوروچیف) سینیٹ میں مہمانوں کیلئے کھانے پینے کے سامان کی خریداری میں پیپرا قوانین کی خلاف ورزی کا انکشاف ہوا ہے۔ ملک کے سب سے بڑے پارلیمانی فورم سینیٹ آف پاکستان کی جانب سے بھی سرکاری خریداری میں پیپرا قوانین کی خلاف ورزی سامنے آئی ہے،آڈیٹرجنرل نے سال 2020ء سے 2024ء کے دوران 2کروڑ 82لاکھ روپے مالیت کی بے ضابطگیوں کا پردہ چاک کر دیا،رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مختلف فوڈ، کیٹرنگ اور ایونٹ مینجمنٹ کمپنیوں سے کھانے پینے سمیت دیگر سامان کی خریداری میں پیپرا قوانین کو نظرانداز کیا گیا۔رپورٹ کے مطابق سینیٹ سیکرٹریٹ انتظامیہ کا موقف ہے کہ ساری خریداری چیئرمین سینیٹ کی ہدایت پر کی گئی۔ ارکان پارلیمنٹ، ملکی و غیر ملکی وفود اور سفیروں سمیت دیگر مہمانوں کیلئے ظہرانے اور عشائیے کا ہنگامی اہتمام کرنا پڑتا ہے، ایسے حالات میں متعلقہ وینڈرز مال فوری اور ادھار پر سپلائی کر دیتے ہیں۔ صرف خوراک، مشروبات ہی نہیں سینیٹ سیکرٹریٹ کیلئے الیکٹرک سامان کی خریداری بھی اسی طریقہ کار کے تحت کی جاتی ہے ۔ آڈیٹرجنرل آف پاکستان نے ہنگامی بنیادوں پر خوراک کی ادھار خریداری کا موقف یکسر مسترد کر دیا۔ پیپرا رولز اور پری کوالیفکیشن کا عمل مکمل کیے بغیر خریداری خلاف ضابطہ اور غیر شفاف قرار۔ آڈٹ رپورٹ میں سینیٹ سیکرٹریٹ کو ہدایت کی گئی ہے کہ سرکاری خریداری میں پیپرا قوانین پر عمل درآمد یقینی بنانے کے ساتھ بے قاعدگی کا ازالہ بھی کیا جائے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں