58

سی پیک کو افغانستان تک توسیع دینے پر اتفاق (اداریہ)

چین نے کہا ہے کہ پاک بھارت کشیدگی کے باوجود سی پیک کے تمام منصوبے جاری رہیں گے، سی پیک پاکستان کے لوگوں کے لیے معاشی لائف لائن ہے چین پاکستانی عوام کی ترقی اور فلاح وبہبود کے ہر منصوبے کو مکمل کرنے کا خواہاں ہے چینی سفارتی ذرائع کے مطابق چین پاکستان اور بھارت میں جنگ نہیں چاہتا چینی اعلیٰ حکام دونوں ملکوں کی قیادت سے رابطے میں ہے اور خطے کو عدم استحکام سے بچانے کیلئے ریجنل ڈائیلاگ پر توجہ مرکوز کئے ہوئے ہیں چینی سفارتی ذرئع نے بتایا کہ ان کا ملک ماضی کی طرح خطے میں امن کے قیام کیلئے اور طاقت کے توازن کو برقرار رکھنے کیلئے مستقبل میں بھی پاکستان کی سفارتی واخلاقی حمایت کے علاوہ اسٹریٹجک اور دفاعی ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ کے منصوبوں میں تعاون جاری رکھے گا، چینی کمیونسٹ پارٹی کی مرکزی کمیٹی کے بین الاقوامی محکمہ کے وزیر لیوجیان چائو نے پاکستان کے نائب وزیراعظم ووزیر خارجہ اسحاق ڈار سے ملاقات میں دوطرفہ تعلقات علاقائی صورتحال’ اقتصادی تعاون اور عالمی سطح پر اشتراک عمل جیسے اہم موضوعات پر تفصیلی بات چیت کی لیوجیان چائو نے کہا کہ چین اور پاکستان ہمہ موسمی اسٹریٹجک شراکت دار ہیں اور چین ہمیشہ اپنی خارجہ پالیسی میں اولین ترجیح دیتا ہے انہوں نے کہا کہ چین بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو کے تحت باہمی تعاون کو نئی جہت دے گا بالخصوص چین پاکستان اقتصادی راہداری (CPEC) کو ایک جدید اور توسیع شدہ شکل دینے کیلئے اقدامات کرے گا لیو نے مزید کہا کہ چین پاکستان کی خود مختاری اور علاقائی سالمیت کے دفاع’ دہشت گردی کے خلاف جنگ اور علاقائی امن واستحکام کے فروغ میں بھرپور تعاون جاری رکھے گا، ڈپٹی وزیراعظم اسحاق ڈار نے چین کے وزیر خارجہ وانگ ای سے ملاقات کی اور دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید بلندیوں پر پہنچانے کی خواہش کا اظہار کیا فریقین نے سی پیک کو خطے میں روابط اور معاشی ترقی کیلئے کلیدی قرار دیتے ہوئے اس کے دوسرے مرحلے میں ہونے والی پیشرفت پر اطمینان ظاہر کیا ساتھ ہی تیسرے فریق کی شمولیت کے ذریعے سی پیک میں تعاون کے نئے مواقع کو خوش آئند قرار دیا، گزشتہ دنوں وزیراعظم شہباز شریف نے سینئر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ بیجنگ اجلاس میں سی پیک کو افغانستان تک توسیع دینے پر اتفاق ہو گیا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ سی پیک میں افغانستان مکمل تعاون کیلئے تیار ہے اور یہ بہت ہی خوشی کا مقام ہے کہ پاکستان کا اہم ہمسایہ ملک افغانستان بھی اقتصادی راہداری میں شراکت دار بن رہا ہے اس اقدام سے خود افغانستان کو بے پناہ ترقی کے مواقع ملیں گے اور اس کی معیشت مضبوط ترین معیشت بن کر ابھرے گی ضرورت اس امر کی ہے کہ سی پیک منصوبوں کو جلد سے جلد پائیہ تکمیل تک پہنچایا جائے تاکہ اس گیم چینجر منصوبے کے ثمرات پاکستان اور اس منصوبے میں شامل ممالک کو حاصل ہو سکیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں