عالمی منظر نامے میں ہلچل،روس اور چین امریکہ کیخلاف متحد ہوگئے

ماسکو(مانیٹرنگ ڈیسک) روس اور چین کی قیادت نے دفاعی اتحاد کے تحت ایران اور وینزویلا پر مشترکہ حکمت عملی اپنانے کا فیصلہ کر لیا۔غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق روسی وزیر دفاع اور چینی ہم منصب کے درمیان ویڈیو لنک پر رابطہ ہوا، دونوں رہنماں نے عالمی سکیورٹی کی بدلتی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔روسی وزیر دفاع آندرے بیلوسوف کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کو عالمی سکیورٹی صورتحال کا تجزیہ کرتے رہنا چاہیے، عالمی ماحول میں تیز تبدیلیوں کے پیش نظر مشترکہ جوابی اقدامات ضروری ہیں۔بیلوسوف نے کہا کہ مستقل فوجی تعاون اور تجربات کا تبادلہ دونوں ممالک کیلئے ناگزیر ہے، خطرے کا بروقت اور مثر جواب دینے کیلئے ہم آہنگی ضروری ہے۔دوسری طرف چینی وزیر دفاع ڈونگ جون نے روسی ہم منصب کے مقف کی مکمل تائید کی، چینی وزیر دفاع نے سٹریٹجک تعلقات مزید مضبوط بنانے اور ہنگامی صورتحال میں مشترکہ ردعمل دینے پر زور دیا۔دریں اثناء ۔تہران /واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک) مشرقِ وسطی میں کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے، جہاں امریکی بحری بیڑے کی آبنائے ہرمز آمد اور ایران کے فوری ردعمل نے خطے کے سیاسی اور فوجی توازن کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ایران نے 3 روزہ فوجی مشقوں کا اعلان کرتے ہوئے آبنائے ہرمز کے قریب اپنی فضائی حدود 25,000 فٹ کی بلندی تک بند کر دی ہیں۔ ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکی جہاز ایرانی سمندری حدود میں داخل ہوئے تو ان پر حملہ کیا جائے گا۔ ادھر سعودی عرب نے بھی واضح کیا ہے کہ وہ ایران کے خلاف کسی بھی کارروائی کے لیے اپنی فضائی حدود یا سرزمین استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے گا، جس سے اس کشیدہ صورتحال میں مزید پیچیدگیاں پیدا ہو گئی ہیں۔ایران نے آبنائے ہرمز کے قریب 3 روزہ لائیو فائر فوجی مشقوں کا نوٹس جاری کیا ہے، جس کے مطابق یہ مشقیں 27 تا 29 جنوری تک 5 ناٹیکل میل کے دائرے میں انجام پائیں گی۔ اس دوران 25,000 فٹ تک کی بلندی میں پروازیں ممنوع قرار دی گئی ہیں اور یہ علاقہ خطرناک قرار دیا گیا ہے۔ایرانی پاسداران انقلاب نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ اگر امریکی جہاز ایرانی سمندری حدود میں آئے تو فوری کارروائی کی جائے گی۔ پاسدران انقلاب کے مطابق امریکی صدر گفتگو زیادہ کرتے ہیں، مگر جنگ کا فیصلہ میدان میں ہوگا۔ ایرانی حکام نے مزید کہا کہ اس فوجی مشق کے دوران ایران کی دفاعی تیاریوں اور نگرانی کو بڑھا دیا گیا ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ جارحیت کا مثر جواب دیا جا سکے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا کہ ایک امریکی بحری بیڑا ایران کی جانب بڑھ رہا ہے اور امید ہے کہ ایران مذاکرات کے ذریعے مسئلہ حل کر لے گا۔ امریکی بحری بیڑے میں یو ایس ایس ابراہم لنکن سمیت کئی گائیڈڈ میزائل ڈسٹرائرز شامل ہیں، جبکہ لڑاکا طیارے اور جدید فضائی دفاعی نظام بھی خطے میں منتقل کیے جا رہے ہیں۔صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکی افواج خطے میں اپنی تیاریوں کو بڑھا رہی ہیں تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری ردعمل دیا جا سکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ اقدامات ایران کی جوہری صلاحیت کو محدود کرنے اور خطے میں امریکی مفادات کے تحفظ کے لیے ضروری ہیں۔واشنگٹن میں حکام کا کہنا ہے کہ ایران کے حوالے سے تمام آپشنز زیرِ غور ہیں، جس میں ممکنہ فوجی کارروائی بھی شامل ہے۔ اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے بھی خبردار کیا کہ اگر ایران نے اسرائیل پر حملہ کیا تو ایسا جواب دیا جائے گا جو ایران نے پہلے کبھی نہیں دیکھا۔سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے ٹیلی فونک گفتگو میں کہا کہ سعودی عرب اپنی فضائی حدود یا سرزمین کو ایران کے خلاف کسی بھی فوجی کارروائی کے لیے استعمال نہیں ہونے دے گا۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب ایران کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام کرتا ہے اور خطے میں تنازعات کے حل کے لیے مکالمے کی حمایت کرتا ہے۔ایرانی صدر نے سعودی عرب کے مقف کا خیرمقدم کیا اور کہا کہ اسلامی ممالک کے درمیان اتحاد اور یکجہتی خطے میں دیرپا امن، استحکام اور سلامتی کی ضمانت بن سکتی ہے۔ دونوں رہنماں نے امن، سلامتی اور پائیدار ترقی کے فروغ کے لیے تعاون جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی ترسیل کا ایک اہم نقطہ ہے، جہاں سے دنیا کے تقریبا ایک تہائی تیل کی ترسیل ہوتی ہے۔ ایران کی فوجی مشقیں، فضائی پابندیاں اور امریکی بحری بیڑے کی آمد نے عالمی تیل مارکیٹ میں تشویش پیدا کر دی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اگر حالات مزید کشیدہ ہوئے تو خطے میں نقل و حمل اور عالمی توانائی منڈی پر نمایاں اثر پڑ سکتا ہے۔خطے میں اس کشیدگی نے نہ صرف ایران اور امریکہ بلکہ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور دیگر خلیجی ممالک کے لیے بھی اہم چیلنجز پیدا کر دیے ہیں۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ اپنی سرزمین یا فضائی حدود کو کسی جارحانہ کارروائی کے لیے استعمال نہیں ہونے دیں گے، جس سے خطے میں سیاسی توازن برقرار رکھنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا کا ایک بڑا بحری بیڑا ایران کی جانب بڑھ رہا ہے، تاہم امید ہے کہ اسے استعمال کرنے کی نوبت نہیں آئے گی۔ دوسری جانب اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران نے اسرائیل پر حملہ کیا تو جواب ایسی قوت سے دیا جائے گا جو ایران نے پہلے کبھی نہیں دیکھی ہوگی۔ایرانی حکام نے پڑوسی ممالک کو خبردار کیا ہے کہ اگر ان کی زمین، فضائی حدود یا پانی ایران کے خلاف استعمال ہوا تو انہیں دشمن تصور کیا جائے گا۔ تاہم سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے ایران کو یقین دہانی کرائی ہے کہ ان کی سرزمین یا فضائی حدود کسی بھی معاندانہ کارروائی کے لیے استعمال نہیں ہونے دی جائیں گی۔ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی عسکری نقل و حرکت اور سخت بیانات نے خطے کو ایک نازک موڑ پر لا کھڑا کیا ہے۔ عالمی برادری کی نظریں اس بات پر جمی ہیں کہ آیا یہ کشیدگی محض دبا کی سیاست تک محدود رہے گی یا آبنائے ہرمز ایک نئے تنازع کا مرکز بننے جا رہی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں