58

غربت میں اضافہ کا سدباب ناگزیر (اداریہ)

عالمی بینک کی تازہ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں غربت میں اضافہ ہو رہا ہے اور غربت کی شرح گزرے سال کی نسبت اعشاریہ 3فیصد بڑھنے کے بعد 40.5 فی صد ہو گئی ہے رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان میں سالانہ 16لاکھ نئے نوجوانوں کیلئے روزگار کے مواقع ناکافی ہیں جبکہ سست رفتار معاشی ترقی’ بلند شرح مہنگائی اور اجرت کی کمی کیوجہ سے غربت بڑھ رہی ہے اس رپورٹ کو پچھلے چند برسوں کے تناظر میں دیکھا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ غربت میں اضافے کا رجحان مسلسل جاری ہے ملک کی آدھی آبادی خط غربت کے نیچے دب کر موت سے بھی بدتر زندگی گزار رہی ہے اور باقی آدھی کی اکثریت غربت سے چمٹ کر اپنی سانسوں کی ڈور کو برقرار رکھنے کی کوشش میں سہمی سمٹی بیٹھی ہے کہ ناجانے کب مہنگائی کا’ بلوں کی ادائیگی کا اور ایسے ٹیکسوں کے ”قرضوں” کا جو واجب بھی نہیں ہیں کا ایک جھٹکا لگنے سے وہ چاروں شانے چت غربت سے نیچے جا گرے، یونیسف ادارے کی ایک رپورٹ سے پتہ چلتا ہے کہ غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے والوں میں 8لاکھ افراد کا تعلق پنجاب’ 7لاکھ افراد کا تعلق سندھ’ 3لاکھ کا تعلق خیبرپختونخوا اور بلوچستان کے 5لاکھ افراد غربت کا شکار ہیں غربت کے شرکار ان افراد کے بچوں کے خواب کون پورے کرے گا؟ موجودہ حکومت غربت کے خاتمہ کیلئے کوشاں ضرور ہے مگر اسکی کوششیں بارآور ثابت نہیں ہو رہیں بے روزگاری کا عفریت منہ کھولے ہے نوجوان ہاتھوں میں ڈگریاں لئے گھوم رہے ہیں مگر ان کو روزگار نہیں ملتا مہنگائی نے لوگوں کی قوت خرید چھین لی ہے انڈسٹری سے لاکھوں افراد کا روزگار وابستہ ہے مگر مہنگی بجلی’ گیس کی قلت اور ٹیکسوں کی بھرمار سے صنعتکار پریشان ہیں اور انڈسٹری کی تین شفٹوں کو محدود کر رہے ہیں جسکی وجہ سے بے روزگاری کے سائے گہرے ہوتے جا رہے ہیں ملکی برآمدات میں اضافہ نہ ہونے سے ملک کی معیشت مضبوط نہیں ہو رہی برآمدات بڑھ رہی ہیں اور زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ دیکھنے میں نہیں آ رہا ایسی صورتحال میں غربت میں اضافہ ہوتا رہے گا اصولی طور پر تو حکومت کو سب سے پہلے غربت کے خاتمے پر توجہ دینی چاہیے کیونکہ غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے والے روز جیتے روز مرتے ہیں غربت کے خاتمے کیلئے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے آغاز میں اس فلاحی پروگرام میں سرکاری اداروں میں بیٹھے افسران واہلکاران نے بندربانٹ کی جس کے بعد لاکھوں مستحق افراد اپنے حقوق سے محروم ہو گئے اور یہ عقدہ اس وقت کھلا جب BISP میں غیر مستحق افراد بارے تحقیقات سامنے آئیں بی آئی ایس پی سے مستفید ہونے والی اکثر خواتین ناخواندہ ہیں اور وہ جب بھی وظیفہ کی رقم لینے جاتیں ہیں تو سرکاری یا غیر سرکاری افراد ان کی رقوم سے کٹوتی کر کے ان کو ان کے حق سے محروم کرنے کیلئے تیار رہتے ہیں ایسی خبریں اکثر سننے کو ملتی ہیں کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت امدادی رقم لینے والی خواتین کی رقم سے کٹوتی کر لی جاتی ہے تاہم اس کے باوجود اس بارے کوئی مناسب اقدامات نہ ہونا افسوسناک ہے غربت میں کمی کیلئے عالمی بنک’ یو این او اور دیگر امداد دینے والے عالمی ادارے بھی پاکستان کی امداد کرتے ہیں مگر اس کے باوجود ہمارے ملک سے غربت کا مکمل خاتمہ تو درکنار غربت میں کمی بھی نہیں ہوتی جس کے اسباب تلاش کرنا ناگزیر ہیں اس حوالے سے حکومت کو ایسی پالیسیاں تربت دینی چاہئیں جن سے نہ صرف غربت میں کمی ہو بلکہ مہنگائی کے تناسب سے مستحقین کی امداد میں بھی اضافہ کیا جائے تاکہ غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے والے افراد کو بھی سکھ کا سانس لینے کے مواقع مل سکیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں