ضلعی انتظامیہ ناکام،اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ

فیصل آباد (آن لائن) جھنگ ، چینوٹ ،ٹوبہ ٹیک سنگھ سمیت فیصل آباد ڈویژن بھر کی انتظامیہ مصنوعی مہنگائی کو کنٹرول کرنے میں بری طرح ناکام، چینی بحران شدت اختیار کرگیا ،چینی بلیک میں 210روپے فی کلو ہوگئی، گندم کی قیمتوں میں بھی 400سے 500روپے فی من تک اضافہ جبکہ چاول کی قیمتوں بھی اضافہ، گوشت،انڈے، دودھ پھل وسبزی فروشوں نے بھی اپنے اپنے ریٹ مقرر کرلئے، آٹا مہنگا ہونے سے روٹی اور نان کی قیمتیں بھی بڑھ گئی، ٹماٹر،ادرک اور پیاز کی قیمتوں میں بھی مسلسل اضافہ،ٹماٹر 600روپے کلو ہوگئے،منا فع خوروں کے سامنے ڈویژنل،ضلعی انتظامیہ اور پیرا فورس بے بس،نجی ٹرانسپورٹ اور اڈہ مالکان کی لوٹ مار،ضلعی انتظامیہ کی خاموشی عوام سراپا احتجاج،تفصیلات کے مطابق پاکستان کے تیسر ے اور پنجاب کے دوسرے بڑے صنعتی شہر فیصل آباد میں ڈویژنل وضلعی انتظامیہ کی نااہلی کی وجہ سے پرا ئس کنٹرول کا نظا م مکمل طور پر مفلوج ہو چکا ہے، ما رکیٹو ں، با زاروں،دکا نوں،ریڑھیوں پر اشیا ئے ضروریہ کی قیمتیں آسما ن سے با تیں کر رہی ہیں،جبکہ ریٹ لسٹ پر کہیں بھی عملدرآمد نظر نہیں آتا،موجودہ دنوں میں سبزیوں اور سبز مصالحہ جات کی قیمتوں میں سب سے زیا دہ اضا فہ ہوا ہے، ضلع بھر میں شوگر مافیا نے چینی بحران پیدا کردیا غلہ منڈی میں چینی 200روپے فی کلو کے حساب فروخت ہوگئی گلی محلوں میں دوکانوں اور کریانہ سٹور سے چینی غائب ہوگئی جبکہ شوگر مافیا چینی کی بلیک میں فروخت کررہاہے جو کہ لمحہ فکریہ ہے اگر بات کی جائے گندم کی توحکومت پنجاب کی جانب سے گندم کا ر یٹ 3500روپے مقررہونے پر منافع خورواور ذخیر اندوز نے گندم کی قیمتوں میں اضافہ کردیاہے گذشتہ ایک ہفتہ کے دوران گندم کی قیمتوں میں 300سے 400وپے فی من تک اضافہ کردیا گیا ایک ماہ قبل گندم پہلے 2200 روپے میں فروخت ہورہی تھی جوکہ3400وپے فی من ہوگئی تھی جس میں ایک ہفتہ میں مزید400سے 500روپے اضافہ ہوگیاہے اب گندم 4000روپے فی من کردی گئی ہے اور ساتھ ہی آٹے کی قیمتوں بھی اضافہ کردیاگیاہے جس کی وجہ روٹی اور نان کی قیمتوں میں 4سے 5روپے اضافہ کردیاگیا ہے، ٹما ٹر نا یا ب ہو چکے ہیں اور جہاں دستیا ب ہیں وہا ں بی کوالٹی کے ٹما ٹر بھی 600رو پے فی کلو فروخت ہو رہے ہیں،جبکہ سرکاری ریٹ لسٹ میں ان کی قیمت 160روپے درج ہے،،ادرک 700، لہسن 800پیاز 100سے 120روپے آلو 80سے 100روپے،بند گوبھی 250روپے،مٹر480روپے اور دیگر سبزیوں کی صورتحا ل بھی مختلف نہیں، اس طرح شہر بھر میں دودھ فروشوں کے بھی اپنے اپنے ہی ریٹ ہیں ضلع بھر بھی 240روپے سے 260روپے فی کلو میں فروخت ہورہا ہے دہی 180سے 260روپے فی کلوجبکہ ضلعی انتظامیہ اپنے ہی جاری ریٹ پر 850روپے بیف اور1600روپے مٹن کی قیمتوں پر عملدرآمد کرنے میں مکمل طو پر ر ناکام ہوچکی ہے،شہر بھرمیں بیف 1250روپے،مٹن 2400روپے کلو تک فروخت ہورہاہے، قصاب سرکاری ریٹ پر گوشت فروخت کرنے پر تیار نہیں ہیں, شہر یو ں کے لئے برائلر مرغی کے ساتھ گو شت کھا نا بھی مشکل ہو گیا چند روز میں چینی کی قیمتوں میں اضافہ جاری ہے گلی محلوں میں چینی 170سے175روپے میں فروخت ہورہی ہے’ دال چناسمیت دیگر دالیں بھی مہنگی ہوگئیں، اگر بات کی جا ئے اچھے چاول کی تو سرکاری نرخ کے مطابق باسمتی سپرکرنل 255سے 265روپے فی کلو مقررکیا گیامگر مارکیٹ میں اس کی قیمت 340سے380روپے فی کلو فروخت ہورہے ہیں،گرا نفروشوں نے شہریوں کیلئے دو وقت کی روٹی کا حصول بھی مشکل بنا دیا ہے، مہنگا ئی کی لہر کا آغازسبز منڈی اور غلہ منڈی سے ہو تا ہے جہاں سے پہلے ہو ل سیلرز بھاری منا فع وصول کرتے ہیں،اس کے بعد آڑھتی،پھر پھڑئیے اور آخر میں دکا ندار یا ریڑھی با ن اپنی جیب بھرتے ہیں،یو ں تما م بو جھ عا م شہری کی جیب پر پڑتا ہے، عا م شہری اپنی مرضی سے نہیں بلکہ جیب دیکھ کر سبزی چنتا ہے،شہریوں کا کہنا ہے کہ ضلعی انتظا میہ کے پا س ڈپٹی کمشنر،ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر، اسسٹنٹ کمشنرز، پرا ئس کنٹرول مجسٹریٹس اور پیرا فورس مو جو د ہو نے کے با وجود اگر سبزی جیسی بنیادی ضرورت بھی عوام کی پہنچ سے دور ہے ،تو یہ انتظا میہ کی کمزو رگرفت اور نا کا می کامنہ بو لتا ثبو ت ہے، ما ر کیٹ کمیٹی کی جا ب سے ریٹ لسٹ جا ری کرتے وقت بھی منڈی کی نیلا می کومد نظر نہیں رکھا جا تا اور ریٹ لسٹ جا ری ہو نے کے بعد اس پر کہیں عملدرآمد ہو تا نظر نہیں آتا،شہریوں نے وزیراعلیٰ پنجا ب مریم نواز سے اپیل کی ہے کہ وہ مہنگا ئی پر قابو پا نے کو اپنی پہلی تر جیح بنا ئیں، علاوہ ازیں ٹرانسپورٹ کمپنیوں کے مالکان و ڈرائیور عملہ نے اپنے ہی خود ساختہ کرائے طے کر رکھے ہیں جن کی بدولت عوام سے لوٹ مار کی جارہی ہے۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے تیل کی قیمتوں میں ملکی و عالمی سطح پر روز بروز کمی واقع ہو رہی ہے جبکہ بس ویگن و دیگر ٹرانسپورٹ کمپنیوں کے کرائے آئے روز بڑھ رہے ہیں جوآ سمان کی بلندیوں کوچھو رہے ہیں ملکی بیروز گاری کو مد نظر رکھتے ہوئے مناسب کرایہ کے حساب سے کرایوں میں کمی کی جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں