90

غزہ میں فلسطینیوں کی نسل کشی کی تحقیقات کا حکم (اداریہ)

اقوام متحدہ کی اعلیٰ عدالت نے اسرائیل کو حکم دیا ہے کہ وہ فوری طور پر رفح میں اپنی فوجی کارروائی بند کرے، انسانی امداد کی فراہمی کیلئے رفح کراسنگ کو کھولا جائے، اقوام متحدہ غزہ میں فلسطینیوں کی نسل کشی کی تحقیقات کرے، غزہ میں حقائق کی جانچ کیلئے تفتیش کاروں کی رسائی کو یقینی بنایا جائے، جنوبی افریقہ، پاکستان، فلسطین بلجیئم اور حماس نے اسرائیل کے خلاف عالمی عدالت کے فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے، اسرائیل نے عالمی عدالت کے فیصلے کو تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے رفح میں جنگ جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے، پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف نے عالمی برادری سے کہا ہے کہ عالمی برادری رفح میں اسرائیلی آپریشن روکنے کے فیصلے پر فوری عمل کرائے، اسرائیلی حکومت کے ترجمان ڈیوڈ منیسر نے عدالتی فیصلے پر کہا ہے کہ دنیا کی کوئی طاقت ہمیں عوامی طور پر خودکشی کرنے پر مجبور نہیں کر سکتی یورپی یونین کے خارجہ امور کے سربراہ حوزپ بوریل نے اسرائیل پر زور دیا ہے کہ وہ بین الاقوامی فوجداری عدالت کے ججوں کو خوفزدہ کرے اور نہ ہی دھمکائے’ عالمی عدالت انصاف کے موجودہ صدر جج نواف سلام نے اسرائیل کے خلاف جنوبی افریقہ کی جانب سے جمع کروائی جانے والی درخواست پر سماعت کی انہوں نے فوری طور پر رفح میں جاری جنگ روکنے کا حکم دیا عدالت نے اسرائیل کو عدالتی احکامات پر عملدرآمد کی رپورٹ ایک ماہ میں جمع کروانے کا بھی حکم دیا، آئی سی جے نے اپنے حکم میں کہا کہ اسرائیل کو چاہیے کہ وہ رفح میں اپنا فوجی حملہ اور کوئی بھی دوسری ایسی کارروائی روکے جس سے غزہ میں فلسطینی آبادی کے لیے ایسے حالات پیدا ہوں، جو اس آبادی کی مکمل یا جزوی طور پر جسمانی تباہی کا باعث بن سکتے ہیں، پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ رفح میں آپریشن روکنے سے دنیا میں امن کی راہ ہموار ہو گی انہوں نے مظلوم انسانیت کے لیے پٹیشن دائر کرنے پر جنوبی افریقہ کو بھی خراج تحسین پیش کیا جنوبی افریقہ کے صدر سیرل رامافوسا کا کہنا ہے کہ انہیں تشویش ہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل غزہ میں انسانی تکالیف کو کم کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکی ہے بلیجیئم کے وزیر خارجہ حدجہ لہبیب نے آئی سی جے کے فیصلے کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ غزہ میں تشدد اور انسانی مصائب کو روکنا چاہئے ہم جنگ بندی قیدیوں کی رہائی اور دو ریاستوں کے لیے مذاکرات کا مطالبہ کرتے ہیں ہیومن رائٹس واچ کا کہنا ہے کہ آئی سی جے کے فیصلے ظاہر کرتے ہیں کہ غزہ میں حالات کتنے خراب ہیں امرکہ میں قائم انسانی حقوق گروپ ایچ آر ڈبلیو سے تعلق رکھنے والے بلقیس جراح نے کہا ہے کہ عالمی عدالت کا حکم غزہ میں فلسطینیوں کو درپیش صورتحال کی سنگینی کی نشاندہی کرتا ہے عالمی عدالت انصاف میں دوران سماعت جج سلام نے غزہ میں حماس کے زیرحراست اسرائیلی قیدیوں کی صورتحال کے بارے میں بھی بات کی ان کا کہنا تھا کہ عدالت کو اسرائیلی قیدیوں کی رہائی اور ان کی حفاظت پر گہری تشویش ہے اور عدالت ان کی فوری اور غیر مشروط رہائی کا مطالبہ کرتی ہے،، عالمی عدالت انصاف کے فیصلے کے بعد اسرائیل کو اس پر عملدرآمد کرنا چاہیے مگر طاقت کے نشے میں چور اسرائیل عالمی عدالت کے فیصلے کو بھی خاطر میں نہیں لا رہا اسرائیلی حکومت کے ترجمان کی ڈھٹائی کا یہ عالم ہے کہ وہ غرور کے ساتھ کہہ رہا ہے کہ دنیا کی کوئی طاقت ہمیں نہیں روک سکتی اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے بھی عالمی عدالت انصاف کے حکم کو مسترد کرد یا ہے غزہ میں فلسطینیوں کی نسل کشی پر جنوبی افریقہ نے عالمی عدالت انصاف سے رجوع کیا تھا جس کے بعد عالمی عدالت انصاف نے اسرائیل کو حکم دیا کہ وہ فوری طور پر رفح میں اپنی فوجی کارروائی بند کرے انسانی امداد کی فراہمی کیلئے رفح کراسنگ کو کھولا جائے اقوام متحدہ غزہ میں فلسطینیوں کی نسل کشی کی تحقیقات کرے اصولی طور پر تو عدالمی عدالت انصاف کے حکم کے بعد اسرائیل کو رفح میں اپنا فوجی آپریشن روک دینا چاہیے اور انسانی امداد کی فراہمی کیلئے راستے کھول دینے چاہئیں مگر اس نے عالمی عدالت انصاف کے فیصلے کو نہ مان کر یہ ثابت کر دیا ہے کہ اسرائیل طاقت کے نشے میں ہے اور اس پر کچھ بھی اثر نہیں ہو رہا عالمی عدالت انصاف نے اقوام متحدہ کو بھی غزہ میں فلسطینیوں کی نسل کشی کی تحقیقات کا حکم دیا ہے لہٰذا اس حوالے سے اقوام متحدہ کو حکم پر عملدرآمد یقینی بناتے ہوئے غزہ میں فلسطینیوں کی نسل کشی کی فوری تحقیقات کا آغاز کرنا چاہیے اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کے نتیجے میں جو بھی قصور وار ٹھہرے اسے عالمی عدالت انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے اگر ایسا نہ کیا گیا تو عالمی عدالت انصاف اور اقوام متحدہ پر انگلیاں اُٹھیں گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں