18

سی پیک منصوبوں میں بڑی سرمایہ کاری یقینی (اداریہ)

گیلپ پاکستان کی ایک نئی تجزیاتی رپورٹ جو پاکستان چائنہ جوائنٹ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے ممبر شپ ڈیٹا پر مبنی ہے ظاہر کرتی ہے کہ پاکستان میں چین کی معاشی موجودگی تیزی سے بدل رہی ہے جس میں تجارت’ آئی ٹی سروسز اور چھوٹے پیمانے کی مینوفیکچرنگ کا کردار نمایاں ہو گیا ہے، یہ تاثر کہ پاکستان میں چین کی موجودگی زیادہ تر سرکاری تعاون سے بننے والے انفراسٹرکچر منصوبوں جیسے شاہراہیں، بجلی گھر اور گوادر پورٹ پر مشتمل ہے کے برعکس تازہ اعداد وشمار ایک مختلف اور زیادہ متنوع تصویر پیش کرتے ہیں، رپورٹ کے مطابق سی پیک کے بڑے منصوبوں سے ہٹ کر اب ملک بھر میں 2000 سے زائد چینی نجی کمپنیاں سرگرم ہیں بلال گیلانی کے مطابق کارپوریٹ ڈیٹا ایک نئی حقیقت کی نشاندہی کرتا ہے جب ہم پاکستان میں چین کی معاشی موجودگی کے بارے میں سوچتے ہیں تو ذہن فوری میگا انفراسٹرکچر منصوبوں کی طرف جاتا ہے لیکن کمپنیوں کی رجسٹریشن کا جائزہ ایک بالکل مختلف اور زیادہ دلچسپ ہے ڈیٹا سے واضح ہوتا ہے کہ چین کی چھوٹی اور درمیانے درجے کی متعدد کمپنیاں حکومتی سطح کے فریم ورک سے ہٹ کر خودمختار طور پر پاکستان آ رہی ہیں ان میں تجارتی ادارے’ سولر اور مشینری سپلائرز’ چھوٹے مینوفیکچررز’ انجنیئرنگ ورکشاپس’ آئی ٹی سپورٹ فراہم کرنے والی فرمیں کنسلٹنٹی سروسز’ امپورٹ ایکسپورٹ کمپنیاں اور مائلنگ ایکسپلوریشن یونٹس شامل ہیں، تجزئیے کے مطابق تقریباً 49فیصد چینی کمپنیاں اسلام آباد میں رجسٹرڈ جس کی بڑی وجہ وفاقی ریگولیٹرز’ وزارتوں اور سی پیک سے متعلق اداروں کی قربت ہے، شعبہ جاتی تقسیم پاکستان چین اقتصادی تعلقات کے بدلتے رجحان کو مزید واضح کرتی ہے تجارت اور امپورٹ ایکسپورٹ کا شعبہ تمام چینی کمپنیوں میں 28فیصد پر مشتمل ہے جبکہ تعمیرات اور انجینئرنگ کا شعبہ اپنی اہمیت رکھتا ہے مگر اس کا مرکزی کردارنہیں رہا۔ اگرچہ توانائی کے منصوبے عوامی مباحثے میں نمایاں رہتے ہیں مگر اب چین کی سرمایہ کاری کا محور نہیں رہے، ان کی جگہ آئی ٹی’ مائننگ’ سرامکس’ سروسز اور مخصوص صنعتی شعبوں میں سرگرمیوں کا بڑھتا ہوا سلسلہ لے رہا ہے،’ سی پیک منصوبوں میں بڑی سرمایہ کاری کیلئے 2000 چینی نجی کمپنیوں کی طرف سے سرگرم ہونا خوش آئند ہے گیلپ پاکستان کی تجزیاتی رپورٹ جو اس نے پاکستان چائنہ جوائنٹ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے ممبر شپ ڈیٹا سے حاصل کی اور ظاہر کرتی ہے کہ پاکستان میں چین کی معاشی موجودگی تیزی سے بدل رہی ہے اور پاکستان میں مختلف شعبوں میں بڑی سرمایہ کاری یقینی ہو گئی ہے کیونکہ دو ہزار چینی نجی کمپنیوں کی طرف سے تجارت’ آئی ٹی سروسز’ چھوٹے پیمانے پر مینوفیکچرنگ’ امپورٹ ایکسپورٹ’ انجینئرنگ ورکشاپس’ مائننگ کے شعبوں میں سرمایہ کاری کی راہ ہموار ہو گئی ہے جو پاکستان کی ترقی وخوشحالی کیلئے اہم کردار ادا کرے گی، اقتصادی راہداری منصوبے کے علاوہ ملک میں بڑی تعداد میں چینی نجی کمپنیز کا سرگرم ہونا پاکستان کیلئے ایک اعزاز ہے جس سے ظاہر ہو رہا ہے کہ نجی چینی کمپنیاں خود مختار طریقہ سے سرمایہ کاری کیلئے تیار ہیں، بلاشبہ چین کا پاکستان کی ترقی وتعمیر کیلئے بڑا کردار ہے دونوں ملکوں کی لازوال دوستی نے ثابت کر دیا ہے کہ ان کے درمیان کوئی بھی دراڑ نہیں ڈال سکتا اﷲ کرے پاکستان میں اقتصادی راہداری منصوبہ جو گیم چینجر کی حیثیت رکھتا ہے وہ جلد مکمل ہوتا کہ اس سے چین پاکستان اور خطے کے دوسرے ممالک بھی اس منصوبے سے استفادہ حاصل کر سکیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں