صفدر آباد کے اردو بازار کو ماڈل بنانے کا کام سست روی کا شکار

صفدرآباد(نامہ نگار)حکومت پنجاب کی جانب سے صفدرآباد کے اردو بازار کو ماڈل بنانے کا کام جاری ہے دو ماہ گزر گئے لیکن ابھی تک دکانوں کے ساتھ گندے پانی کا نالہ مرمت نہ ہو سکا ،کام کی رفتار بہت سست ہے،دکاندار تنگ پڑ چکے ہیں ،کاروبار تباہ ہو چکا ہے،ایک دکاندار نے بتایا کہ جب سے اردوبازار کی تور پھوڑ ہوئی ہے گاہکوں نے اس بازار کا رخ کرنا ہی چھوڑ دیا ہے،اچھا خاصا بازار تھا ،خوبصورت بھی تھا ۔لوگ آرام دہ ماحول میں کاروبا کر رہے تھے معلوم نہیں کس نے رنگ میں بھنگ ڈال دی۔سنا ہے کہ حکومت مین بازار کو ماڈل بنانا چاہتی تھی مگر کسی نے منصوبہ تبدیل کروا دیا اور اردو بازار میں کام شروع کر دیا گیا ۔چوہدری محمد برجیس طاہر سابق وفاقی وزیر نے اردو بازار میں ٹف ٹائل لگوائی تھی جس سے بازار کا حسن دوبالا ہو گیا تھا۔ہمارے ملک کا المیہ ہے کہ تخریب کار لوگ ہر جگہ موجود ہیںجو رنگ میں بھنگ ڈالنے کے ماہر ہیں۔کیا مصیبت پڑ گئی تھی کہ اردو بازار کا حسن تباہ کر دیا گیا ۔اگر ماڈل بازار ہی بنانا تھا تو شہر کے کسی دوسر ے بازار کا انتخاب کیا ہوتا تا کہ شہر میں ترقیاتی کام کا حسن نظر آتا ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں