71

عام آدمی کہاں جائے…

ملک میں بڑھتی ہوئی غربت’ مہنگائی اور بیروزگاری نے عام آدمی کو سخت پریشان کر رکھا ہے، حکمرانوں کی جانب سے ملک کو ڈیفالٹ سے بچانے کیلئے ”مشکل فیصلوں” کے نام پر بجلی وگیس کی قیمتیں بڑھائی جاتی ہیں تو کاروباری لوگ پیداواری لاگت میں اضافے کو ”جواز” بنا کر اشیائے ضروریہ کی قیمتیں بڑھا دیتے ہیں، مہنگائی نے لوگوں کو اس قدر پریشان کر دیا ہے کہ اب عام لوگوں کو یہ کہتے سنا جا رہا ہے کہ ملک ڈیفالٹ کرے نہ کرے، غریب اور متوسط طبقہ ڈیفالٹ کر چکا ہے، حکومت کو آئی ایم ایف سے قرضہ لینے کیلئے ان کے مطالبات ماننا پڑ رہے ہیں اور عالمی مالیاتی ادارے کو نجکاری پروگرام پر کام تیز کرنے کی یقین دہانی بھی کروا دی گئی ہے، وفاق نے نجکاری کے ذریعے بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں سے جان چھڑوانے کا پلان تیار کر لیا ہے جس کے تحت بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کو نجی شعبے کے حوالے کر دیا جائے گا، عام لوگوں کا کہنا ہے کہ بجلی کی قیمتیں بڑھتے رہنا مہنگائی میں اضافے کی بڑی وجہ ہے جبکہ اب گیس کی قیمتوں میں بھی ہوشرباء اضافہ کر دیا گیا ہے اور یہ سلسلہ رُکنے کا نام نہیں لے رہا، سوئی سدرن گیس کمپنی کے بعد سوئی ناردرن نے بھی گیس مزید مہنگی کرنے کی درخواست کر دی ہے اور گیس کی قیمت میں 147 فیصد تک مزید اضافہ مانگا گیا ہے، بجلی وگیس کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کے نتیجہ میں صارفین کو جو بل موصول ہو رہے ہیں، عام لوگ انہیں ادا کرنے کی سکت نہیں رکھتے، ان کی بڑی تعداد نے بجلی وگیس کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کیخلاف آواز اٹھانا شروع کر دی ہے، بجلی کے بلوں میں ٹیکسوں کی بھرمار بھی لوگوں کے لیے ”درد سر” ہے جس سے ان کی پریشانیاں بڑھتی چلی جا رہی ہیں، اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ ملک میں عام آدمی کے لیے بنیادی ضروریات زندگی پوری کرنا مشکل بن چکا اور ستم بالائے ستم یہ کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بھی آسمان پر پہنچ چکی ہے، اگرچہ اس بار 15روزہ جائزہ کے بعد پٹرول کی قیمتیں نہیں بڑھائی گئیں مگر چند سالوں اور گزشتہ مہینوں کے دوران پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہونے والا اضافہ لوگوں کے لیے شدید مشکلات پیدا کرنے کا باعث بنا ہے، اس وقت عام لوگوں کیلئے دو وقت کی روٹی تو درکنار ایک وقت کا کھانا بھی مشکل بن گیا ہے جبکہ کئی لوگوں کے گھروں کے چولہے ٹھنڈے پڑ چکے اور وہ فاقوں پر مجبور ہیں، موجودہ حالات نے لوگوں کو ایسے بھنور میں پھنسا دیا ہے کہ وہ چکرا کر رہ گئے ہیں، اس وقت صورتحال ایسی ہو چکی ہے کہ ہر آدمی بجلی وگیس کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ سے پریشان نظر آتا ہے، بجلی کی قیمت تو ایک طرف بل میں موجود ٹیکسوں کی بھرمار ہی بجلی بل میں ہوشرباء اضافہ کیلئے کافی ہے اور رہی سہی کسر گیس مہنگی کر کے نکال دی گئی ہے اس صورتحال نے عام لوگوں کو متاثر کر کے ان کے دن کا سکون اور راتوں کی نیندیں چھین لی ہیں، یہ بات لمحہ فکریہ ہے کہ بجلی بلوں میں صارفین پر غیر مساوی اور غیر منصفانہ ٹیکسوں کے نفاذ کا انکشاف ہوا ہے، بجلی بلوں پر صارفین کی آمدن کے قطع نظر بجلی ڈیوٹی نافذ ہے جس کی کوئی قانونی حیثیت نہیں، وفاقی ٹیکس محتسب کی انکوائری سے اس بات کا پتہ چلا ہے کہ صارفین خاص طور پر کم آمدنی والے افراد اپنے بجلی بلوں پر انکم ٹیکس اور سیلز ٹیکس کا بوجھ برداشت کر رہے ہیں اور ان کی آمدنی قابل ٹیکس آمدنی کی حد سے نیچے ہونے کے باوجود ان پر مختلف ٹیکسز عائد کئے گئے ہیں، وفاقی ٹیکس محتسب نے ایف بی آر کو ہدایت جاری کی ہے کہ صارفین کو بجلی کے بلوں پر ضرورت سے زیادہ ٹیکسوں سے بچانے اور بلوں میں ٹیکسوں کے نفاذ میں بہتری کیلئے کمیٹی تشکیل دی جائے، اس ہدایت پر فوری عمل ہونا چاہیے مگر ستم ظریفی دیکھئے کہ بجلی کی قیمت میں چار روپے ننانوے پیسے فی یونٹ مزید اضافے کی درخواست جمع کروا دی گئی ہے، جس پر چیئرمین نیپرا کا کہنا ہے کہ بجلی کی قیمت میں مزید اضافے کی درخواست پرتشویش ہے،اپنے ضمیر کوجواب دینا ہے اورعوام کو بھی،اب توہم تھک چکے ہیں،کمپنیاں معاملات سیدھے کر لیں اوراپنی نااہلی کی سزا عوام کو نہ دیں،یہ حقیقت روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ مہنگائی سے تنخواہ داراوردیہاڑی دارطبقہ سب سے زیادہ متاثر دکھائی دیتا ہے،مزدورکی دیہاڑی بارہ سو روپے ہے،ذرا سوچیئے،دیہاڑی داربیچارہ اس سے ضروریات زندگی کیسے پوری کریگا اور اس بیچارے کے پاس قرض لینے یا دست سوال دراز کے سوا کونسا راستہ بچے گا، دیہاڑی دارکی طرح تنخواہ دارطبقے کو بھی شدید پریشانیوں کا سامنا ہے،اکثرپرائیویٹ ملازمین کی تنخواہ چارسال پرانی ہے جبکہ مکان کا کرایہ دوگنا ہوچکا ہے،بچوں کی اسکول فیس میں 80فیصد اضافہ ہوا جبکہ ایک ہزاروالی کتابیں کاپیاں اب پانچ ہزارپانچ سوروپے میں مل رہی ہیں،جن لوگوں کوتین سوروپے گیس بل آتا تھا انہیں اب چارہزار روپے بل وصول ہونا لمحہ فکریہ ہے،دوہزارروپے والا بجلی بل چارسالوں میں پندرہ ہزار روپے تک جا پہنچا،آٹھ سوروپے والا آٹا بائیس سوروپے میں ملنے گا،ڈیڑھ سو روپے کلو والا بناسپتی گھی چھ سوروپے اورپانچ روپے والی روٹی بیس روپے میں بکنے لگی ہے،سبزیوں،پھلوں کی قیمتوں میں اضافے کیساتھ ساتھ دالیں بھی مہنگی ہوچکی ہیں،کرایوں میں نمایاں اضافہ ہوا جبکہ ڈاکٹروں کی فیسیں بڑھنے سے عام آدمی کیلئے دوا لینا بھی مشکل بن گیا ہے،ان حالات میں غریب اورمتوسط طبقہ اپنا گزرکیسے کریگا؟یہ سوال ہم سب کو دعوت فکر دے رہا ہے،الحمدللہ!ایک بارپھررمضان المبارک ہماری زندگیوں میں آیا ہے،وہ لوگ خوش بخت ہیں جو اس مہینہ کی قدرکرتے ہیں، روزہ روحانی اورایمانی تربیت کا ذریعہ ہے،اس میں نفس کواللہ تعالیٰ کی اطاعت وفرماں برداری اوررضائے الٰہی کے حصول کا عادی بنایا جاتا ہے،روزے کی ایک حکمت اورراز یہ ہے کہ بندے کوکھانے پینے اوردیگرنعمتوں کی قدر ہواوران لوگوں کی محرومی کا احساس ہوجن کے پاس یہ نعمتیں نہیں اوراکثروبیشتربھوکے پیاسے رہتے ہیں، جوبندہ ان محروم لوگوں کی دادرسی کرے،اسے ان نعمتوں کا دوام عطاء ہوتا ہے،لیکن دوسروں کی دادرسی کے کام کوراز داری سے کرنا چاہیے تاکہ کسی کی دل آزاری نہ ہو،موجودہ حالات عام لوگوں کیلئے سخت پریشان کن ہیں، بالخصوص بجلی وگیس کی قیمتیں بڑھنا لوگوں کیلئے ناقابل برداشت بن چکا ہے لہذا حکمرانوں کوچاہیے کہ وہ اس سلسلے میں اپنی ذمہ داریوں کا احساس کریں اورعوام کوریلیف فراہم کرنے کیلئے اقدامات اٹھائے جائیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں