صنعتی یونٹس میں مضر صحت میٹریل کے استعمال سے فضاء آلودہ،شہری بیماریوں کا شکار

ٹھیکریوالہ (نامہ نگار) سدھار’ دھاندرہ اور گردونواح میں زہر اگلتی فیکٹریاں شہریوں کیلئے وبالِ جان بن گئیں، محکمہ ماحولیات کی خاموشی سوالیہ نشان تفصیلات کے مطابق سدھار، دھاندرہ اور گردونواح کے رہائشی علاقوں میں ماحولیاتی آلودگی نے خطرناک صورتحال اختیار کر لی ہے۔ شام ڈھلتے ہی فیکٹریوں، سائزنگ یونٹس اور دیگر صنعتی بوائلرز سے اٹھنے والا گاڑھا، بدبودار اور زہریلا دھواں فضا میں پھیل جاتا ہے جو پورے علاقے کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے۔صنعتی یونٹس میں بوائلرز کو چلانے کیلئے بچوں کے استعمال شدہ پیمپرز، گندے کپڑے، شاپر بیگز اور دیگر ناقص و مضر صحت میٹریل بطور ایندھن استعمال کیا جا رہا ہے۔ اس عمل سے نہ صرف تعفن پھیلتا ہے بلکہ زہریلی گیسیں انسانی صحت کیلئے سنگین خطرہ بن رہی ہیں۔شہریوں کا کہنا ہے کہ ناک، گلے اور سانس کی بیماریوں میں تیزی سے اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ خصوصاً بچے، بزرگ اور دمہ کے مریض شدید متاثر ہو رہے ہیں۔ متعدد گھروں میں کھانسی، آنکھوں میں جلن اور سانس لینے میں دشواری کی شکایات عام ہو چکی ہیں۔علاقہ مکینوں کا موقف ہے کہ متعلقہ حکام عملی کارروائی کے بجائے رسمی دوروں اور فوٹو سیشن تک محدود ہیں۔ شہریوں کے مطابق محکمہ تحفظ ماحولیات کی خاموشی اور عدم توجہی کئی سوالات کو جنم دے رہی ہے۔رانا بشارت علی، زاہد محمود، راشد محمود، سہیل احمد، اکبر علی اور دیگرشہریوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز سے اپیل کی ہے کہ محکمہ ماحولیات کے افسران کی کارکردگی کا جائزہ لے کر ذمہ داروں کے خلاف شفاف تحقیقات اور قانونی کارروائی کو یقینی بنائیں تاکہ شہریوں کو صاف فضا اور محفوظ ماحول میسر آ سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں