59

علاقائی استحکام کیلئے پاک افغان تعلقات میں بہتری ضروری (اداریہ)

افغانستان ہمارا دیرینہ برادر اور ہمسایہ اسلامی ملک ہے جس سے دہائیوں پرانا رشتہ ہے سرحدیں بھی ایک دوسرے سے ملتی ہیں، علاقائی استحکام کیلئے پاکستان اور افغانستان میں بہتر تعلقات دونوں ممالک کیلئے فائدہ مند ہیں اس سلسلے میں بعض غلط فہمیاں دور کرنے کی ضرورت ہے کابل اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشت گردی کیلئے استعمال نہیں ہونے دیتا تو یہ بہت خوش آئند اور دونوں ملکوں کی تجارت کیلئے بہت زیادہ باعث اطمینان ہو گا تسلیم شدہ امر ہے کہ جو ملک تجارتی سطح پر استحکام پاتے ہیں درحقیقت ترقی وخوشحالی کے نئے در کھول رہے ہوتے ہیں پھر ایسے سفر کا آغاز ہوتا ہے جو آنے والی نسلوں کو بھی سنوار دیتا ہے، افغانستان کے لغوی معنی افغانوں کی سرزمین کے ہیں یہ لفظ افغان سے بنا ہے تاریخی طور پر افغان کا اطلاق پشتونوں پر ہوا ہے جو افغانستان کی سب سے بڑی نسلی آبادی ہے یہ 652,864 کلومیٹر رقبہ پر پھیلا ہوا ملک ہے افغانستان کے 34صوبے ہیں کابل اس کادارالخلافہ ہے اگرچہ افغانستان پاکستان کا قدیم ہمسایہ ملک ہے ہم اسلامی رشتے میں بھی بندھے ہوئے ہیں لیکن ہمارے تعلقات میں کبھی گرمجوشی نہیں رہی پاکستان افغانستان سے ہمیشہ بہتر تعلقات کا خواہاں رہا ہے افغانستان پر پہلے روس نے چڑھائی کی پھر امریکہ نے جنگ چھیڑ دی تاہم دونوں بڑی طاقتیں بھی اس سرزمین پر قبضہ کرنے میں نہ صرف ناکام رہیں بلکہ ان کو یہاں سے بھاگنا پڑا امریکہ کی فوجیوں کے انخلاء کے بعد ایک بار پھر افغانستان میں طالبان کی عبوری حکومت ہے جو یہاں کا ظلم ونسق چلا رہی ہے بدقسمتی سے طالبان کی عبوری حکومت کے قیام کے بعد اس سرزمین سے ایک بار پھر پاکستان کے دشمنان کی آشیرباد سے پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیاں شروع ہو گئیں افغان حکومت کے ساتھ معاہدے کے باوجود افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہوئی جس کا پاکستان نے احتجاج کیا اور کابل معاہدہ پر عملدرآمد کیلئے یاددہانی کرائی مگر افغان طالبان حکومت دہشت گرد گروپوں کو ایسی کارروائیوں سے روکنے میں ناکام رہی طویل عرصہ تک افغان مہاجرین کی میزبانی کے باوجود پاکستان میں موجود افغان باشندے دہشت گردوں کے سہولت کار بن گئے اور پاکستان کو اندرونی طور پر نقصان پہنچائے گئے پاکستان نے افغان باشندوں کو ملک بدر کرنے کیلئے مہم چلائی اور بڑی تعداد میں افغانیوں کو پاکستان سے افغانستان بھجوایا جس کے بعد افغان طالبان حکومت اور پاکستان میں کچھ اختلافات کی خبریں گرم رہیں مگر پاکستان نے تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے افغان طالبان حکومت سے تعلقات بہتر بنانے کیلئے کوششیں کیں پاکستان کا آہنی دوست چین بھی اسلام آباد اور کابل کے تعلقات میں بہتری چاہتا ہے پاکستان اور افغانستان دوطرفہ تجارتی تعلقات کیلئے تیار ہیں اور بہت جلد تجارتی راہداری کھول دی جائے گی پاکستان کا افغانستان کے بارے میں موقف اصولی ہے کہ پاکستان میں افغانیوں کے داخلے کیلئے ان کے پاس دستاویزات ہونی چاہئیں ورنہ انٹری نہیں دیں گے۔ پاکستان غیر قانونی افغان باشندوں کی پاکستان میں موجودگی سے بہت نقصان اٹھا چکا ہے اور مزید نقصان نہیں چاہتا لہٰذا اب افغان پاکستان سرحدوں کی کڑی نگرانی کی جا رہی ہے جبکہ دونوں ملکوں کے درمیان تجارت کیلئے بھی اصول وضوابط بنائے گئے ہیں تجارت میں اضافہ کیلئے دونوں ممالک نے ٹیکسوں میں نرمی پر آمادگی ظاہر کی ہے جس کے یقینا اچھے اثرات مرتب ہوں گے افغانستان بھی طویل مدتی علاقائی استحکام کا خواہش مند ہے یہ نہیں ہو گا تو دونوں ملکوں کے باہمی مفادات متاثر ہوں گے دونوں ممالک کے تعلقات کی بہتری کیلئے تعاون ہی وہ راستہ ہے جو خطے کی تقدیر بدل سکتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں