46

صنعتوں کو گلوبل سپلائی چین کا حصہ بنانے کی ضرورت (اداریہ)

وزیراعظم نے کہا ہے کہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار ملکی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں ایسے تمام ادارے جو ملکی معیشت کے لیے اہم ہیں ان کے بورڈز کی تشکیل فوری طور پر کی جائے، وزیراعظم شہباز شریف نے سمیڈا کے غیر فعال ہونے پر برہمی کا اظہار کیا، وزیراعظم نے سمیڈا کے حوالے سے سٹیرنگ کمیٹی تشکیل دینے کی ہدایت کی سٹیرنگ کمیٹی کی صدارت وزیراعظم خود کریں گے وزیراعظم نے صعنتوں میں سب کنٹریکٹنگ کو فروغ دینے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ پاکستانی صنعتوں کو گلوبل سپلائی چین کا حصہ بنانے کی ضرورت ہے وزیراعظم کو سمیڈا کے امور پر بریفنگ میں بتایا گیا کہ پاکستان میں اس وقت 52لاکھ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار موجود ہیں جن کا ملک کی جی ڈی پی میں حصہ 40فیصد ہے ملک کی 31فیصد برآمدات ایس ایم ایز پر منحصر ہیں نان ایگریکلچر ملازمتوں کے علاوہ 72فیصد ملازمتیں ایس ایم ای سیکٹر مہیا کر رہا ہے ایس ایم ای سیکٹر کے لیے اب تک 491 بلین روپے بینک کریڈٹ کی مد میں فراہم کئے جا چکے ہیں،، وزیراعظم شہباز شریف کا پاکستانی صنعتوں کو گلوبل سپلائی چین کا حصہ بنانے کے حوالے سے بھرپور اقدامات اٹھانے کا فیصلہ قابل تحسین ہے اس سے معیشت کو سنبھالا دینے میں مدد ملے گی اس وقت ملک کی انڈسٹری کو فروغ دیکر اپنے پائوں پر کھڑا کرنے کی اشد ضرورت ہے بدقسمتی سے صنعتوں کے فروغ کیلئے حکومتی اقدامات ناکافی ہیں ٹیکسٹائل انڈسٹری کے حالات ہر گزرنے دن کے ساتھ مشکل تر ہوتے جا رہے ہیں ملک کے ٹیکسٹائل حب فیصل آباد میں 100 سے زائد چھوٹی بڑی فیکٹریاں انرجی ٹیرف اور مارک اپ میں اضافے کے باعث پیداواری لاگت بڑھنے سے بند ہو چکی ہیں اس کے علاوہ بہت سی ٹیکسٹائل ملز میں جزوی بندش کے سبب شفٹوں کی تعداد تین سے کم ہو کر ایک یا دو رہ گئی ہے ایک اندازے کے مطابق ٹیکسٹائل یونٹس کی بندش سے مجموعی طور پر شہر میں ڈیڑھ سے 2لاکھ مزدور بے روزگار ہو چکے ہیں ملک کے سب سے بڑے مرکز کراچی سے بھی ایسی ہی خبریں مل رہی ہیں پاکستان یارن مرچنٹس ایسوسی ایشن کے چیئرمین شیخ خلیل قیصر کے مطابق پاور ٹیرف میں غیر معمولی اضافے سے ملک میں انڈسٹری زوال پذیر ہو رہی ہے صنعتکار اس صورت حال سے خاصے پریشان ہیں ٹیکسٹائل سیکٹر کی 50 فی صد صنعتیں بند ہو گئی ہیں 580 اسپننگ ملوں میں سے 29فی صد بند ہو چکی ہیں جبکہ 440 نٹنگ ملوں میں سے 20فی صد بند ہو چکی ہیں 8لاکھ 80ہزار جیٹ مشینوں میں سے 32 فی صد بند ہو چکی ہیں بجلی گیس کے نرخوں میں اضافے اور بینکوں کے مارک اپ میں کمی نہ ہونے کی وجہ سے انڈسٹری زبوں حالی کا شکار ہے اور عالمی سطح پر پاکستان کی ٹیکسٹائل مصنوعات دیگر حریف ممالک سے مسابقت میں بہت پیچھے رہ گئی ہیں اور زیادہ تر فیکٹریوں کو ایکسپورٹ آرڈر ملنا بند ہو چکے ہیں گزشتہ ماہ پاکستان کی برآمدات 1.2ارب ڈالر ہوئی ہیں اگر حکومت برآمدات بڑھانے کے مواقع فراہم کرے تو برآمدات ملکی معیشت کیلئے مثبت کردار ادا کر سکتی ہیں لیکن اس کیلئے ضروری ہے کہ صنعتوں کے لیے بجلی گیس سستی کی جائیں بنکوں کے مارک اپ میں فوری طور پر کمی کا اعلان کیا جائے علاوہ ازیں حکومت کو ری فنڈز کی واپسی کے حاولے سے بھی نظام کو فعال کرنا ہو گا کیونکہ انڈسٹری کا زیادہ تر سرمایہ ریفنڈز کی ادائیگی میں تاخیر کے باعث ایف بی آر کے پاس پھنسا ہوا ہے اس کے علاوہ رواں مالی سال کے بجٹ میں ایکسپورٹ سیکٹر پر جو اضافی ٹیکس لگائے گئے ہیں انہیں بھی واپس لینے کی ضرورت ہے اس حوالے سے اگر سٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لیکر اقدامات کیے جائیں تو اس سے بھی انڈسٹری میں پائی جانے والی مایوسی کو ختم کرنے میں مدد مل سکتی ہے اگر حکومت ملک میں سیاسی طور پر اپنی حیثیت مستحکم بنانا چاہتی ہے تو اس کیلئے انڈسٹری کا پہیہ چلانا انتہائی ضروری ہے کیونکہ آبادی کے بڑے حصے کا روزگار اس سے جڑا ہوا ہے وزیراعظم شہباز کو درمیانے اور جھوٹے درجے کاروبار کیلئے فوری طور پر اقدامات کے ساتھ ساتھ ملک کی صنعتوں کیلئے بھی مؤثر اور فوری فیصلے کرنا ہوں گے، اس وقت پاکستانی ٹیکسٹائل برآمدات کی عالمی منڈیوں میں بہت مانگ ہے مگر ہماری مصنوعات کی پیداواری لاگت اتنی بڑھ چکی ہے کہ ہم اپنے حریف ممالک کا عالی مارکیٹ میں مقابلہ نہیں کر سکتے اگر فوری فیصلے نہ کئے گئے تو ہماری معیشت اپنے پائوں پر کھڑی نہ ہو سکے گی اور ہم عالمی مالیاتی فنڈز سمیت دیگر مالیاتی اداروں کے ہاتھوں کھلونا بنے رہیں گے ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت پاکستان انڈسٹری کو گلوبل سپلائی چین کا حصہ بنانے کیلئے سنجیدہ کوشش کریں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں