صفدر آباد کی گلیوں ، محلوں میں صفائی نہ ہونے کے برابر

صفدرآباد(نامہ نگار)ستھرا پنجاب کے نام سے پورے پنجاب میںصفائی کا نظام شروع کیا گیا جو کہ ایک احسن اقدام ہے مگر صفائی تو روڈز پر ہو رہی ہے۔گلیوں کی نالیوں پر فوکس تو ہوا ہی نہیں ہے ،صرف ہفتہ بھر میں ایک آدھ بار نالی کی گار نکالی جاتی ہے اور عملہ صفائی پوچا پھیر کر یہ گیا وہ گیا۔بس جھاڑو ہاتھوں میں اٹھا کر پھیرنے سے صفائی نہیں ہوتی،جراثیم کا خاتمہ ضروری ہے اور وہ کون کرے؟صفائی کی بڑی مشہوری کی جا رہی ہے لیکن یہ تو دیکھو کیا تم نے نالیوں پر مچھر مار سپرے کیا ہے ۔جواب یہی ملے گا کہ سپرے تو ہوا ہی نہیں،پھر صفائی کس کام کی ،بازاروں اور گلی کی صفائی تو عوام پہلے بھی خود ہی کرتی رہی ہے اب بھی کرتی ہے ۔کبھی بازاروں میںجا کر تو دیکھو دکاندار خود ہی صفائی کر رہا ہوتا ہے اپنی دکان کے سامنے۔۔۔ہاںیہ بات ہے کہ کوڑا اٹھانے آ جاتے ہیں ۔بس اسی کام کی تنخواہ ہے ، صفائی تو عوام خود ہی کرتی ہے۔عوام کا کہنا ہے کہ نالیوں پر سپرے کرو تا کہ جراثیم مر جائیں جب جراثیم مر جائیںتو بیماریاں بھی ختم ہو جائیں گی ۔موجودہ طریقہ صفائی سے کام نہیں چلے گا ۔دنیا چاند سے بھی آگے جا چکی اور ہمارے بازار اور گلیاں فرسودہ طریقے سے صاف ہو رہی ہیں۔نالیوں پر اور گندگی کے ڈھیروں پر روزانہ سپرے کیا جائے تا کہ بیماریاں پیدا نہ ہوں ۔ورنہ ہسپتال مریضوں سے بھرے دکھائی دیتے رہین گے۔ہر بندہ بیمار نظر آتا ہے اس کی وجہ کیا ہے؟محکمہ صحت جواب دے ،اربوں روپے کے فنڈز ہڑپ اور بیماریاں اپنی جگہ قائم ۔نالی کی نکالی گئی گار دو دو دن پڑی رہتی ہے ،کچھ تو خدا کا خوف کرو۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں