عبدالستار نعیم عاشق رسولۖ اور خوبصورت سیرت نگار

عبدالستار نعیم ایک محب وطن عاشق رسول اور سادہ مگر پروقار شخصیت کے طور پر پہچانے جاتے ہیں علمی گھرانے سے تعلق نے ان کو سیرت رسول پر خوبصورت کتابیں لکھنے پر مجبور کر دیا سیرت پر اشعار کے ذریعے دل کی کیفیت اور نبی صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم سے محبت اور اور عشق بیان کرنے کا کام کوئی آسان نہیں ہے یہ وہی کر سکتا ہے جو دل کے اندر درد اور تڑپ رکھتا ہو اور یہ اعزاز اللہ تعالیٰ نے انجینئر عبدالستار نعیم کو دیا ہے موصوف سے میرا پہلا تعارف 92 میں ہوا اس وقت وہ با اصول اور دیانت دار افیسر تھے اور اج 2026 میں ایک عاشق رسول علمی شخصیت اور خوبصورت سیرت نگار کے طور پر ان سے ملاقات ہوئی رفا انٹرنیشنل یونیورسٹی میں انجینئرنگ کالج اور بعد ازاں اقبال چیئر کے ڈائر یکٹر کے طور پر علمی خدمات سر انجام دے رہے ہیں چند دن پہلے میں نے ان سے ملنے کی خواہش کا اظہار کیا تو انہوں نے بڑی محبت سے فرمایا آپ رفا یونیورسٹی آ جائیں انشاللہ ملاقات ہو جائے گی میں وقت مقررہ سے کچھ لیٹ پہنچا جس کا مجھے بھی احساس ہو رہا تھا محترم عبدالستار نعیم میرا انتظار کر رہے تھے وقت کی پابندی کوئی ان سے سیکھے میں نے لیٹ پہنچنے پر معزرت کی انہوں نے بڑی محبت اور شفقت سے گلے لگایا کم و پیش ایک گھنٹہ ملاقات رہی اس دوران عبداللہ گارڈن سے ایک قاری تشریف لے آئے جن کی ملاقات پہلے سے طے شدہ تھی انہوں نے رفا انٹرنیشنل یونیورسٹی کی لائبریری کا وزٹ کرنا تھا اقبال چیئر ڈائریکٹر آفس کیا علمی خزانہ ہے ان کے سامنے ٹیبل پر ان کے زیرمطالعہ کتب خوبصورت تربیت کے ساتھ پڑی تھیں ان کے ساتھ تفصیلی گپ شپ ہوئی اور اس موقع پر انہوں اپنی کتاب حضور رسالت مآب صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم میں سے آپ کی شان اور عقیدت و محبت میں لکھے اشعار چیدہ چیدہ پڑھ کے سنائے ان کے سنانے کے انداز سے آپ کی محبت عقیدت و احترام نمایاں نظر آ رہا تھا اس موقع پر انہوں نے اپنی لکھی دو خوبصورت سیرت پر لکھی اشعار کی صورت میں کتابیں حضور رسالت ماب میں اور تمنائے حرم بطور تحفہ پیش کیں اور ان دونوں کتابوں پر اپنے ہاتھوں سے میرا نام لکھ کر اپنے دستخط کے ساتھ تحفہ پیش کی اور یہ میرے لیے بڑے اعزاز کی بات تھی کہ میں ایک بہت بڑے سیرت نگار اور شاعر مشرق علامہ محمد اقبال کے نام سے اقبال چیئر کے ڈائریکٹر سے اتنی عظیم اور مقدس کتابیں وصول کر رہا ہوں میں دعا گو ہوں اللہ تعالی ان کے علم اور عمل اور نبی کریم صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم سے محبت میں مزید اضافہ فرمائے آمین ۔ انجینئر عبدالستار نعیم ایک علمی اور دینی گھرانے سے تعلق کی نسبت سے مفکر اسلام مولانا سید ابوالاعلی مودود ی کے مداح اور معروف عالم دین مفتی سید سیاح الدین کاکا خیل کے عقیدت مند ہیں آپ جماعت اسلامی کے باقاعدہ رکن تو نہ بنے مگر جماعت اسلامی سے دل و جان سے محبت کرتے ہیں میرے والد محترم حضرت مولانا محمد انور کی دینی اور علمی خدمات سے بھی شناسا ہیں مجھے ان سے مل کر یوں لگا کہ ہماری ملاقاتیں و تعارف بہت پرانا ہے ملاقات کے بعد ان سے اپنائیت اور محبت کا احساس بڑھتا گیا کیونکہ ہمارا درد مشترک ہے سیرت پر ان کی دو کتابیں تمنائے حرم اور حضور رسالت ماب میں اتنی خوبصورت دلچسپ اور با برکت ہیں کہ بار بار پڑھتے ہی رہنے کو جی چاہتا ہے جیسے جیسے یہ کتابیں پڑھتے جاتے ہیں عبدالستار نعیم کی نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سچی محبت اور عقیدت نمایاں ہوتی جاتی ہے اگرچہ کم علم رکھنے والا ان کتابوں کو اچھے انداز میں نہیں پڑھ سکتا اور نہ سمجھ سکتا ہے ان کتابوں میں اردو عربی اور فارسی کے الفاظ زیادہ استعمال ہوئے ہیںکتاب میں علامہ اقبال کے اشعار بھی شامل ہیں جو انجینئر عبدالستار نعیم کی علمی اور تعلیمی قابلیت کا منہ بولتا ثبوت ہے عبدالستار نعیم پیشہ کے لحاظ سے انجینئر تھے اللہ نے ان سے اپنے نبی صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کی شان میں کتابیں لکھوا کر ان پر بہت بڑا احسان عظیم کیا ہے اور انشااللہ یہ کتابیں ان کے لیے دنیا و آخرت میں کامیابی کامرانی اور سرخروئی کا وسیلہ بنے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں