11

طالبان کی تعلیم دشمنی،سینکڑوں عوامی کتابوں پر پابندی عائد

کابل (مانیٹرنگ ڈیسک) افغانستان میں طالبان حکومت کی تعلیمی اور فکری پالیسیوں پر ایک بار پھر شدید سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔مختلف تحقیقی اداروں اور مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق طالبان نے یونیورسٹیوں کی نصابی کتب سمیت سینکڑوں عوامی کتابوں پر پابندی عائد کر دی ہے، جس سے ملک میں تعلیمی سرگرمیاں شدید متاثر ہو رہی ہیں۔دی افغانستان اینالیسٹس نیٹ ورک (AAN)کے مطابق طالبان نے 670 سے زائد یونیورسٹی سطح کی نصابی کتب اور بڑی تعداد میں عمومی مطالعے کی کتابوں کو ممنوع قرار دیا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ انسانی حقوق، جمہوریت، آئینی قانون، انتخابی نظام، سوشیالوجی اور فلسفہ اخلاق جیسے مضامین کو یا تو مکمل طور پر ختم کر دیا گیا ہے یا شدید حد تک محدود کر دیا گیا ہے۔ذرائع کے مطابق خواتین مصنفین اور ایرانی لکھاریوں کی کتب بھی پابندی کی زد میں آئی ہیں۔ طالبان نے اہم تاریخی اور سیاسی موضوعات پر مبنی کتب کو بھی ممنوع قرار دیا ہے، جس سے علمی تحقیق اور آزادانہ مطالعہ تقریبا ناممکن ہو گیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں