52

سی پیک کا اہم منصوبہ گوادر ائیرپورٹ مکمل فعال (اداریہ)

پاکستان اور چین کی لازوال دوستی کا شاہکار’ نیو گوادر انٹرنیشنل ائیرپورٹ مکمل فعال ہو گیا، کراچی سے پی آئی اے کی پہلی کمرشل پرواز پی کے 503 گوادر ائیرپورٹ پر لینڈ کر گئی’ افتتاحی پرواز کا رن وے پر وائر بائوزر سیلوٹ کے ساتھ شاندار استقبال کیا گیا وزیر دفاع ہوا بازی خواجہ محمد آصف’ گورنر شیخ جعفر خان مندوخیل اور وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی اور اعلیٰ حکام نے مسافروں کا استقبال کیا اور انہیں پھول پیش کئے کراچی سے پہلی کمرشل پرواز 46مسافروں کو لیکر گوادر انٹرنیشنل ائیرپورٹ پہنچی جس نے صبح 9 بجکر 50منٹ پر کراچی سے اڑان بھری اور گیارہ بجکر 15منٹ پر گوادر میں لینڈ کیا نیوگوادر انٹرنیشنل ائیرپورٹ کا 3.6کلومیٹر طویل رن وے بڑے طیاروں کیلئے موزوں ہے جس پر ائیربس اور بوٹنگ طیارے لینڈ کر سکیں گے 430 ایکڑ پر مشتمل گوادر ائیرپورٹ رقبے کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا ائیرپورٹ ہے یہ سی پیک کا فلیگ شپ منصوبہ ہے ائیرپورٹ پر جدید سکیورٹی اور مسافروں کو سہولتیں دستیاب ہونگی، گوادر کو وسطی ومشرقی ایشیا اور مشرقی وسطی وخلیجی ممالک کے درمیان ایک اہم رابطہ بنانے کے لیے ایک اور سنگ میل عبور کر لیا گیا ہے گوادر ائیرپورٹ کے قیام سے یہاں پر تجارتی سرگرمیوں میں اضافہ ہو گا ائیرپورٹ کے فعال ہونے سے یہاں پر رہائشی کالونیوں کاروباری مراکز اور بڑی بڑی غیر ملکی تجارتی کمپنیوں کے دفاتر قائم ہوں گے جو دنیا بھر سے تجارتی روابط بڑھائینگے،’ سی پیک منصوبہ کے تحت نیو گوادر انٹرنیشنل ائیرپورٹ فعال ہونا خوشی کا مقام ہے ائیرپورٹ کے مکمل فعال ہونے سے فضائی راستے سے صوبہ بلوچستان میں تجارتی سرگرمیوں میں اضافہ کے ساتھ ساتھ یہاں پر روزگار کے بے شمار مواقع پیدا ہوں گے سرمایہ کاری میں اضافہ ہو گا بلوچستان اور پورے پاکستان کیلئے اقتصادی ترقی اور خوشحالی میسر ہو گی نیا انفراسٹرکچر تجارت اور سیاحت کو بڑھانے میں معاون ثابت ہو گا مقامی کاروبار کو فروغ ملے گا علاقہ کے رہائشیوں کا معیار زندگی بہتر ہو گا نیو گوادر انٹرنیشنل ائیرپورٹ کا پائیہ تکمیل پہنچنے اور مکمل فعال ہونے پر قوم میں خوشی کی لہر پائی جاتی ہے کیونکہ بلوچستان کا علاقہ گوادر ایک معاشی حب کے طور پر ابھر رہا ہے منصوبے کو قلیل مدت میں مکمل کیا گیا جو چین اور پاکستان کی دوستی کی عظیم مثال ہے گوادر ائیرپورٹ کا فعال ہونا خطے میں مواصلاتی روابط کے فروغ کی طرف ایک اہم قدم ہے گوادر ائیرپورٹ سی پیک سے پاکستان اور خطے کی ترقی کے خواب کو شرمندہ تعمیر کرے گا سی پیک منصوبہ سابق وزیراعظم نواز شریف کے دور میں شروع ہوا اور تیزی سے اپنا سفر طے کر رہا ہے نیو گوادر انٹرنیشنل ائیرپورٹ کے مکمل فعال ہونے سے اس عظیم گیم چینجر منصوبہ کی تکمیل انشاء اﷲ وقت مقررہ 2030ء تک ہو گی اور پاکستان عالمی تجارت کا مرکز بنے گا، جب پاک چین اشتراک سے سی پیک کے منصوبہ کا اعلان کیا جانا تھا اس وقت پاکستان میں پی ٹی آئی کے دھرنے کے باعث چین کے صدر کا دورہ ملتوی کرنا پڑا تھا تاہم بعد میں چین کے صدر نے پاکستان کا سرکاری دورہ کیا اور گیم چینجر عظیم منصوبے کا اعلان کیا اس کیلئے خطیر رقم کا اعلان کیا منصوبے میں اتنی بھاری سرمایہ کاری کے اعلان پر دنیا بھر میں ہلچل مچ گئی تھی پاکستان کے ہمسایہ ملک بھارت کی سیاسی قیادت تو سر پکڑ کر بیٹھ گئی تھی اور اس منصوبہ کے خلاف سازشیں شروع کر دیں بھارت نے گیم چینجر منصوبہ میں رکاوٹیں ڈالنے کیلئے بڑی کوششیں کیں مگر اﷲ تعالیٰ کے فضل وکرم سے پاک چین اقتصادی راہداری منصوبہ آگے بڑھتا رہا اس منصوبہ کے مکمل ہونے سے پاکستان ترقی وخوشحالی کی منزلیں حاصل کر لے گا سی پیک کے آغاز پر پاکستان نے اس منصوبہ میں متعدد ممالک کو شمولیت کی دعوت دی تھی جن ممالک کو اس منصوبہ کی افادیت کا علم ہے انہوں نے شمولیت اختیار کی اور منصوبہ سے جیلس ممالک نے انکار کیا اب جبکہ منصوبہ کے خدوخال سامنے آ رہے ہیں اور مقررہ مدت 2030ء تک یہ منصوبہ مکمل ہو کر سامنے آئے گا تو مخالفین اور منصوبہ میں شامل نہ ہونیوالے ممالک ہاتھ ملتے رہ جائیں گے کہ انہوں نے اس موقع کو ہاتھ سے کیوں جانے دیا: سی پیک منصوبہ کے تحت نیو گوادر انٹرنیشنل ائیرپورٹ فعال ہو چکا پروازوں کی آمدورفت کا آغاز ہو چکا وہ وقت دور نہیں جب اس ائیرپورٹ پر انٹرنیشنل کمرشل پروازیں لینڈ کریں گی اور روانہ ہونگی اس حوالے سے چین نے پاکستان کے ساتھ اپنی دوستی کی ایک اور عظیم مثال پیش کر دی ہے جس پر پوری قوم کو ناز ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں