عوام زیرِ قرض، حکمران زیرِ پرواز: پنجاب میں گلف اسٹریم کی آمد

جہاں ایک طرف معاشی بدحالی اور قرضو ں کا بوجھ بڑھ رہا ہے، وہیں حکومتِ پنجاب کی جانب سے گلف اسٹریم G500جیٹ کی حالیہ خریداری نے تنقید کا ایک نیا طوفان کھڑا کر دیا ہے۔ یہ تنازع صرف ایک طیارے کی پرتعیش خریداری تک محدود نہیں، بلکہ قومی ایئرلائن (PIA)کی فروخت اور اس جیٹ کی قیمت کا موازنہ ایک تلخ حقیقت کو بے نقاب کرتا ہے۔یہ صورتحال کسی المیے سے کم نہیں کہ2025کے اواخر میں حکومتِ پاکستان نے پی آئی اے کے %75حصص کی نجکاری تقریبا 135ارب روپے میں مکمل کی۔ جہاں اس اقدام کو خسارے میں چلنے والے ادارے سے جان چھڑانے کے لیے ضروری قرار دیا گیا، وہیں پنجاب حکومت کی جانب سے 2019کے ماڈل کے گلف اسٹریم G500 طیارے کی خریداری نے نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ اس ایک لگژری جیٹ کی قیمت کا تخمینہ تقریبا 11.7ارب روپے لگایا گیا ہے۔ اگر اسکا موازنہ کیا جائے تو ایک صوبائی جیٹ کی قیمت پوری قومی ایئرلائن کی فروخت سے حاصل ہونے والی رقم کے تقریبا %9 کے برابر ہے۔ یعنی جس قیمت میں پوری ایئرلائن کے روٹس اور انفراسٹرکچر بیچا گیا، اس کا دسواں حصہ صرف ایک صاحبِ اقتدار کے جہاز پر خرچ کر دیا گیا۔یہ11.7ارب روپے تو صرف خریداری کی قیمت ہے، اس طیارے کو چلانے کے اخراجات صوبائی خزانے پر ایک مستقل بوجھ ہوں گے۔ ماہرین کے مطابق اس طیارے کو سالانہ 400گھنٹے اڑانے پر تقریباً 84کروڑ روپے کے اخراجات آئیں گے۔ اس میں صرف ایندھن کا خرچ 40 کروڑ روپے سالانہ سے زائد ہے، جبکہ دیکھ بھال اور مرمت پر سالانہ14کروڑ روپے سے زیادہ خرچ ہوں گے۔ چاہے یہ جہاز رن وے پر کھڑا ہی کیوں نہ رہے، اس کی انشورنس ، ہینگر کی فیس اور عملے کی بھاری تنخواہیں پھر بھی ادا کرنی ہوں گی۔ ان پائلٹس کی بین الاقوامی تربیت پر بھی کروڑوں روپے خرچ ہوں گے، جو کہ براہِ راست عوام کی جیب سے جائیں گے۔سال 2026 میں پاکستان کی جی ڈی پی کی شرح نمو انتہائی کم ہے، لیکن حکمرانوں اور عوام کے درمیان خلیج تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہے۔ جہاں قیادت 11.7ارب روپے کا “اڑتا ہوا دفتر” خرید رہی ہے، وہاں عام آدمی آئی ایم ایف کی سخت شرائط اور کمر توڑ ٹیکسوں کے نیچے پس رہا ہے۔ متوسط طبقہ، جو کبھی ملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی تھا، اب صرف زندہ رہنے کی جنگ لڑ رہا ہے، جہاں اسے بچوں کی تعلیم اور بجلی کے بھاری بلوں میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا پڑتا ہے۔اس خریداری کا وقت انتہائی نامناسب ہے۔ ایک طرف حکومت پٹرولیم لیوی میں ریکارڈ اضافہ کر رہی ہے اور بین الاقوامی قرضوں کی ادائیگی کے لیے بنیادی ضرورت کی اشیا پر ٹیکسوں کا جال پھیلا رہی ہے، تو دوسری طرف یہ شاہانہ اخراجات جاری ہیں ۔ یہ پابندیاں اور ٹیکس ان قرضوں کا نتیجہ ہیں جو دہائیوں سے حکمرا ن طبقے نے لیے، لیکن ان سے نہ تو ہسپتال بنے اور نہ ہی اسکول؛ بلکہ ان سے وہ طرزِ زندگی برقرار رکھا گیا جو اب بھی عام آدمی کی پہنچ سے دور ہے۔ پنجاب جیسے صوبے میں، جہاں ایک بڑی آبادی خطِ غربت سے نیچے زندگی گزار رہی ہے، وہاں اربوں روپے ایک پرائیویٹ جیٹ پر لٹانا محض ایک غلطی نہیں بلکہ ایک اخلاقی دیوالیہ پن ہے۔حکومتی حلقوں نے اس خریداری کا دفاع یہ کہہ کر کیا کہ یہ طیارہ مستقبل کی ”ایئر پنجاب”کا حصہ ہوگا، لیکن 17نشستوں والا یہ پرتعیش طیارہ کسی تجارتی ایئرلائن کے لیے نہیں بلکہ وی آئی پی سفر کے لیے بنایا گیا ہے۔ مقامی شہروں کے درمیان 20سے 30منٹ کی پروازوں کے لیے اتنے مہنگے جہاز کا استعمال اس وقت کیا جا رہا ہے جب عام شہری پٹرول کا ایک لیٹر خریدنے کی سکت نہیں رکھتا۔ یہ اس طبقے کی ذہنیت ہے جو ٹیکس دہندگان کے پیسے پر عیش کر رہا ہے اور خود کو ان مشکلات سے محفوظ کر چکا ہے جو اس نے عوام پر مسلط کی ہیں۔ حقیقی حکمرانی وہ ہوتی جہاں عام آدمی کو ریلیف ملتا، نہ کہ وہ جہاں حکمران عوام کی تکلیفوں کے اوپر سے گلف اسٹریم میں اڑتے ہوئے گزر جائیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں