صفدرآباد میں احترام آرڈیننس کی خلاف ورزیاں ،کھانا پینا عام

صفدرآباد(نامہ نگار)احترام رمضان آرڈینینس صرف نام کا رہ گیا ،یہ مسلماں جنہیں دیکھ کے شرمائیں یہود۔اسلام کے نام پر قائم ہونے والے ملک میںاسلام پر کس حد تک عمل ہو رہا ہے اس کی بڑی مثال آپ شہروں میں چل پھر کر دیکھ سکتے ہیں۔ملک کے دوسرے شہروں کی طرح صفدرآباد بھی کسی سے پیچھے نہیں،شہر میں سر عام لوگ کھا پی رہے ہیں،ہوٹل کھلے ہیں،وہاں کون لوگ کھاتے ہیں،سوال یہ ہے کہ ان ہوٹل والوں کو کس نے اور کیوںاجازت دی کہ وہ رمضان شریف کی بے حرمتی کریں ۔کیا ہم مسلمان ہیں؟ اگر ہیں تو دین کا احترام کہاں ہے؟حکومت کا کیا مطلب ہوتا ہے؟احترام رمضان کی باتیں صرف مساجد میں خطبوں تک محدود ہیں۔ان خطیبوں کی بات بھی کوئی سننے کو تیار نہیں۔دکاندار ہیںکہ پیسے کے پیچھے بھاگ رہے ہیں۔حرام کما تے ہیں اور نماز پڑھنے کے لئے بھاگ کر جاتے ہیں۔ کیا ہم اللہ کو دھوکا دیتے ہیں؟ہرگز ایسا نہیںہو سکتا ، ہم اپنے آپ کو ہی دھوکا دے رہے ہیں۔پنجاب حکومت صرف صفائی ،جرمانوں کی بات کرتی ہے ، ارے بھائی اسلامی احکامات کی دھجیاں اڑ رہی ہیں اور سب ہنس رہے ہیں۔حکومتی ادارے حرکت میںآئیں۔خود بھی مسلمان ہونیکا ثبوت دیں اور ملک میں بسنے والوں کو بھی اسلام پر عمل کا حکم دیں ۔ ہوٹل وغیرہ پر یہ تماشا بند کروائیں ۔سارا دن لوگ سموسے بیچ رہے ہیں اور کھا پی رہے ہیں،گلی محلے اور دکانوںپر سگریٹ ،نسوار سر عام بک رہی ہے، لوگ راہ چلتے پی رہے ہیں،یہ سب کیا ہے اور حد یہ ہو گئی کہ افطار کے وقت کمیٹی دفتر کے لان میں سرکاری دستر خوان پر افطاری ہے کیا سب لوگ روزہ دار ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں