شجر کاری…… صدقہ جاریہ

کرہ ارض پردریا ، پیڑ ، سمندر ، جھیلیں ، پھل ، سبزیاں اور کئی قدرتی مناظر ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے دیئے گئے انعامات میں موسم قدرت کابہترین مظہر اور قدرت کا انمول عطیہ ہیں۔ اگر ہمیشہ ایک طرح کا ہی موسم رہتا تو یہ فطری بات ہے کہ ا نسان اکتا جاتا اور اپنے امور زندگی بھی صیح طرح سے انجام نہ دے سکتا۔ ان موسموں میں سے ایک موسم بہار بھی ہے۔ اسے شجرکاری کا موسم بھی کہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ موسم بہار میںشجرکاری کی خصوصی مہم چلائی جاتی ہے۔ اس حوالے سے خصوصی پروگرام بھی منعقد کیے جاتے ہیں۔ جس میں لوگوں کو شجر کاری کی بھی ترغیب دی جاتی ہے۔ دین اسلام نے شجر کاری کو بڑی اہمیت دی ہے کہ اسلام شجرکاری کرنیوالے افراد کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔ انکو اجر کی خوشخبری سناتا ہے ہمارے آقا تاج دار دو عالمۖ نے بکثرت شجرکاری کی ترغیب دی ہے۔ آپ ۖ نے فرمایا ” اگر قیامت قائم ہو جائے اور تم میں سے کسی شخص کے ہاتھ میں کجھور کا پودا ہو تو اگر وہ شخص اس پودے کواگانے کی طاقت رکھتا ہو تو اس کو چاہیے کہ وہ اس کو زمین میں بو دے” (مسند احمد) شجرکاری میںہر قسم کے پودے شامل ہیں چاہے وہ پھل دار ہو ں یاپھول دار یا صرف سایہ دار ہی ہوں۔ رسول اکرم ۖ نے ارشاد فرمایا ” جب کوئی مسلمان بندہ درخت اگاتا ہے یا کوئی اورکھیتی بوتا ہے تواس درخت یاکھیتی میں سے کوئی پرندہ یا انسان یا جانور کھالیتا ہے تو اس درخت لگانے والے آدمی کے لیے ان کا کھا لینا بھی صدقہ شمار ہوگا۔ اگر کوئی پرندہ اس درخت کا پھل کھا لیتا ہے یا کوئی جانور اس درخت کے پتے کھا لیتا ہے تو اس کے مالک کے نامہ اعمال میں صدقہ لکھ دیاجائے گا۔ مثلا اگر کوئی پرندہ امرود کے درخت پر بیٹھ کر امردو کھا لیتا ہے تو مالک کے نامہ اعمال میںوہ صدقہ لکھ دیا جاتا ہے۔ اس حدیث کی روشنی میں میں جان لینا چاہیے کہ وہ صرف درخت نہیں لگا رہا بلکہ اپنے ثواب کمانے والی ایک فیکٹری کی بنیاد رکھا رہا ہے۔
درخت نہ صرف معاشی ترقی کے لیے ضروری ہیں بلکہ ان کے اور بہت سے فوائد ہیں درختوں کی بدولت گرمی کی شدت میں کمی ہوتی ہے انسانوں کے علاوہ مویشی اور فصلیں بھی تندوتیز آندھیوں سے محفوظ رہتے ہیں ۔ یہ آب وہوا پر اثر انداز ہو کر بارش برسانے میںبھی کسی حد تک مدد گار ثابت ہوتے ہیں۔ جو نہ صرف انسانوں بلکہ جانوروں او ر فصلوں کے لیے بھی بہت ضروری ہے۔ بڑے بڑے ڈیم جو کافی لاگت سے تیار ہوتے ہیں ان کو کافی عرصے تک کارآمد رکھنے میںاہم کردار ادا کرتے ہیں اگر ہم آج ایک درخت لگائیں تویہ 36 بچوں کوآکسیجن فراہم کرنے کا ذریعہ ہے یہ فضائی آلودگی کو بھی کم کرنے میںمدد گار ثابت ہوتے ہیں ان فوائد کومد نظر رکھتے ہوئے یہ ضروری ہو جاتا ہے کہ درختوں کی حفاظت ، پرورش اور افزائش پر زور دیں۔
انسان نے اپنی ترقی میں بنیادی ضرور تو ں کوبھلا دیا ہے صنعتوں کی توسیع پسندی اور مال و زر کی ہوس نے انسان کو اس حد تک اندھا کر دیا ہے کہ وہ بھول گیا کہ زندگی کی لذتو ں سے روشناس ہونے کے لیے اس کی پہلی ضرورت تازہ ہوا ہے، سبزہ ہے جو اس کی بینائی کو قوت فراہم کرتی ہے۔ جب انسان اپنے پیدا کردہ ماحول کیوجہ سے مرنے لگا تو اسے احساس ہوا کہ وہ بہت کھو چکا ہے اور جو کچھ بچ گیا اس کے تحفظ کاک مسئلہ کھڑا ہو گیا درخت فطرت کے بابرکت نمائندے، سکون ، طمانیت بخش نعمت خداوندی ہیں۔شہروں کی توسیع فیکٹریوں کی بنیاد اور بلند بالا عمارتوں کی خاطر ان کا قتل ہمیں زیب نہیں دیتا۔ ترقی کے لیے خدا کی دوسری مخلوق سے جینے کاحق چھین لینا کہاں کا انصاف ہے۔
کرہ ارض پر زندہ رہنے کے لیے ضروری ہے کہ درخت جوزمین کا زیور ہیںلگائے جائیں۔ انسان اوردرختوں کارشتہ بہت پرانا ہے۔ قدیم تہذیبوں سے درخت انسان کی مختلف ضرورتوں کو پورا کرتے آ رہے ہیں۔ جس میں خوارک دفاعی ہتھیار شامل ہیں۔ ان پرانے تعلقات کو بھلا دینا آسان نہیںویسے بھی درخت گود سے گور تک انسان کا ساتھ بناتے ہیں۔ درختوں سے مختلف قسم کی ادویات حاصل ہوتی ہیں۔ تعلیم کے دوران ہمیں کاغذ کی ضرورت ہوتی ہے جو ہمیں درخت مہیا کرتے ہیں ۔ ٹیکنالوجی کی ترقی میں درختوں کا اہم کردار ہے۔
جب آ پ ایک درخت لگا رہے ہوتے ہیں آپ صرف درخت نہیں بلکہ بہت کچھ کر رہے ہوتے ہیں۔آپ اس وقت بہت سے جانداروں کے رہنے کی جگہ ،انسان اورجانوروں کی خوراک کاربن ڈائی آکسائیڈ کو جذب کر کے مٹی کو بردگی کا انتظام کر رہے ہوتے ہیں۔ قدرتی طور پرپانی صاف کرنے کے لیے فلٹر بنا رہے ہوتے ہیں ہم اپنے اردگرد درخت اس لیے پسند کرتے ہیں کیونکہ یہ خوشگواراحساس پیدا کرتے ہیںیہ بات دیکھنے میں آئی ہے کہ مریض بیماری سے جلد صحت یاب ہوجاتا ہے۔ اگر اس ہسپتال کی کھڑکی سے سے سبز درخت نظرآ رہے ہوں۔
شجر کاری دنیا کے حساب سے تو نفع بخش ہے ہی آخرت کے حساب سے بھی یہ ایک نفع مند تجارت ہے۔ یہ ایک ایسی مفید تجارت ہے کہ بندے کی موت کے بعد بھی اجر کی صورت میں اسے نفع پہنچتا رہتا ہے۔ رسولۖ کا فرمان ہے ” سات چیزیں ایسی ہیں کہ بندے کی موت کے بعد بھی ان کا اجر اسے پہنچتا رہتا ہے ان میں سے ایک یہ ہے کہ اگر کوئی بندہ کجھور کا درخت اگاتا ہے تو اس کی وفات کے بعد بھی جب تک لوگ اس سے فائدہ اٹھاتے رہیں گے اس کا اجر اسے ملتا رہے گا۔”
ہمار ے ہاں اکثریت اکثر ایسے لوگوں کی ہے جو کہیں آنے جانے کے لیے پبلک ٹرانسپورٹ پر سفر کرتی ہے۔ ایسے لوگوں کوسٹاپ پر آنا پڑتا ہے جہاں سے وہ گاڑی پر سوار ہو کر اپنی منزل کی طرف روانہ ہوتے ہیں۔ ہمارے ہاں عموما بس سٹاپوں پر موسم گرما میں موسم کی شدت سے بچنے کے لیے کچھ خاص بندوبست نہیں ہوتاہے مسافر وں کی سہولیات کے پیش نظر ایسی جگہوں پر مسافر خانہ تعمیر کرنے کی بہت فضیلت بیان ہوئی ہے۔ حدیث میںمسافر خانہ تعمیر کو صدقہ جاریہ کہا گیا ہے۔ جس طرح مسافر خانے کا مقصد مسافروں کو سہولت پہنچانا ہوتا ہے اس طرح سٹاپ پر درخت لگانے کا مقصد بھی مسافروں کو دھوپ سے بچاناہوتا ہے۔
شجرکاری اور فصل اگانے کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ نبی اکرمۖ نے زمیں خالی رکھنے سے منع فرمایاہے۔وہ لوگ جن کے پاس زمینیں تو تھیں مگر کاشت نہیں کررہے تھے آپ ۖ ان کو حکم فرمایا تھا کہ اگر وہ لوگ خود زمین کاشت نہیں کر سکتے تو اپنے کسی دوسرے بھائی کو بطور عطیہ دے دیں تا کہ زمین خالی نہ پڑی رہے۔
خیبر کا علاقہ بڑا زرخیز تھا وہاں یہودیوں کے کچھ قبائل تھے انہوں نے زمین کی زرخیزی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے بڑے پیمانے پر شجرکاری کر رکھی تھی۔ خیبر کا علاقہ فتح ہوا تو وہ تمام باغات رسول اللہ ۖ کے اختیار میں آ چکے تھے آپ ۖ چاہتے تو ان کے تمام باغات کو تہس نہس کروا دیتے۔ آپۖ نے ان باغوں کو برقرار رکھا اور یہودسے یہ معاملہ طے پایا کہ ان کی دیکھ بھال وہ ہی کریں گے،البتہ جو پھل حاصل ہوگا اس میں سے آدھا ان کو دیا جائیگا۔
رسول اللہۖ کے اس طرزعمل سے شجرکاری کی اہمیت واضح ہوتی ہے ۔ رسول اللہ ۖ نے ان درختوں کو برقرار رکھا اوران کی دیکھ بال کے لیے باقاعدہ یہود کی ڈیوٹی لگا دی۔
نئے درخت لگانے کی اہمیت اور اجر و ثواب تو ہے ہی ، رسول اکرمۖ نے پہلے سے موجو د درختوں کو بھی کاٹنے سے منع کیا ہے۔رسول اللہ ۖ کا فرمان ہے درختوں کو نہ کاٹو اس لیے کہ یہ درخت قحط سالی کے دور میں جانوروں کے موت سے بچنے کا سبب ہیں۔
صحابہ اکرام ہر وقت نیکی کی تلاش میں رہتے تھے اس سوچ کے پیش نظر ایک مرتبہ ابو دردائ درخت لگارہے تھے۔ ایک آدمی نے انہیں لگاتے ہوئے دیکھا تو کہنے لگے” ابودردائ آپ صحابی رسولۖ ہونے کے باوجود درخت لگا رہے ہیں۔ ابودردائ نے فرمایا تم میرے بارے میں جلد بازی سے کام نہ لو، میں نے رسول اللہ ۖ کویہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص کوئی درخت لگاتا ہے تو اس درخت میں اس سے اگر کوئی آدمی کھائے یا اللہ کی مخلوق میںسے جو بھی مخلوق کھائے گی اس کا اجر اس درخت لگنے والے آدمی کو ملے گا۔
گویا اس آدمی نے درخت لگانے کو ایک عام اور گھٹیا عمل سمجھا مگر سیدنا ابودردائ نے اس کی غلط سوچ کی تردید فرمائی اور شجر کاری کی اہمیت اور فضیلت پر نبیۖ کی حدیث سنائی۔
دور حاضر میںآلودگی ایک بہت بڑا مسئلہ بن چکا ہے اس مسئلے کاحل اس میں ہے کہ زیادہ سے زیادہ درخت لگائے جائیں۔ اگر آلودگی اسی طرح بڑھتی رہی اور اس کے مقابلے میں شجرکاری نہ ہوئی تو انسان کے لیے تباہی ہے کیونکہ آکسیجن کے لیے ضروری ہے کہ درخت کی زیادہ سے زیادہ کاشت کی جائے۔
المختصر یہ کہ درختوں کے بے شمار فائدے ہیں ہر درخت اپنے الگ الگ فوائد کی بدولت اپنا اپنا مقام رکھتا ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ شجر کاری کے دینی اوردنیاوی فوائد کو مدنظر رکھتے ہوئے اس معاشرے میں رواج دیا جائے اور جس جگہ بھی ممکن ہو وہاں شجرکاری کی جائے درختوں کی افادیت کو مدنظر رکھتے ہوئے عہد کریں کہ اس موسم بہار میں زیادہ سے زیادہ درخت لگا کر وطن عزیز کو سرسبز و شاداب بنا کر اپنا ملی و دینی فریضہ ادا کریں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں