44

شمسی توانائی پر انحصار بڑھانے کا فیصلہ (اداریہ)

وزیراعظم نے بجلی صارفین کے لیے بجلی کے نرخوں کو مزید کم کرنے اور مستقبل کے بجلی کے پیداواری منصوبوں کے حوالے سے لائحہ پر عملدرآمد کو تیز کرنے کی ہدایت کر دی’ وزیراعظم شہباز شریف کے زیرصدارت ملک میں مستقبل کے لیے بجلی کے پیداواری منصوبوں بجلی شعبے بالخصوص ترسیلی نظام پر جائزہ اجلاس منعقد ہوا’ اجلاس کو بجلی کے نئے مجوزہ منصوبوں جاری منصوبوں کی تعمیر پر پیشرفت اور ملک میں بجلی کے شعبے کی جاری اصلاحات پر بریفنگ دی گئی بجلی کی موجودہ طلب اور استعداد سے بھی آگاہ کیا گیا درآمدی ایندھن سے چلنے والے بجلی گھروں کی تحلیل اور ترسیلی نظام کی اصلاحات پر پیش رفت سے بھی آگاہ کیا گیا وزیراعظم نے بجلی شعبے کی اصلاحات کیلئے تمام تر اقدامات کو معینہ مدت میں مکمل کرنے کی ہدایات کر دیں وزیراعظم نے کہا کہ مستقبل میں کم لاگت بجلی منصوبوں کو ہی ترجیح دی جائے بجلی کی پیداوار کے منصوبوں کے لیے مقامی وسائل کو ترجیح دی جائے وزیراعظم نے کہا پن بجلی کے منصوبے کم لاگت کے ایسے ذرائع ہیں جن سے صارف کو ماحول دوست اور سستی بجلی فراہم ہو گی بجلی کی موجودہ استعداد کو شمسی توانائی پر منتقل کیا جائے” وزیراعظم شہباز شریف کا ملک میں شمسی توانائی پر انحصار بڑھانے کا فیصلہ خوش آئند ہے دنیا بھر میں ماحول دوست کم لاگت شمسی توانائی سے بجلی پیدا کی جا رہی ہے اور پاکستان اس لحاظ سے خوش قسمت ملک ہے کہ ملک میں شمسی توانائی کی وسیع استعداد موجود ہے وزیراعظم نے زیادہ ایندھن سے کم بجلی پیدا کرنے والے فرسودہ بجلی گھروں کو بند کرنے کی ہدایت کی ہے اس اقدام سے نہ صرف ایندھن کی درآمد پر خرچ ہونے والے قیمتی زرمبادلہ کی بچت ہو گی بلکہ صارف کے لیے بجلی کی لاگت بھی کم ہو گی وزیراعظم نے بجلی شعبے کی اصلاحات میں دانستہ طور پر رکاوٹ پیدا کرنے والوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ ایسے اقدامات سے باز رہیں بصورت دیگر ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی، بجلی ترسیلی نظام میں جاری اصلاحات میں عملدرآمد کو تیز کرنے سے سستی بجلی کے حصول میں مدد ملے گی وزیراعظم کی زیرصدارت اجلاس میں بجلی کی پیداواری لاگت کے لحاظ سے کم لاگت بجلی کے انخاب وترسیل کے لیے جدید ٹیکنالوجی کے نظام کے نفاذ پر جلد عملدرآمد یقینی بنانے کی بھی ہدایت کی گئی ہے جسے سراہا جا رہا ہے،، ملک میں سولر توانائی کو فروغ دینے اور اس کو صنعتوں اور عام صارفین کے لیے سستے داموں فراہمی یقینی بنانا دراصل وقت کی اشد ضرورت ہے اور اس بات کو جتنی جلدی سمجھ لیا جائے اتنا ہی بہتر ہے دنیا بھر میں شمسی توانائی سے بھرپور طریقے سے فوائد حاصل کئے جا رہے ہیں مگر ہمارے ہاں بھی تک کوئی پلاننگ ہی نہیں کی جا سکی جس کی وجہ سے بجلی صارفین کو مہنگی بجلی خریدنی پڑ رہی ہے دوست ملک چین میں شمسی توانائی کے لیے سولر پینل تیار کرنے کیلئے پاکستان میں انڈسٹری لگا رہے ہیں جو خوش آئند ہے اس سلسلے میں حکومت کو ایسی کمپنیوں کی پیداواری صلاحیت سے استفادہ کرنا چاہیے تاکہ ملک میں سستی بجلی کا حصول یقینی بنایا جا سکے اسے خوش قسمتی ہی کہا جا سکتا ہے کہ گزشتہ چند سالوں میں سولر پینل سے بجلی کے حصول کیلئے شہری استفادہ کر رہے ہیں بلکہ فالتو بجلی حکومت کو فروخت بھی کر رہے ہیں اس طرح ہماری بجلی کی ضروریات نہ صرف پوری ہو رہی ہیں بلکہ بجلی اضافی بھی حاصل کی جا رہی ہے جن گھرانوں یا کارخانوں میں شمسی توانائی کے ذریعے بجلی حاصل کی جا رہی ہے ان کو بجلی کی لاگت کے حوالے سے بہت ریلیف حاصل ہوا ہے اب حکومت نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ ایسے بجلی گھر جو کم ایندھن زیادہ استعمال کر کے بجلی کم پیداوار کر رہے ہیں ان کو بند کر دیا جائے اس اقدام سے درآمدی ایندھن کی مد میں اخراجات کی بچت ہو گی’ شمسی توانائی سے سستی بجلی حاصل ہو گی جس کی وجہ سے فیکٹریوں’ کارخانوں’ ملوں میں تیار کی جانے والی مصنوعات پر کم لاگت آئے گیا ور ہم عالمی دنیا طور پر نئی مندیوں میں اپنی مصنوعات فروخت کر کے زرمبادلہ کما سکیں گے وزیراعظم نے اس حوالے سے متعلقہ حکام کو ہدایات جاری کر دی ہیں تاہم ضرورت اس امر کی ہے کہ متعلقہ ادارے جلد ازجلد بجلی کے شعبے میں اصلاحات کے حوالے سے اپنا کام انجام دیں تاکہ بجلی کے حوالے سے صارفین بجلی کی شکایات دور ہو سکیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں