عالمی سطح پر پاکستان کی کامیابیوں کی بازگشت (اداریہ)

بھارت کی طرف سے پہلگام واقعہ کے بعد پاکستان پر جارحیت اور پاکستان کو دھمکیاں دینے کے جواب میں پاکستان کے بھارت پر حملہ اور اس کے 6طیارے گرانے اور اس کے متعدد وائر بیسز تباہ کرنے کی خبروں کے بعد پاکستان کی افواج کی بہادری کے عالمی طور پر چرچے ہوئے بھارتی وزیراعظم نے اپنی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کیلئے اپنی کابینہ کو عالمی طور پر پاکستان کے خلاف پراپیگنڈہ کرنے کی ہدایت کی اخبارات نے اور بھارتی حکمراں پارٹی کے ذمہ داران نے پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی کی مگر دنیا نے بھارتی پراپیگنڈے کو نظرانداز کرتے ہوئے پاکستان کی کامیابیوں کی تعریف کی امریکی صدر ٹرمپ نے بھی پاکستان کی کامیابی کو سراہا جس کے بعد بھارت اپنا سا منہ لیکر رہ گیا پاکستانی حکومت نے عالمی سفارت کاری میں بھی کامیابیاں حاصل کیں جو خوش کن ہیں دنیا پاکستان کے ذمہ دارانہ کردار کو تسلیم کر رہی ہے مودی سرکار اپنی ہٹ دھرمی’ انتہاپسندانہ سوچ کے باعث اس وقت عالمی طور پر تنہا ہو چکے ہیں پاکستان کی عالمی سطح پر اہمیت میں اضافہ ہو رہا ہے امریکہ پہلی بار انسداد دہشتگردی کے حوالے سے پاکستان کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑا ہے پاک بھارت جنگ کے نتیجے میں واشنگٹن کو اس بات کا شدت سے احساس ہو چکا ہے کہ اگر دنیا کو ایٹمی جنگ سے بچانا ہے تو خطے میں امن نہایت ضروری ہے اس وقت پاکستان عالمی سفارت کاری کی ایک ایسی نایاب پوزیشن پر کھڑا ہے جہاں بیک وقت واشنگٹن بیجنگ اور تہران کے درمیان باہمی تعلقات بہتر بنانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں اگر پاکستان مستقبل میں اپنی متوازن خارجہ پالیسی کو برقرار رکھنے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو عالمی سفارت کاری کا ایک کلیدی کھلاڑی بن کر ابھرے گا پاکستان موجودہ عالمی صورت حال میں اپنے کارڈ جتنے بہتر انداز میں کھیلے گا نتائج اتنے ہی اچھے برآمدہو نگے توقع رکھی جا سکتی ہے کہ پاکستان اپنے اہم ترین مفادات کے حصول کیلئے دو بڑی سپرپاورز کو عالمی اقتصادی استحکام وامن کی شرائط پر خطے میں یکساں مفادات کی کوئی ایسی پیشکش کرے کہ جس سے سی پیک منصوبہ ورلڈ گیم چینجر بن کر ابھرے اور امریکہ پاکستان کی قیمتی معدنیات کے ذخائر سے کھربوں ڈالر کمائے وسیع تر امکانات کا جائزہ لیا جائے تو سی پیک منصوبے میں افغانستان وسط ایشیائی ممالک کی شمولیت مستقبل میں روس کو بھی اس منصوبے کا شراکت دار بنا سکتی ہے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی صدر ٹرمپ سے ملاقات اور حالیہ دورہ امریکہ اپنے مثبت اشاریے ظاہر کر رہا ہے عالمی سیاست کی بساط پر فیلڈ مارشل عاصم منیر کی امریکی صدر سے ملاقات ایک ایسی اہم پیش رفت ہے جس نے واشنگٹن سے نئی دہلی اور اسلام آباد کے ایوانوں تک ہلچل مچا رکھی ہے، پاکستان کی عالمی سطح پر کامیابیوں کی دھوم مچی ہوئی ہے اس وقت بھارت مشکلات میں گھر چکا ہے امریکہ نے بھی بھارت پر سخت ہاتھ رکھ دیا ہے جبکہ بھارت میں مودی کے خلاف آوازیں بلند ہونا شروع ہو چکی ہیں اور ان کا اقتدار ڈانواڈول ہو رہا ہے اس وقت ضرورت ہے کہ بھارت پاکستان کے ساتھ بہتر تعلقات کیلئے مذاکرات کا آغاز کرے اور تمام تصنیفہ طلب مسائل کے حل کیلئے سنجیدہ کوششیں کرے تاکہ جنوبی ایشیا میں قیام امن کی راہ ہموار ہو سکے بھارتی وزیراعظم کو اس بات کا تو اندازہ ہو چکا ہے کہ پاکستان کو جھکانے کی تمام سازشیں دم توڑ چکی ہیں اور اب مذاکرات سے ہی بھارت اپنی ساکھ برقرار رکھ سکتا ہے پاکستان کو عالمی سطح پر جو پذیرائی مل رہی ہے وہ خوش آئند ہے امید ہے اﷲ کی مدد سے پاکستان کو مزید کامیابیاں حاصل ہونگی پوری دنیا تجارتی تعلقات کے ساتھ ساتھ خوشگوار تعلقات قائم رکھنے کیلئے پاکستان کے ساتھ رابطے بڑھائے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں