شرح سود میں کمی کے باوجود اقتصادی ترقی سست روی کا شکار

اسلام آباد (بیوروچیف) شرح سود میں زبردست کمی کے باوجود رواں مالی سال کے پہلے 7ماہ کے دوران مالیاتی توسیع منفی رہی۔مالیاتی توسیع کا مطلب ترقی کو فروغ دینے کے لیے معیشت میں رقم کی فراہمی میں اضافہ ہے، اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) مانیٹری پالیسی کا ذمہ دار ہے اور جون 2024 سے 6وقفوں سے شرح سود میں ایک ہزار بیسز پوائنٹ یا 10فیصد کی کمی کر چکا ہے۔رپورٹ کے مطابق شرح سود میں مسلسل کمی کے نتیجے میں بینکوں سے نجی شعبے اور غیر بینک مالیاتی اداروں (این بی ایف آئی) کو بڑے پیمانے پر لیکویڈیٹی کا اخراج ہوا، اس کے باوجود یہ اقتصادی ترقی کو فروغ دینے میں ناکام رہا ہے۔ مالی سال 2025کی دوسری سہ ماہی میں نجی شعبے اور این بی ایف آئیز کے بینک سے لیے گئے قرضوں میں تیزی سے اضافہ ہوا۔اگرچہ مالیاتی ماہرین کا خیال ہے کہ نجی شعبے کو زیادہ لیکویڈیٹی کی فراہمی کے معیشت پر اثر انداز ہونے میں وقت لگے گا، لیکن حکومت کو زیادہ معاشی نمو کا بخار نہیں ہے کیونکہ اسے خدشہ ہے کہ افراط زر معیشت کو دوبارہ جکڑ سکتی ہے، درآمدات میں اضافہ ہوگا اورنتیجتاً کرنٹ اکائونٹ کو خسارے کا سامنا کرنا پڑے گا جو اس وقت مالی سال 2025کی پہلی ششماہی میں 1.2ارب ڈالر سرپلس تھا۔تازہ ترین اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ رواں مالی سال یکم جولائی تا 17 جنوری 2025 کے دوران ایم 2 نمو (رقم کی فراہمی) منفی 973 ارب روپے رہی جبکہ گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں اس مد میں 416ارب روپے کا خالص اضافہ ہوا تھا۔رقم کی فراہمی کو بڑھانے کا مطلب شرح سود اور قرض کی لاگت میں کمی لاکر کھپت اور سرمایہ کاری کو فروغ دیناہے۔ایم ٹو کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ رقم میں توسیع کی مد میں مالی سال 2024میں 4.94کھرب روپے اور مالی سال 2023میں 4.17کھرب روپے کا اضافہ ہوا۔ زیادہ تر حکومت کو کی گئی یہ بڑی فراہمی صرف افراط زر کا سبب بنی جو مئی 2023میں 38فیصد کی ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی تھی۔ایک مالیاتی ماہر کا کہنا تھا کہ یہ معاشی نمو کو تیز کرنے کے لیے ایک مثالی صورتحال ہے، لیکن حکومت زیادہ شرح نمو سے خوفزدہ نظر آتی ہے کیونکہ ہماری نمو درآمدات پر مبنی ہے، جس سے تجارتی خسارہ بڑھے گا اور کرنٹ اکائونٹ خسارے کا سبب بنے گا۔ 27جنوری کو مانیٹری پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے گورنر اسٹیٹ بینک نے کہا تھا کہ مالی سال 2025کے اختتام تک کرنٹ اکائونٹ 0.5فیصد سے زیادہ یا منفی ہوگا۔انہوں نے کسی بھی درآمدی پابندی کی تردید کی لیکن مارکیٹ ذرائع کا کہنا ہے کہ بہت سے شعبوں کے لیے ایک حد ہے کیونکہ اسٹیٹ بینک کو پہلے ہی ملک کے بھاری بیرونی قرضوں کی ادائیگی کی ذمہ داریوں کو پورا کرنے میں سنگین مسائل کا سامنا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں