فصلوں کی فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ وقت کی ضرورت ہے

فیصل آباد (سٹاف رپورٹر) موسمیاتی تبدیلیوں کے پیش نظر فصلوں کے پیداواری اخراجات میں کمی اور فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ وقت کی اہم ضرورت ہے۔ جدید زرعی تحقیق کی روشنی میں کاشتکاروں کی آمدن اور منافع میں اضافہ یقینی بنانے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔ دھان اور دیگر فصلوں کی باقیات کو جلانے کے بجائے بائیو چار اور بائیو پولیمر تیار کرکے زمین میں شامل کرنا نہ صرف زمین کی زرخیزی میں اضافہ کا باعث ہے بلکہ ماحولیاتی آلودگی میں کمی اور کاربن کے بہتر انتظام میں بھی معاون ثابت ہو سکتا ہے۔ان خیالات کا اظہار ڈائریکٹر جنرل زراعت (ریسرچ) پنجاب ڈاکٹر ساجد الرحمن نے ایوب زرعی تحقیقاتی ادارہ فیصل آ با د کے شعبہ اگرانومی کے سالانہ خریف ریسرچ پروگرا م کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ سالانہ خریف ریسرچ پروگرام خریف فصلا ت سے متعلق جاری اور مجوزہ تحقیقی منصوبوں کا جامع جائزہ لینے کا اہم فورم ہے، جہاں مختلف فصلوں پر ہونے والی تحقیق، نتائج اور آئندہ کی حکمت عملی پر تفصیلی غور کیا جاتا ہے۔انہوں نے ہدایت کی کہ موسمیاتی تبدیلیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے نئی اقسام اور جدید پیداواری ٹیکنالوجی کو موثر توسیعی نظام کے ذریعے کاشتکاروں تک پہنچایا جائے۔ فصلوں کی بروقت کاشت، متوازن کھادوں کا استعمال، مناسب آبپاشی، جڑی بوٹیوں کی موثر تلفی اور زرعی ادویات کی سکریننگ سے متعلق تحقیقی نتائج فوری طور پر فیلڈ تک منتقل کیے جائیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں