عمران خان کاایک بار پھرپولی گرافک ٹیسٹ سے انکار

اسلام آباد (بیوروچیف) پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی اور سابق وزیر اعظم عمران خان نے چوتھی بار بھی پولی گرافک ٹیسٹ کروانے سے انکار کردیا۔ذرائع کے مطابق سابق وزیراعظم نے لاہور پولیس کی ٹیم کے ساتھ شامل تفتیش ہونے سے چوتھی بار بھی انکار کیا، انہوں نے پولی گراف، فوٹوگرامیٹک اور وائس میچنگ ٹیسٹ بھی نہیں کرائے۔پولیس ٹیم ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ڈی ایس پی) آصف جاوید کی سربراہی میں اڈیالہ جیل پہنچی تھی، ٹیم میں پنجاب فرانزک کے ایکسپرٹس بھی شامل تھے۔عمران خان لاہور پولیس ٹیم کے سامنے پیش نہیں ہوئے، پولیس ٹیم اڈیالہ جیل میں 4گھنٹے تک انتظار کرنے کے بعد واپس روانہ ہوگئی۔لاہور پولیس کی ٹیم 9مئی مقدمات کی تفتیش کے لیے ٹیسٹ کرنے اڈیالہ جیل آئی تھی، عمران خان پہلے بھی 3مرتبہ لاہور پولیس ٹیم کو ٹیسٹ کرانے سے انکار کر چکے ہیں۔تاہم، 26مئی کو لاہور کی انسداد دہشت گردی عدالت میں پراسیکیوشن نے بانی پی ٹی آئی کا جواب جمع کرایا، جس میں ڈی ایس پی لیگل نے مقف اپنایا کہ جب تک یہ ٹیسٹ نہیں ہوں گے، تفتیش مکمل نہیں ہو سکے گی۔انہوں نے عدالت کو بتایا کہ تفتیشی افسران عمران خان کے ساتھ تعاون کریں گے اور انصاف ہوتا نظر آئے گا، اور یہ کہ عمران خان کو بھی تفتیشی افسران کے ساتھ تعاون کرنا چاہیے۔بعد ازاں، عدالت نے پراسیکیوشن کی درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے بانی پی ٹی آئی کے فوٹو گرامیٹک اور پولی گرافک ٹیسٹ کرنے کا حکم جاری کرتے ہوئے پولیس سے 9 جون کو رپورٹ طلب کرلی۔یاد رہے کہ 14مئی کو لاہور کی انسداد دہشتگردی کی خصوصی عدالت نے عمران خان کا پولی گرافک ٹیسٹ کروانے کی اجازت دی تھی۔ 9مئی کے مقدمات میں پولیس نے عمران خان کا پولی گرافک اور فوٹوگرافک ٹیسٹ کرانے کا فیصلہ کیا گیا تھا، جس کے لیے پراسیکیوشن نے انسداد دہشت گردی عدالت میں باقاعدہ درخواست جمع کرائی تھی۔درخواست میں موقف اپنایا گیا تھا کہ بانی پی ٹی آئی سے 9مئی واقعات کے حوالے سے سچائی جانچنے کے لیے پولی گرافک سمیت دیگر ضروری سائنسی ٹیسٹ کروائے جانا اہم ہے۔تاہم، عدالت میں سماعت کے دوران بانی پی ٹی آئی کے وکیل بیرسٹر سلمان صفدر نے درخواست کی سخت مخالفت کی تھی۔ابتدائی دلائل میں ان کا کہنا تھا کہ 2 سال بعد ایسی درخواست دائر کرنا بدنیتی پر مبنی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں