عالمی کاروباری لین دین 12607 کھرب تک پہنچ گیا

کراچی (بیوروچیف) 2025میں دنیا بھر میں کمپنیوں کے بیچ لین دین کا حجم پہلی بار 12607کھرب 25ارب روپے (4.5 ٹریلین ڈالر) تک پہنچ گیا، جو گزشتہ 40سال میں دوسرا سب سے بڑا سال ہے۔ کاروباری انضمام اور خریداری مارکیٹ میں زبردست اضافہ، رواں برس میں 68بڑی ڈیلیں ریکارڈسرمایہ کاری بینکوں کی فیسیں بھی تاریخ کی دوسری بلند ترین سطح تک پہنچ گئیں،سب سے بڑی پرائیویٹ ایکویٹی ڈیل سعودی عرب کے پبلک انویسٹمنٹ فنڈ کی ویڈیو گیم کمپنی الیکٹرانک آرٹس کی 55ارب ڈالر کی خریداری رہی،ماہرین کا کہنا ہے کہ تیزی کی بنیادی وجوہات مالیاتی مارکیٹ کی مضبوطی، آسان فنانسنگ اور امریکہ میں ریگولیٹری سختی میں کمی ہیں۔ فنانشل ٹائمز کے مطابق2025میں عالمی سطح پر کاروباری لین دین پہلی بار چار ٹریلین ڈالر سے تجاوز کر گیا، جو 2021کی تیز رفتار مارکیٹ کے بعد دوسرا سب سے بڑا سال ہے۔سال میں ہونے والی بڑی ڈیلوں کی تعداد اتنی زیادہ رہی کہ اس سے سرمایہ کاری بینکوں کی فیسیں بھی تاریخ کی دوسری بلند ترین سطح تک پہنچ گئیں۔ لندن اسٹاک ایکسچینج گروپ کے مطابق سال بھر میں 68 بڑی ڈیلیں (ہر ایک کی مالیت 10ارب ڈالر یا اس سے زائد) مختلف صنعتوں میں کی گئیں، جس سے سرمایہ کاری بینکنگ کی فیسیں بھی ریکارڈ سطح تک پہنچیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں