فرنیچر کی برآمدات بڑھانے میں درپیش چیلنجز

فرنیچر سازی کا شعبہ برآمدات کے حوالے سے ملکی معیشت کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ یہ شعبہ نہ صرف مقامی سطح پر لاکھوں افراد کو روزگار فراہم کرتا ہے بلکہ فرنیچر کی عالمی مارکیٹ میں بھی ہاتھ سے کندہ شدہ لکڑی کے پاکستانی فرنیچر کی بہت زیادہ مانگ ہے۔ یہ ہمارے ثقافتی ورثے اور نسل در نسل چلے آ رہے ہنرمند کاریگروں کی لگن، محنت اور مہارت کا اعتراف ہے جس کی وجہ سے پاکستان کو فرنیچر سازی کا اہم مرکز تسلیم کیا جاتا ہے۔ اس لحاظ سے پاکستان کی فرنیچر انڈسٹری برآمدات کے ذریعے قیمتی زرمبادلہ کمانے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔ تاہم اس حوالے سے دستیاب مواقعوں سے فائدہ اٹھانے کے لئے ضروری ہے کہ فرنیچر سازی سے وابستہ مقامی ہنر مندوں کو عالمی سطح پر فرنیچر سازی میں آنے والی جدت کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لئے طویل المدت پالیسی تشکیل دے کر اس پر عملدرآمد کرنے کی ضرورت ہے۔ اس سے ناصرف عالمی سطح پر پاکستان کے فرنیچر کی مانگ میں اضافہ کیا جا سکے گا بلکہ دنیا بھر میں پاکستان کے مثبت امیج کو بھی اجاگر کیا جا سکے گا۔ اس سلسلے میں عالمی منڈی میں بدلتے رجحانات، جدید ٹیکنالوجی کے استعمال اور مسابقت کے پہلو کو مدنظر رکھنے کی ضرورت ہے۔اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ کمتر ٹیکنالوجی اور زیادہ پیداواری لاگت پر مبنی کاروبار کے موجودہ ماڈل کے ساتھ عالمی منڈی میں مسابقت برقرار رکھنا ممکن نہیں ہے۔ اس لئے پائیدار اور جامع معاشی ترقی کے لیے ضروری ہے کہ فرنیچر انڈسٹری کو جدت، تحقیق، ڈیزائن، تخلیق اور ویلیو ایڈڈ سروسز پر منتقل کیا جائے۔ اس وقت پاکستان میں فرنیچر انڈسٹری زیادہ تر غیر رسمی شعبے پر مشتمل ہے جہاں چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری ادارے زیادہ ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر ادارے ہاتھ سے تیار کردہ لکڑی کے فرنیچر کی تیاری میں مہارت رکھتے ہیں جو کہ اپنی مضبوطی، کاریگری اور قدرتی لکڑی کے استعمال کے باعث منفرد پہچان رکھتا ہے۔ تاہم دوسری طرف ہماری روائتی فرنیچر انڈسٹری میں عالمی معیار کے ڈیزائن، برانڈنگ، پیکیجنگ اور سرٹیفیکیشن کی شدید کمی ہے جس کی وجہ سے اس کی برآمدی صلاحیت محدود ہے۔یہی وجہ ہے کہ عالمی منڈی میں اٹلی، چین، ویتنام، ملائشیا اور ترکی جیسے ممالک جدید مشینری، خودکار پیداواری نظام، ڈیزائن ریسرچ اور مضبوط سپلائی چین کے ذریعے نمایاں مقام حاصل کر چکے ہیں۔ اس کے برعکس پاکستان میں اب بھی بڑی حد تک روایتی طریقوں پر انحصار کیا جا رہا ہے جس کے نتیجے میں پیداواری لاگت بڑھتی جا رہی ہے جبکہ معیار میں تسلسل برقرار رکھنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ اس حوالے سے فرنیچر انڈسٹری کو درپیش سب سے بڑا مسئلہ مالی وسائل تک محدود رسائی ہے۔ فرنیچر انڈسٹری کو بطور سمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز ایکسپورٹ فنانسنگ اور جدید مشینری حاصل کرنے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ کمرشل بینکوں سے قرضوں کے حصول کا پیچیدہ طریقہ کار، بلند شرح سود اور رسک شیئرنگ میکانزم کی عدم موجودگی بھی اس شعبے کی ترقی میں رکاوٹ ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ فرنیچر انڈسٹری کی برآمدی صلاحیت کو بڑھانے میں بھاری ٹیکس، مشکل ریگولیٹری قوانین اور بیوروکریسی کے روائتی سرخ فیتے کی رکاوٹیں بھی حائل ہیں۔ ان مسائل کے باعث فرنیچر سازی کے کئی ادارے اپنی پیداواری صلاحیت بڑھانے یا نئی منڈیوں میں داخل ہونے سے گریزاں ہیں۔ دوسری طرف یہ بھی حقیقت ہے کہ فرنیچر کی برآمدات کے لئے یورپ اور مشرق وسطیٰ کی روائتی منڈیوں کے ساتھ ساتھ افریقہ، لاطینی امریکا اور جنوب مشرقی ایشیا کے ممالک بھی اب ابھرتی ہوئی منڈیاں بن چکی ہیں جہاں مڈل کلاس آبادی میں اضافے کی وجہ سے فرنیچر کی طلب مسلسل بڑھ رہی ہے۔ ان ممالک میں پاکستانی فرنیچر اپنی قیمت، مضبوطی اور ڈیزائن و کاریگری کے باعث بہتر مسابقت حاصل کر سکتا ہے لیکن اس کے لئے مارکیٹ ریسرچ، تجارتی معاہدوں اور لاجسٹکس کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ اس سلسلے میں جوائنٹ وینچرز اور بین الاقوامی شراکت داریوں کے ذریعے نہ صرف نئی ٹیکنالوجی اور ڈیزائن تک رسائی ممکن ہو سکتی ہے بلکہ پاکستانی برآمد کنندگان عالمی سپلائی چین کا حصہ بھی بن سکتے ہیں۔ اس سے طویل مدتی کاروباری روابط قائم کرکے پائیدار بنیادوں پر فرنیچر انڈسٹری کی برآمدی صلاحیت کو بڑھانے کی راہ ہموار کی جا سکتی ہے۔ اس حوالے سے فرنیچر انڈسٹری کی پیداواری صلاحیت کو بڑھانے کے لئے نوجوان طبقے اور خواتین کو جدید ڈیزائننگ سافٹ ویئرز اور مشینری کے استعمال کی تربیت فراہم کرنے کے علاوہ ماحول دوست مواد کے استعمال سے نہ صرف پیداوار میں اضافہ ممکن ہے بلکہ عالمی معیار پر پورا اترنے والی مصنوعات بھی تیار کی جا سکتی ہیں۔ علاوہ ازیں حکومتی سطح پر اس شعبے میں تحقیق و ترقی کو فروغ دینے کے لئے فرنیچر ڈیزائن انسٹی ٹیوٹ کا قیام مقامی تخلیقی صلاحیتوں کو عالمی رجحانات سے ہم آہنگ کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ پاکستان کی فرنیچر انڈسٹری کو برآمدی قوت بنانے کے لیے ایک جامع اور مربوط حکمت عملی کے تحت کم شرح سود پر قرضوں کی فراہمی، ایکسپورٹ فنانسنگ تک آسان رسائی اور ریگولیٹری قوانین میں اصلاحات کرنے کی ضرورت ہے۔ اس سلسلے میں پالیسی کا تسلسل، کاروبار دوست ماحول اور عالمی منڈیوں تک رسائی کو یقینی بنانے کے لئے معاون ماحول فراہم کرکے ناصرف فرنیچر انڈسٹری کی برآمدات کو بڑھایا جا سکتا ہے بلکہ مقامی سطح پر روزگار کی فراہمی میں بھی اضافہ ممکن ہے۔اس کے ساتھ ساتھ نجی شعبے کو بھی روائتی طریقوں سے ہٹ کر جدت، برانڈنگ اور عالمی معیار کے مطابق فرنیچر سازی کے رجحانات کو اپنانے کی ضرورت ہے تاکہ اس قدیم ہنر کو ویلیو ایڈیشن کے ذریعے جدید دنیا کے تقاضوں سے ہم آ ہنگ کیا جا سکے۔ اس طرح فرنیچر انڈسٹری کی ترقی کو اگر ایک وسیع منظر نامے میں دیکھا جائے تو یہ محض ایک کاروباری شعبے کی کامیابی نہیں ہو گی بلکہ یہ عالمی سطح پر پاکستان کی مثبت شناخت کو اجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ ملک میں وسیع تر معاشی تبدیلی کی علامت بن سکتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں