غزہ امن معاہدہ’ صہیونی چال بھی ہو سکتی ہے (اداریہ)

9اکتوبر 2025ء کو امریکہ کی ثالثی کے بعد اسرائیل اور حماس کے مابین امن معاہدہ طے پا گیا ہے جس کے ساتھ ہی جنگ بندی کا باقاعدہ اعلان کیا جا چکا ہے جس کے بعد صہیونی فوج کا بتدریج انخلاء شروع ہو گیا ابتدائی مرحلے میں اسرائیلی افواج کی لاجسٹک یونٹس کو غزہ شہر کے مضافات سے واپس بلایا گیا ہے اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر سے جاری بیان کے مطابق یرغمالیوں کی رہائی کے معاہدے کی بھی منظوری دے دی گئی ہے 2ہزار فلسطینی قیدیوں کی رہائی اور اسرائیلی فوج کے انخلاء کے بدلے یرغمالیوں کو رہا کیا جائے گا اسرائیلی فوج اب غزہ کی پٹی کے اندر نئی پوزیشنز پر منتقل ہو گی تاہم علاقے کے تقریباً 53فیصد ہے پر کنٹرول برقرار رکھے گی جس کے بعد 72گھنٹوں کا وقت دیا جائے گا اس دوران حماس تمام یرغمالیوں کو رہا کرے گی 20رکنی امن معاہدے کی تفصیلات جو وائٹ ہائوس کے ترجمان نے جاری کی ہیں اس کے چیدہ چیدہ نکات یہ ہیں کہ اسرائیلی قیدیوں کی رہائی کے بعد فلسطینی قیدیوں کورہا کر دیا جائے گا ان میں وہ قیدی بھی شامل ہیں جن کو عمر قید سنائی جا چکی ہے امن بحال ہوتے ہی اقوام متحدہ کے ذریعے امدادی سازوسامان اور خوراک غزہ پہنچائی جائے گی حماس کے تمام افراد کے لیے عام افراد کا اعلان کیا گیا ہے اگر وہ کسی دوسرے ملک جانا چاہئیں تو ایسا کرنے میں بھی آزادی ہو گی غزہ میں پائیدار امن کیلئے امریکہ’ قطر’ سعودی عرب’ ترکی’ مصر کی معاونت سے انٹرنیشنل سیٹبلائزیشن فورس قائم کی جائے گی جو اسرائیلی فوج کیساتھ بھی معاونت کرے گی غزہ کے انتظامی معاملات چلانے کیلیے ٹیکنوکریٹس پر مشتمل ایک کمیٹی قائم کی جائے گی جو سابق برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر کی سربراہی میں کام کرے گی، اسرائیلی اور امریکہ کسی اخلاقی پابندی کے باعث امن معاہدہ کرنے پر تیار نہیں ہوئے بلکہ حالیہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران عالمی راہنمائوں کی بھرپور مذمت کے بعد ہی اپنی عالمی تنہائی کو دیکھ کر امن معاہدے کے لیے راضی ہوئے ہیں معاہدے کو مثبت انداز فکر میں دیکھا جائے تو یہ معاہدہ امن کیلئے اہم پیش رفت ہے اگر غزہ کے شہری امن معاہدہ سے راضی ہیں تو غزہ کے باہر بسنے والی کمیونٹی کو بھی اس امن معاہدے پر کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہیے کیونکہ غزہ کے مستقبل بارے فیصلہ کرنے کا سب سے پہلا اختیار غزہ کے عوام کا ہے جو عرصہ دو سال سے نسل کشی اور بھوک پیاس کا سامنا کر رہے ہیں اور امن معاہدے کے شدت سے منتظر ہیں، صدر ٹرمپ نوبل امن کے حصول کی خاطر ایسے فیصلے کر رہے تھے جن کی بدولت ان کو نوبل ایوارڈ مل جاتا تاہم وہ اس میں کامیاب نہیں ہو سکے اور نوبل امن انعام وینزویلا کی اپوزیشن راہنما ماریاکورنیا نے جیت لیا ہے اسطرح نوبل امن ایوارڈ جیتنا ٹرمپ کا خواب ہی رہ گیا صدر ٹرمپ نے غزہ امن معاہدہ کیلئے جو کوششیں کیں وہ اپنی جگہ مگر یہ سوال بھی اُٹھ رہے ہیں کہ اسرائیل امن معاہدے کی پاسداری بھی کرے گا یا اس امن معاہدہ کا حشر نشر بھی ان معاہدات جیسا ہو گا جو اس سے قبل اسرائیل نے مشرق وسطیٰ میں امن قائم کرنے کیلئے کئے جبکہ بعدازاں خود ہی خلاف ورزیاں بھی شروع کر دیں موجودہ امن معاہدہ دور جدید میں غلام داری نظام کا عکاس ہے، آپ اس امن معاہدہ کو غزہ میں نوآبادیاتی نظام کی شکل وصورت سے بھی تشبیہ دے سکتے ہیں اگرچہ 20ویں صدی عیسوی میں نوآبادیاتی نظام ایشیائ’ افریقہ’ لاطینی’ امریکہ سمیت ہر جگہ سمیٹا جا چکا ہے تاہم کہیں، کہیں باقیات ضروری نظر آتی ہیں۔ یہ عجیب امن معاہدہ ہے جس کے تحت غزہ کا انتظام سنبھالنے والی کمیٹی اور انتظامیہ 20لاکھ لوگوں کا کوئی ایک بھی نمائندہ شامل نہیں ہو گا اس معاہدہ کو 2025 میں کیا گیا استحصال اور غلامی کا معاہدہ قرار دیا جا سکتا ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں