16

طالبان بھارت اعلامیہ پر پاکستان کے تحفظات

کراچی (بیوروچیف) پاکستان نے بھارت افغان مشترکہ بیان کے بعض عناصر پر سخت تحفظا ت کا اظہار کیا ہے۔ یہ بیان10اکتوبر کو نئی دہلی سے جاری کیا گیا اور اس حوالے سے پاکستان کے تحفظات دفتر خارجہ میں افغانستان کے سفیر کو پہنچا دیے گئے ہیں۔ انہیں پیغام دیا گیا ہے کہ جموں و کشمیر کو بھارت کا حصہ قرار دینا اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی صریح خلاف ورزی ہے ۔مشترکہ بیان بھارت کے ناجائز قبضے میں زندگیاں گزارنے والے مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام کی قربانیوں اور جذبات سے بڑی بے حسی کا مظہر ہے جو انہوں نے حق خودارادیت کے حصول کیلیے دیں۔ پاکستان نے افغان عبوری وزیرِ خارجہ کے اس بیان کو بھی سختی سے مسترد کیا کہ دہشت گردی پاکستان کا داخلی مسئلہ ہے۔ پاکستان متعدد مواقع پر یہ تفصیلات فراہم کر چکا ہے کہ فتنہ خوارج اور فتنہ ہندوستان سے وابستہ دہشت گرد عناصر افغان سرزمین سے پاکستان کے خلاف سرگرم ہیں اور انہیں افغانستان کے اندر موجود بعض عناصر کی اعانت حاصل ہے۔ یہ واضح کیا گیا کہ دہشت گردی کی ذمہ داری پاکستان پر ڈال دینا، افغان عبوری حکومت کو اس کے علاقائی امن و استحکام کے تقاضوں سے بری الذمہ نہیں کر سکتا۔پاکستان نے یہ بھی اجاگر کیا کہ اچھے ہمسایگی اور اسلامی اخوت کے جذبے کے تحت پاکستان نے گزشتہ چار دہائیوں سے تقریبا چالیس لاکھ افغان مہاجرین کی میزبانی کی ہے۔ اب جبکہ افغانستان میں امن بتدریج بحال ہو رہا ہے، تو پاکستان میں غیر مجاز طور پر مقیم افغان شہریوں کے لیے اپنے وطن واپسی کا وقت آ گیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں