ضمنی الیکشن’ (ن) لیگی اور آزاد امیدوار آمنے سامنے

فیصل آباد (وقائع نگار خصوصی) 23نومبر کو ہونیوالے ضمنی الیکشن کیلئے مسلم لیگ (ن) نے اپنے امیدواروں کو پارٹی ٹکٹ جاری کر دیئے جبکہ تحریک انصاف نے میدان کھلا چھوڑ دیا اور اپنے کارکنوں کو مکمل طور پر ضمنی انتخابات کا بائیکاٹ کرنے کا حکم دے دیا۔ لیگی امیدواروں کی مہم دن بدن زور پکڑنے لگی، جن کے مدمقابل آزاد امیدوار بھی مقابلہ کرنے کیلئے ایڑھی چوٹی کا زور لگانے لگے، پی پی98 چک جھمرہ میں پاکستان مسلم لیگ (ن) نے ضلعی جنرل سیکرٹری’ سابق ایم پی اے آزاد علی تبسم کو پارٹی ٹکٹ دے کر میدان میں اتار دیا ہے جس پر اس حلقہ کے ووٹرز’ سپورٹرز کے ساتھ ساتھ مسلم لیگی کارکنوں نے پارٹی کے اس فیصلے کو خوش آئند قرار دیا ہے، ان کا کہنا ہے کہ آزاد علی تبسم نے چک جھمرہ میں شرافت کی سیاست کو فروغ دیا ہے، اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے بے شمار میگا ترقیاتی پراجیکٹس بھی پایہ تکمیل تک پہنچائے ہیں۔ حلقہ کے خاموش ووٹرز کی بہت بڑی تعداد آزاد علی تبسم کی حمایتی لگتی ہے۔ دوسری طرف تحریک انصاف چھوڑ کر (ن) لیگ میں جانیوالے چوہدری اجمل چیمہ نے پارٹی ٹکٹ نہ ملنے پر آزاد حیثیت سے الیکشن لڑنے کا عندیہ دیا ہے ان کے علاوہ دیگر 8امیدوار میدان میں موجود ہیں اب دیکھنا ہے کہ کون کون ان میں آزاد علی تبسم کے مقابلہ میں الیکشن لڑتا ہے یا صرف اجمل چیمہ ہی میدان میں موجود رہتے ہیں، پی پی115 میں رانا مرتضیٰ حکیم ایڈووکیٹ اور ان کے بھائی رانا اظہر وسیم کے کاغذات نامزدگی مسترد ہونے کے بعد اس حلقہ کی صورتحال یکسر تبدیل ہو چکی ہے۔ اس حلقہ میں انتخابی نشان ”شیر” کے ساتھ میاں طاہر جمیل مخالف امیدواروں کو ٹف ٹائم دیتے ہوئے زوروشور سے انتخابی مہم جاری رکھے ہوئے ہیں، الیکشن ٹربیونل نے رانا مرتضیٰ حکیم ایڈووکیٹ کی اپیل پر 29اکتوبر بروز بدھ کی تاریخ ڈال دی ہے، تاحال ان دونوں بھائیوں کے کاغذات مسترد ہیں جبکہ ان کا تیسرا بھائی رانا شفقت رسول کے کاغذات نامزدگی منظور ہوئے ہیں، اس حلقہ میں میاں طاہر جمیل کے مقابلہ میں کوئی بھی سیاسی قدکاٹھ والا امیدوار موجود نہیں ہے۔ اس طرح حلقہ پی پی115 کا الیکشن فی الحال میاں طاہر جمیل کے حق میں ”ون سائیڈڈ” ہے۔ تاہم اگر الیکشن ٹربیونل سے رانا مرتضیٰ حکیم ایڈووکیٹ کو الیکشن لڑنے کی اجازت مل جاتی ہے تو صورتحال یکسر مختلف ہو سکتی ہے۔ اسی طرح حلقہ پی پی116 میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے نامزد امیدوار رانا احمد شہریار خاں ماضی کی نسبت اس بار انتہائی سنجیدگی اور جوش وخروش کے ساتھ انتخابی مہم چلا رہے ہیں، انہی کے دھڑے کے خواجہ اسد اعجاز منا بھی میدان میں اتر چکے ہیں، جن کی تاحال سوشل میڈیا پر کافی دھوم ہے۔ وہ ہر حال میں رانا احمد شہریار خاں کے مقابلہ میں الیکشن لڑنے کا اعلان کر چکے ہیں۔ اس حلقہ میں سابق ایم پی اے ملک اصغر علی قیصر ایڈووکیٹ آزاد امیدوار کے طور پر میدان میں موجود ہیں جو رانا احمد شہریار خاں کو ٹف ٹائم دینے کیلئے پوری طرح سے تیار ہیں۔ سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ ملک اصغر علی قیصر ایڈووکیٹ اور رانا احمد شہریار خاں کے درمیان سخت مقابلہ متوقع ہے۔ حلقہ این اے96 جڑانوالہ میں مسلم لیگ (ن) نے سابق ایم این اے ملک نواب شیر وسیر کی جگہ پر سینیٹر طلال بدر چوہدری کے بھائی بلال بدر چوہدری کو پارٹی ٹکٹ دیکر اس حلقہ کے ووٹرز’ سپورٹرز کو سرپرائز دیا ہے، اب دیکھتے ہیں کہ سابق ایم این اے ملک نواب شیر وسیر کیا سیاسی حکمت عملی اختیار کرتے ہیں اگر وہ الیکشن لڑتے ہیں تو بلال بدر چوہدری کو ٹف ٹائم دینگے۔ کیونکہ اس حلقہ میں ملک نواب شیر وسیر کا اچھا خاصا ووٹ بنک اور سیاسی اثرورسوخ ہے۔ حلقہ این اے104 فیصل آباد میں سابق اپوزیشن لیڈر راجہ ریاض احمد کے بیٹے بیرسٹر راجہ دانیال کو مسلم لیگ (ن) کا ٹکٹ ملنے پر لیگی کارکن ناراض نظر آ رہے ہیں۔ اس حلقہ میں فی الحال کوئی دوسرا امیدوار سامنے نہیں آیا جو بیرسٹر راجہ دانیال کو مقابلہ کر سکے۔ رانا احسان افضل نے پارٹی قیادت کا فیصلہ قبول کرتے ہوئے خاموشی اختیار کر لی ہے مگر ان کی خاموشی راجہ فیملی کیلئے پریشانی کا سبب بن سکتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں