14

غیر پائیدار غذائیں اور موسمیاتی تبدیلی: اثرات اور حکمت عملی

گزشتہ چند دہائیوں میں انسانی سرگرمیوں، صنعتی ترقی اور غیر ذمہ دارانہ وسائل کے استعمال نے زمین کے قدرتی نظام پر شدید دبائو ڈالا ہے۔ اس کا سب سے واضح نتیجہ موسمیاتی تبدیلی کی صورت میں سامنے آ رہا ہے، جو محض ایک سائنسی بحث نہیں بلکہ روزمرہ زندگی کی حقیقت بن چکی ہے۔ عالمی سطح پر درجہ حرارت میں مسلسل اضافہ، بارشوں کے غیر متوقع پیٹرنز خوراک، پانی اور انسانی صحت کے لیے سنگین خطرات پیدا کر رہے ہیں۔ پاکستان دنیا کے ان ا ممالک میں شامل ہے جو موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کے سامنے سب سے زیادہ غیر محفوظ ہیں۔ حالیہ عالمی رپورٹس کے مطابق پاکستان میں بار بار شدید سیلاب، طویل خشک سالی اور غیر معمولی بارشیں واقع ہوئی ہیں، جن کے نتیجے میں نہ صرف ہزارو ں جانیں ضا ئع ہو ئیں بلکہ زرعی معیشت کو اربوں روپے کا نقصان بھی پہنچا۔ ان حالات نے واضح کر دیا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی اب ایک مستقبل کا خطرہ نہیں بلکہ ایک جاری بحران ہے جو فوری توجہ کا تقاضا کرتا ہے۔ موسمیاتی تبدیلی کا سب سے نمایاں اثر ہماری خوراک کی پیداوار، دستیابی اور معیار پر پڑ رہا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں ہر سال زرعی پیداوار میں 10 سے 15 فیصد تک کمی واقع ہو رہی ہے۔ خاص طور پر گندم، چاول، کپاس، مکئی اور چینی جیسی فصلیں شدید متاثر ہو رہی ہیں۔ ان اثرات کی وجہ سے نہ صرف کسانوں کی زندگی متاثر ہو رہی ہے بلکہ عام شہری کو بھی مہنگائی اور غذائی قلت کا سامنا ہے۔ غیر پائیدار غذائیں وہ ہیں جن کی پیداوار، تیاری اور ترسیل کے دوران قدرتی وسائل کا زیادہ استعمال ہوتا ہے اور جو ماحول پر منفی اثر ڈالتی ہیں۔ زیادہ پروسیسڈ خوراک، غیر ضروری درآمد شدہ اشیا اور گوشت پر حد سے زیادہ انحصار نہ صرف گرین ہاس گیسز کے اخراج میں اضافہ کرتے ہیں بلکہ پانی، زمین اور توانائی کے وسائل پر بھی دبائو ڈالتے ہیں۔ غیر پائیدار غذائیں نہ صرف ماحول کو نقصان پہنچاتی ہیں بلکہ انسانوں کی زندگی اور معیشت پر بھی منفی اثر ڈالتی ہیں۔ دنیا بھر میں زراعت کی وجہ سے گرین ہاس گیسز کے اخراج میں 26 سے 30 فیصد اضافہ ہوتا ہے، جس سے زمین کا درجہ حرارت بڑھتا ہے اور شدید موسمی حاالت پیدا ہوتے ہیں۔ نصف حصے پر کی جاتی ہے اور دنیا کے کل میٹھے پانی کا 70 فیصد زراعت زراعت زمین کے تقریبا میں استعمال ہوتا ہے، جس سے پانی کی کمی ہو جاتی ہے۔ اس کے علاوہ غیر پائیدار طریقوں سے پیدا ہونے والی خوراک جنگلی جانوروں اور پودوں کے قدرتی مسکن کو نقصان پہنچاتی ہے اور کئی جانور اور پودے معدوم ہونے کے خطرے میں آ جاتے ہیں۔ موسمی تبدیلی کے باعث فصلیں کم پیدا ہوتی ہیں، جس سے غذائی قلت بڑھتی ہے اور کسان اور عام لوگ دونوں متاثر ہوتے ہیں۔
تدارکی حکمت عملیاں
(Mitigation Strategies)
غیر پائیدار غذائوں کے منفی اثرات کم کرنے کے لیے ضروری ہے کہ خوراک کے نظام میں تدارکی حکم ِت عملیاں اپنائی جائیں۔ اس میں پودوں پر مبنی خوراک جیسے دالیں، سبزیاں، پھل اور اناج کااستعمال بڑھانا، گوشت اور ڈیری مصنوعات کے استعما ل میں اعتدا ل لانا اور خورا ک کے ضیاع کو کم کرنا شامل ہیں۔ ورلڈ ریسورسز انسٹیٹیو ٹ کے مطابق گوشت اور ڈیری کی پیداوار عالمی سطح پر گرین ہاس گیسز کے اخراج میں نمایاں کردار ادا کرتی ہے، جس میں کمی لا کر ماحولیاتی دبائو کم کیا جا سکتا ہے۔
موافق حکمِت عملیاں
(Adaptation Strategies)
موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے ہم آہنگ ہونے کے لیے زرعی شعبے میں موافق حکم ِت عملیاں اپنانا ناگزیر ہے۔ اس میں موسم کے مطابق فصلوں کا انتخاب، پانی کے موثر استعمال، جدید اور ماحول دوست زرعی تکنیک کا فروغ اور کسانوں کی تربیت شامل ہے۔ مقامی اور موسمی غذائوں کا استعمال نہ صرف ماحولیاتی لحاظ سے بہتر ہے بلکہ معاشی طور پر بھی فائدہ مند ثابت ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر گلگت بلتستان اور ہنزہ کے علاقے مقامی اور سادہ غذائیں استعمال کرتے ہیں جیسے خشک خوبانیاں، دالیں، جو اور سبزیاں، جو غذائیت سے بھرپور اور ماحول دوست ہیں۔
نتیجہ
حکومت، تعلیمی ادارے، میڈیا اور معاشرتی تنظیمیں مل کر عوام میں غیر پائیدار غذائوں کے نقصانات اور پائیدار غذائوں کے فوائد سے آگاہی پیدا کریں۔ موسمیاتی تبدیلی صرف ایک ماحولیاتی مسئلہ نہیں بلکہ یہ خوراک، صحت، معیشت اور آنے والی نسلوں کے مستقبل سے جڑا ہوا مسئلہ ہے۔ اگر ہم آج اپنی غذائی عادات میں مثبت تبدیلی لائیں تو ایک صحت مند معاشرہ اور متوازن ماحول ممکن بنایا جا سکتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں