صفدر آباد کے اردو بازار کی بیوٹیفکیشن کا منصوبہ سست روی کا شکار

صفدرآباد(نامہ نگار)اردو بازار کی بیوٹیفکیشن اور ماڈلنگ کا منصوبہ دھرے کا دھرا رہ گیا ۔گزشتہ پانچ ماہ سے کام شروع ہوا لیکن چیونٹی کی رفتار سے بھی کم ،پرنٹ میڈیا خبریں لگا لگا کر تھک گیا مگر حکومت پنجاب کا یہ منصوبہ وقت مقررہ میں مکمل نہ ہو سکا بلکہ ادھورا چھوڑکر ٹھیکیدار فرار ہو گیا۔ شہریو ں نے پنجاب گورنمنٹ کی کارکردگی پر سوال اٹھا دیا کہ اگر پیسے نہیںتھے توبازار کو کیوں ادھیڑ ا گیا ، دکانداروں کا روزگار کیوں چھینا گیا ،اب یہ دکاندار کئی سالوںتک قرضے میں ڈوبے رہیں گے اس لئے کہ جب سے بازار میں کام شروع ہوا گا ہکوں کا رحجان ختم ہو کر رہ گیا ،بازار اکھڑا ہوا گردو غبا ر نے لوگوں کو سانس کی بیماری میںمبتلا کر دیا۔پیرا فورس کا تماشا روزانہ لگتا ہے جرمانوںپر جرمانہ،کیا اس طرح قومیںترقی کرتی ہیں۔ اردو بازار کو ماڈل بنانے کا مشورہ معلوم نہیں کس حکیم نے دیا تھا۔مسئلہ یہ ہے کہ بیوٹیفکیشن کاکام بند کیوںکیا گیا،شہریوںکو کیوں عذاب میںڈالا گیا؟کام بند ہونے کا خمیازہ تو شہری بھگت رہے ہیں مگر غفلت ،کوتاہی ،سستی ،بے ایمانی سمیت شہریوں کے ساتھ دھوکا اس کی سزا کسے ملے گی۔شہریوں کو تو ابھی تک یہ سمجھ ہی نہیں آئی کہ اسسٹنٹ کمشنر کیا کام کرتا ہے،چیف آفیسر کے دفتر میں کیا کام ہوتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں