ضلعی انتظامیہ شوگر مافیا کو لگام ڈالنے میں ناکام’کارروائیاں چھوٹے دکانداروں تک محدود

فیصل آباد (سٹاف رپورٹر) ضلعی انتظامیہ شوگر مافیا کو لگام ڈالنے میں ناکام’ شہری مہنگے داموں چینی خریدنے پر مجبور’ پرائس کنٹرول مجسٹریٹس شوگر ڈیلر’ چینی کے ذخیرہ اندوزوں کو پکڑنے کی بجائے شہر بھر میں چھوٹے دکانداروں’ پرچون فروشوں کو جرمانے کر کے اعلیٰ حکام کو سب اچھا کی رپورٹ بھجوانے لگے۔ تفصیل کے مطابق حکومت نے چینی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کو کنٹرول کرنے کیلئے شوگر مل مالکان سے مذاکرات کر کے 173روپے فی کلو چینی ریٹ مقررہ کیا تھا۔ تاہم ضلع بھر میں چینی 190روپے سے 200 روپے میں فروخت ہو رہی ہے آئے روز اشیاء خوردونوش کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے پیش نظر شہری کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ جبکہ ضلعی انتظامیہ کے بلند وبانگ دعوئوں کے باوجود چینی کے ریٹ آسمان سے باتیں کرنے لگے۔ شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ حکومت اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کرے اور پہلے شوگر مل مالکان سے مک مکا کر کے چینی برآمد کرنے کی اجازت دی اور پھر شوگر مل مالکان کی طرف سے چینی کا بحران پیدا کر کے قیمتوں میں اضافہ کر دیا جبکہ ضلعی انتظامیہ کے پرائس کنٹرول مجسٹریٹس بڑے شوگر ڈیلر’ ذخیرہ اندوزوں کے خلاف کارروائی کرنے کی بجائے چھوٹے دکانداروں’ پرچون فروشوں کو پکڑ کر نہ صرف ان کے خلاف مقدمات درج کرواتے ہیں بلکہ ان کو بھاری جرمانہ کر کے ارباب اختیار کو سب اچھا کی رپورٹ بھجوانے لگے۔ شہری حلقوں نے کمشنر فیصل آباد مریم خان’ ڈپٹی کمشنر کیپٹن (ر) ندیم ناصر سے مطالبہ کیا ہے کہ چینی کے بڑے ذخیرہ اندوزوں کے خلاف کارروائی کی جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں