56

شہباز شریف طیب اردوان ملاقات (اداریہ)

وزیراعظم شہباز شریف نے چار ملکی دورے کے پہلے مرحلے میں ترکیہ کے صدر طیب اردوان سے ملاقات کی دونوں طرف سے وفود کی سطح پر بات چیت بھی ہوئی جس میں فیلڈ مارشل عاصم منیر اور دیگر وزراء بھی شریک ہوئے ترکیہ کے وزیر دفاع نے وزیراعظم اور وفد کا استقبال کیا وزیراعظم 30مئی 2025ء تک ترکیہ’ ایران’ آذربائیجان اور تاجکستان کا دورہ کریں گے اور ان ممالک کے راہنمائوں کے ساتھ دوطرفہ تعلقات اور علاقائی اور بین الاقوامی اہمیت کے معاملات پر وسیع پیمانے پر بات چیت کریں گے بھارت کے ساتھ حالیہ بحران کے دوران دوست ممالک کی جانب سے پاکستان کو دی گئی حمایت پر ان کا شکریہ ادا کریں گے وزیراعظم تاجکستان شہر دوشنبے میں 29 اور 30مئی کو ہونے والی گلیشیئرز پر بین الاقوامی کانفرنس میں بھی شریک ہوں گے، پاکستان اور ترکیہ نے مختلف شعبوں مین کثیرالجہتی تعاون کو مزید تقویت دینے اور علاقائی امن’ پائیدار ترقی اور اپنے عوام کی مشترکہ خوشحالی کیلئے ملکر کام جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا ہے جبکہ پاکستان نے دونوں ممالک کے درمیان برادرانہ تعلقات کے استحکام پر زر دیتے ہوئے جنوبی ایشیا میں حالیہ پیش رفت کے دوران پاکستان کی غیر متزلزل حمایت پر ترکیہ حکومت اور عوام کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا، وزیراعظم آفس سے جاری بیان کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف سے ترکیہ کے صدر سے ملاقات میں پاک بھارت کشیدگی کے دوران ترکیہ کے اصولی موقف اور پاکستان کے لیے ترک عوام کی خیرسگالی کی بھرپور حمایت کو سراہتے ہوئے اسے پاکستان کیلئے نہایت تسکین اور طاقت کا باعث قرار دیا وزیراعظم نے پاکستان کی مسلح افواج کے عزم حوصلے’ قربانی کے جذبے اور پاکستانی عوام کی پرعزم حب الوطنی پر روشنی ڈالی دونوں راہنمائوں نے دوطرفہ تعلقات کے تمام پہلوئوں کا ایک جامع جائزہ لیا اور اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید بلندیوں تک پہنچانے کے عزم کا اعادہ کیا اس موقع پر 13فروری 2025ء کو اسلام آباد میں منعقدہ اعلیٰ سطحی سٹریٹجک کو آپریشن کونسل کے 7ویں اجلاس کے دوران کئے گئے اہم فیصلوں پر عملدرآمد کا بھی جائزہ لیا جبکہ دونوں ممالک نے سالانہ 5ارب ڈالر کی دوطرفہ تجارت کے ہدف کے حصول کے لیے اقدامات پر اتفاق کیا دوطرفہ امور کے علاوہ وزیراعظم شہباز شریف اور صدر ایردوان نے اہم علاقائی اور بین الاقوامی پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا اور جموں وکشمیر کے تنازعہ سمیت ایک دوسرے کے بنیادی تشویش کے معاملات پر اپنی اصولی حمایت کا اعادہ کیا انہوں نے غزہ کی سنگین انسانی صورتحال پر بھی گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فوری جنگ بندی اور متاثر فلسطینی آبادی تک بلارکاوٹ انسانی رسائی کا مطالبہ کیا وزیراعظم شہباز شریف نے پاک بھارت تنازعہ کے دوران پاکستان کی غیر متزلزل سپورٹ پر ترکیہ کے صدر کا شکریہ ادا کیا،، وزیراعظم محمد شہباز شریف ان دنوں ترکیہ اور دیگر 3 ممالک کے دورہ کر رہے ہیں اس دورے کا بڑا مقصد پاک بھارت کشیدگی کے دوران ان ممالک کی طرف سے پاکستان کی بھرپور حمایت کرنے کا شکریہ ادا کرنا اور ساتھ ہی ان ممالک سے تجارتی روابط بڑھانے اور آپس میں برادرانہ تعلقات کو مزید بلندیوں تک لے جانا ہے بلاشبہ وزیراعظم کی موجودہ ٹیم نے سفارتی سطح پر بڑی کامیابیاں حاص کی ہیں اور بھارت کی سفارتکاری کے جواب میں دنیا کو صحیح صورتحال سے آگاہ کر کے بھارت کا مکروہ چہرہ دنیا کو دکھایا ہے اس سلسلے میں وزیراعظم’ فیلڈ مارشل عاصم منیر’ نائب وزیراعظم ووزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار’ وزیر خزانہ مریم اورنگزیب اور وفاقی کابینہ کے اہم کرداروں سمیت چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری بھی اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ پاکستان کی کامیاب سفارتکاری سے بھارت کی سفارت کاری ناکام ہو کر رہ گئی ہے وزیراعظم شہباز شریف نے حکمرانی کا جو طرز عمل اختیار کیا ہے اس سے ان کی بہترین انتظامی صلاحیتوں کی جھلک نمایاں ہے قوم کو امید ہے کہ وزیراعظم کا چار ممالک ترکیہ’ آذربائیجان’ تاجکستان’ ایران کا دورہ کامیاب رہے گا اور وہ ان ممالک سے تجارتی تعلقات کو مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ ان کی بھرپور حمایت حاصل کرنے میں بھی کامیاب ہوں گے!

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں