علاقائی ممالک کو سی پیک سے فائدہ اٹھانا چاہیے (اداریہ)

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان اقتصادی راہداری کے دوسرے مرحلے میں داخل ہو رہا ہے ٹرانس افغان ریلوے اور اسلام آباد’ تہران’ استنبول ریلوے کوریڈور پر کام کر رہے ہیں علاقائی وروابط کا فروغ معاشی اور تجارتی انقلاب کا پیش خیمہ ہو گا ان خیالات کا اظہار ریجنل ٹرانسپورٹ منسٹر کانفرنس کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وزیراعظم نے کہا یہ نہایت اہم لمحہ ہے کہ آج ہم سب یہاں ایک مفید اور بامقصد مکالمے کیلئے جمع ہوئے ہیں تاکہ مختلف شعبہ جات میں دوطرفہ اور کثیرالطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے طریقوں پر غور کیا جا سکے پاکستان تاریخی طور پر ایک ایسا مرکز رہا ہے جس کے ذریعے قدیم شاہراہ ریشم سے لیکر آج کے بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے تک مختلف اقوام کی ثقافتیں’ روایات’ اشیاء اور تخلیقی نظریات کا تبادلہ ہوتا رہا ہے ہمارا خطہ ہمیشہ مواقع اور روابط کا مرکز رہا ہے اور بدلتی ہوئی جغرافیائی وسیاسی صورتحال اور معیشت کی بڑھتی ہوئی اہمیت نے ان قدیم راہداریوں میں نئی جان ڈال دی ہے عالمی سطح پر ٹرانسپورٹ اور روابط کے نظام میں تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں معیشت کی بڑھتی ہوئی اہمیت نے اس قدیم گزرگاہ کی اہمیت میں مزید اضافہ کر دیا ہے گوادر کی طویل ساحلی پٹی اور کراچی کی بندرگاہ میری ٹائم سلک روڈ میں شامل ہیں پاکستان اقتصادی راہداری منصوبے کے دوسرے مرحلے میں داخل ہو رہا ہے کاروباری روابط سرمایہ کاری اور مشترکہ خوشحالی پر توجہ مرکوز ہے بڑے منصوبے خطے کی اقتصادی صلاحیتوں کو یکجا کریں گے تجارت’ معیشت اور توانائی میں تعاون سے نئے دور کا آغاز ہو گا وزیراعظم نے کہا ڈیجیٹل دور میں روابط صرف سڑک’ ریل’ فضائی راستوں تک محدود نہیں’ آج کا دور ڈیٹا اور تکنیکی انضمام سے وابستہ ہے، پاکستان ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کے شعبے میں سرمایہ کاری کر رہا ہے نوجوان نسل کو جدید دور کے تقاضوں کے مطابق تربیت کی فراہمی ترجیح ہے،، وزیراعظم شہباز شریف کی علاقائی ممالک کو سی پیک سے فائدہ اٹھانے کی پیشکش بلاشبہ علاقائی ممالک کیلئے جدید دور میں تجارتی سرگرمیوں میں داخل ہونے کی نوید ہے سی پیک منصوبہ ایک انقلابی منصوبہ ہے اور اس منصوبے سے علاقائی ممالک جلد یا بدیر فائدہ اٹھانے پر مجبور ہوں گے جیساکہ ریجنل ٹرانسپورٹ منسٹر کانفرنس میں بتایا گیا پاکستان اقتصادی راہداری کے دوسر مرحلے میں داخل ہو رہا ہے جس کے تحت ٹرانس افغان ریلوے اور اسلام آباد’ تہران’ استنبول ریلوے کوریڈور پر کام ہو رہا ہے جس سے علاقائی روابط میں اضافہ ہو گا اور یہ منصوبہ تجارتی انقلاب برپا کرے گا پاکستان کے عظیم دوست ملک چین کے اشتراک سے پاکستان میں اقتصادی راہداری منصوبہ شروع کیا گیا جو اپنی منزلیں طے کر رہا ہے یہ گیم چینجر منصوبہ دوسرے مرحلے کا داخل ہو رہا ہے جو انتہائی مسرت کا مقام ہے چین کے ون بیلٹ ون روڈ منصوبے پر بھی عملدرآمد کیلئے حکمت عملی مرتب کی جا رہی ہے گوادر کو چین سے ملایا جا رہا ہے جس کی بدولت پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں واقع گوادر کی بندرگاہ عالمی تجارتی مرکز بن جائے گی یہاں سے دنیا بھر کے ممالک کو علاقائی ممالک اپنی تجارتی اشیاء منگوا اور بھجوا سکیں گے سی پیک منصوبے کے فوائد حاصل کرنے والے وہ ممالک جنہوں نے اس منصوبہ کے اعلان کے ساتھ ہی اس میں شمولیت کا اعلان کیا تھا ان کیلئے عالمی تجارت کیلئے راہ ہموار ہو چکی ہے چین نے جنوبی ایشیا کے ممالک کے لئے ایک ایسا منصوبہ متعارف کرا کے انکی وہ تمام مشکلات جو عالمی تجارت کی راہ میں رکاوٹ تھیں دور کر دیں ہیں اب علاقائی ممالک سی پیک منصوبے سے بھرپور فائدہ اٹھا سکیں گے اس منصوبہ کی بدولت عالمی تجارتی منڈیوں میں جنوبی ایشیا کے ممالک کے ساتھ روابط قائم ہوں گے ان علاقائی ممالک کو یہ مشورہ ہے کہ وہ سی پیک منصوبے سے فائدہ اٹھائیں اگر انہوں نے یہ چانس گنوا دیا تو پھر مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں