غزہ میں غذائی بحران شدید،پناہ گزین کیمپ پر اسرائیلی بمباری ،6فلسطینی شہید

غزہ’نیو یارک(مانیٹرنگ ڈیسک) غزہ میں اسرائیلی فوج کی جنگ بندی کی خلاف ورزیاں جاری ہیں جہاں تازہ حملے میں مزید 6فلسطینی شہید ہوگئے۔خبر ایجنسی کے مطابق گزشتہ روز اسرائیل کی جانب سے غزہ کے مشرقی علاقے تفاح میں ایک سکول کی عمارت کو نشانہ بنایا گیا جس میں فلسطینی پناہ لیے ہوئے تھے۔اسرائیلی حملے میں 6 فلسطینی شہید جبکہ بچوں سمیت متعدد افراد زخمی ہوگئے۔، یہ حملہ جنگ بندی معاہدے کی تازہ ترین خلاف ورزی قرار دیا جا رہا ہے۔دوسری جانب اسرائیلی فوجیوں نے مقبوضہ مغربی کنارے کے مختلف علاقوں پر چھاپے مارے جہاں متعدد فلسطینی زخمی اور کئی گرفتار لیے گئے، اسرائیلی جنگ میں غزہ میں اکتوبر 2023 سے اب تک کم از کم 70 ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ غزہ میں غذائی بحران سنگین ہونے کا خدشہ ہے، یونیسیف کے مطابق 16 لاکھ افراد سنگین حالات سے دوچار ہیں اور ایک لاکھ بچے بھی غذا سے محروم ہیں جب کہ سردی سے تحفظ نہ ملنے سے بھی بڑی تعداد میں اموات کا خطرہ ہے۔یونیسیف کے مطابق اقوام متحدہ کے اداروں کی تازہ رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ اکتوبر میں ہونے والی جنگ بندی کے بعد غزہ کے کسی بھی علاقے کو اس وقت قحط زدہ قرار نہیں دیا جا رہا تاہم ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ یہ بہتری انتہائی نازک ہے اور بڑے پیمانے پر امداد نہ ملنے کی صورت میں صورتحال دوبارہ بگڑ سکتی ہے۔انٹیگریٹڈ فوڈ سیکیورٹی فیز کلاسیفیکیشن (آئی پی سی) کی تازہ رپورٹ کے مطابق جنگ بندی اور انسانی و تجارتی رسائی میں بہتری کے بعد غزہ کے کسی بھی حصے کو اس وقت قحط کے درجے میں شامل نہیں کیا گیا تاہم اقوام متحدہ کے اداروں ایف اے او، یونیسف، ورلڈ فوڈ پروگرام اور عالمی ادارہ صحت نے خبردار کیا ہے کہ یہ پیش رفت انتہائی غیر مستحکم ہے۔رپورٹ کے مطابق غزہ کی 77فیصد آبادی، یعنی کم از کم 16لاکھ افراد، اب بھی شدید غذائی عدم تحفظ کا شکار ہیں۔ ان میں ایک لاکھ سے زائد بچے اور 37ہزار حاملہ و دودھ پلانے والی خواتین شامل ہیں، جن کے اپریل تک شدید غذائی قلت کا شکار ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔ شمالی غزہ، غزہ گورنریٹ، دیر البلح اور خان یونس کو ایمرجنسی سطح (آئی پی سی فیز 4) میں رکھا گیا ہے جب کہ غزہ گورنریٹ کو قحط کے درجے سے کم کر دیا گیا ہے۔اقوام متحدہ کے مطابق جنگ بندی کے بعد خوراک، جانوروں کے چارے اور بنیادی اشیا کی ترسیل میں کچھ بہتری آئی ہے تاہم زیادہ تر خاندان اب بھی شدید قلت کا سامنا کر رہے ہیں۔ جنگ بندی کے بعد سے 7لاکھ 30ہزار سے زائد افراد بے گھر ہو چکے ہیں جو عارضی پناہ گاہوں میں رہنے پر مجبور ہیں اور مکمل طور پر انسانی امداد پر انحصار کر رہے ہیں۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ صاف پانی، صحت کی سہولیات اور صفائی کے نظام تک محدود رسائی جب کہ کھیتی باڑی، ماہی گیری، aلائیو اسٹاک اور بنیادی انفراسٹرکچر کی وسیع تباہی نے حالات کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ غذائیت سے بھرپور خوراک اگرچہ مارکیٹوں میں دستیاب ہے مگر اکثریتی خاندانوں کے لیے یہ ناقابلِ خرید ہے۔ 79 فیصد گھرانوں کو خوراک یا صاف پانی تک مناسب رسائی حاصل نہیں، جبکہ بچوں میں غذائی تنوع نہ ہونے کے برابر ہے۔اقوام متحدہ کے اداروں نے خبردار کیا ہے کہ اگر خوراک، صحت، زراعت، روزگار اور صفائی کے شعبوں میں فوری اور بڑے پیمانے پر امداد نہ دی گئی تو سیکڑوں ہزار افراد دوبارہ قحط کا شکار ہو سکتے ہیں۔ اداروں کا کہنا ہے کہ فنڈز کی کمی، درآمدی پابندیاں اور رسائی کے مسائل امدادی سرگرمیوں میں بڑی رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔اقوام متحدہ کے مطابق غزہ کے کسان، چرواہے اور ماہی گیر دوبارہ پیداوار شروع کرنے کے لیے تیار ہیں تاہم انہیں فوری وسائل اور امداد کی ضرورت ہے جب کہ بچوں اور خواتین کو بدستور شدید غذائی اور صحت کے خطرات لاحق ہیں۔یونیسیف نے خبردار کیا ہے کہ اگرچہ غزہ کے بچے اس وقت قحط سے محفوظ ہیں لیکن وہ اب بھی شدید خطرے میں ہیں۔ ادارے کے مطابق صحت کی سہولیات ناکارہ، صاف پانی نایاب اور سرد موسم نے بے گھر افراد کی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے جب کہ لڑائی دوبارہ شروع ہونے کی صورت میں یہ نازک بہتری فوری ختم ہو سکتی ہے۔ڈبلیو ایف پی اور ڈبلیو ایچ او نے بھی فوری عالمی امداد، مسلسل رسائی اور بنیادی سہولیات کی بحالی پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ غزہ میں خوراک، صحت اور انسانی وقار کی بحالی کے لیے فوری اور ٹھوس اقدامات ناگزیر ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں