عالمی ادارہ صحت کے بجٹ میں20فیصد کمی کا فیصلہ

اسلام آباد (بیوروچیف) عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے امریکا کی جانب سے دستبرد ا ری کے فیصلے کے بعد اپنے بجٹ کا پانچواں حصہ کم کرنے کی تجویز پیش کردی۔غیر ملکی خبر رساں ادارے “اے ایف پی” کے مطابق ڈبلیو ایچ او کے سربراہ کی جانب سے بھیجی گئی ایک اندرونی ای میل میں اس بات کا انکشاف کیا گیا ہے۔ڈبلیو ایچ او کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس اذانوم گیبریئس نے اقوام متحدہ کی ایجنسی کے عملے کو بھیجے گئے پیغام میں کہاہے کہ عالمی ادارہ صحت کو 2025 میں تقریبا60 کروڑڈالر کی کمی کا سامنا ہے اوراس کے پاس بجٹ میں کٹوتی کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے۔جنوری میں ڈونلڈ ٹرمپ نے دوبارہ صدرمنتخب ہونے کے بعد دنیا بھر میں صحت کو فروغ دینے کے لیے وسیع امداد سمیت، عملی طور پر تمام غیر ملکی امداد کو منجمد کرنے کا فیصلہ کیاتھا،امریکا اب تک ڈبلیو ایچ او کا سب سے بڑا ڈونر تھا۔ڈائریکٹر جنرل ڈبلیو ایچ او کا ای میل میں کہنا تھا کہ امریکا اور دیگر کی طرف سے آفیشل ڈویلپمنٹ اسسٹنٹس (امداد) میں ڈرامائی کٹوتیاں ممالک،این جی اوز اوراقوام متحدہ کی ایجنسیوں بشمول ڈبلیو ایچ او کو بڑے پیمانے پرمتاثر کر رہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ ٹرمپ کی جانب سے ڈبلیو ایچ او سے دستبرداری کے ایک سالہ عمل کوشروع کرنے سے قبل ہی ادارے کو مالی مشکلات کا سامنا ہے، اور اس نے 9 ماہ سے بھی زیادہ عرصہ قبل اس حوالے سے اقدامات پر کام شروع کردیا تھا۔ٹیڈروس اذانوم گیبریئس کا کہنا تھا کہ کچھ ممالک کی طرف سے بڑھتے ہوئے دفاعی اخراجات کو فنڈ دینے کے لیے امداد میں حالیہ کمی کے درمیان امریکا کے اعلان نے ہماری صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم نے اخراجات میں خاطر خواہ بچت حاصل کی،موجودہ اقتصادی اور جغرافیائی سیاسی حالات نے وسائل کو متحرک کرنا خاص طور پر مشکل بنا دیا ہے، اس کے نتیجے میں ہمیں صرف اس سال تقریبا 60 کروڑ ڈالر کی آمدنی کے فرق کا سامنا ہے۔گزشتہ ماہ ڈبلیو ایچ او کے ایگزیکٹو بورڈ نے 27-2026 کے لیے مجوزہ بجٹ کو 5.3 ارب ڈالر کے مقابلے میں کم کر کے 4.9 ارب ڈالر کر دیا تھا۔ٹیڈروس اذانوم گیبریئس نے کہا ہیکہ تب سے ترقیاتی امداد کا منظرنامہ نہ صرف ڈبلیو ایچ او بلکہ پورے بین الاقوامی صحت کے ماحولیاتی نظام کے لیے خراب ہو گیا ہے،اس لیے ہم نے رکن ممالک کو تجویز پیش کی ہے کہ بجٹ کو مزید کمی سے 4.2 ارب ڈالر کردیاجائے جو اصل مجوزہ بجٹ سے 21 فیصد کمی ہے۔عالمی ادارہ صحت کے آخری 2 سالہ بجٹ سائیکل میں23-2022 کے لیے امریکا کی جانب سے 1.3 ارب ڈالر دیے گئے تھے جو ڈبلیو ایچ او کے اس وقت کے 7.89 ارب ڈالرکے بجٹ کا 16.3 فیصد حصہ تھا۔ٹیڈروس اذانوم گیبریئس کا کہنا تھا کہ بہترین کوششوں کے باوجود ہم اس مقام پر ہیں، جہاں ہمارے پاس اپنے کام اور افرادی قوت میں کمی کے سوا کوئی چارہ نہیں۔واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ڈبلیو ایچ او کی رکنیت چھوڑنے کا اعلان کیا تھااوراس فیصلے کا اطلاق 22 جنوری 2026 کو ہونا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں