فضائل رمضان

روزہ کے لغوی معنی ہیں کہ کسی چیز سے رکنا، ترک کرنا۔روزہ کا شرعی معنی ہے مکلف اور بالغ شخص کا ثواب کی نیت سے طلوع فجر سے لے کر غروب آفتاب تک کھانے پینے اور جماع کو ترک کرنا اور اپنے نفس کو تقوی کے لیے تیار کرنا۔حضرت سلمان فارسی رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں حضرت محمدۖنے شعبان کے آخری دن ہمیں خطبہ ارشاد فرمایا۔اورآپۖنے ارشاد فرمایا۔ لوگو!تم پر ایک عظیم مہینہ سایہ فگن ہونے والا ہے۔یہ مبارک مہینہ ہے اس میں ایک رات(ایسی ہے جو)ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔اللہ تعالی نے اس ماہ کے روزے رکھنا فرض قرار دیا ہے۔ اور اس کی راتوں میں قیام کو نفلی عبادت قرار دیا ہے۔ سو جو کوئی اس مہینے میں نفلی عبادت انجام دے گا۔تو اسے دوسرے مہینوں کے فرض کے برابر اجر ملے گا اور جو اس مہینے میں کوئی فرض عبادت ادا کرے گا۔ تو اسے دوسرے مہینوں کے 70 فرائض کے برابر اجر ملے گا۔یہ صبر کا مہینہ ہے اور صبر کا ثواب جنت ہے۔ یہ دوسروں سے ہمدردی اور ان کے دکھوں کے مداوے کامہینہ ہے۔ اس مہینے میں مومن کے رزق میں اضافہ کیا جاتا ہے۔ جو شخص اس مہینے میں کسی روزہ دار کا روزہ افطار کروائے گا۔ تو یہ اس کے لیے گناہوں کی مغفرت کا ذریعہ بنے گا۔ اس کے سبب اس کی گردن نار جہنم سے آزاد ہوگی اور روزہ دار کے اجر میں کمی کے بغیر اسے اس کے برابر اجر ملے گا۔ (راوی بیان کرتے ہیں) ہم نے عرض کی یا رسول اللہ ۖہم میں سے ہر ایک کی اتنی توفیق نہیں ہے کہ وہ روزہ دار کو افطار کروائے۔ تو آپ ۖنے ارشاد فرمایا۔یہ اجر اسے بھی ملے گا جو ایک گھونٹ دودھ یا ایک کھجور یا پانی پلا کر ہی کسی کا روزہ افطار کرائیگا۔ اور جو شخص کسی روزہ دار کو سیر ہو کر کھلائے گا تو اللہ تعالی اسے میرے حوض سے ایسا جام پلائے گا کہ جنت میں داخل ہونے تک وہ پیاسا نہیں ہوگا۔ یہ ایسا مہینہ ہے کہ اس کا پہلا عشرہ رحمت ہے، دوسرا عشرہ مغفرت اور تیسرا عشرہ جہنم سے آزادی کا سبب ہے۔ جو شخص اس مہینے میں اپنے ماتحتوں کے کام میں تخفیف کرے تو اللہ تعالی اسے بخش دے گا اور اسے جہنم سے رہائی عطا فرمائے گا۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ کے ارشادکا مفہوم ہے کہ رسول اللہ ۖسب لوگوں میں زیادہ سخی تھے اور رمضان المبارک میں توآپ ۖکی جودوسخا تیز چلتی خوشگوار ہوا سے بھی زیادہ ہو جاتی۔حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول کریمۖ ارشاد فرماتے ہیں کہ استقبال ماہ رمضان کیلئے جنت کو پورا سال آراستہ کیا جاتا ہے۔ جب رمضان المبارک کی پہلی شب ہوتی ہے عرش کے نیچے سے ہوا کے جھونکے آتے ہیں جسے مشیر ہ کہا جاتا ہے۔ اس ہوا کے جھونکوں سے جنتی درختوں کے پتے اور جنت کے دروازوں کے پٹ آپس میں ٹکراتے ہیں تو ایسی دلکش آواز پیدا ہوتی ہے جس سے سریلی آواز کسی سننے والے نے کبھی نہ سنی ہو۔ پھر جنت کے بالا خانوں پر کھڑے ہو کر حور العین آوازیں دیتی ہیں کیا اللہ تعالی کی خاطر ہمارے عقد میں بندھنے کیلئے کوئی ہے۔تاکہ اللہ تعالی انہیں ہمارے ساتھ رشتہ ازدواج میں منسلک کر دے۔پھر رضوان جنت سے پوچھتی ہیں کہ یہ کیسی رات ہے؟ تو وہ جواب دیتا ہے۔ اے حسن و جمال والیو!یہ ماہ رمضان المبارک کی پہلی شب ہے۔ اللہ تعالی رضوان جنت کو حکم دیتا ہے، اے رضوان جنت: امت محمد مصطفی ۖمیں سے روزہ داروں کیلئے جنت کے دروازے کھول دو۔ اے مالک جہنم: امت مصطفی!میں سے روز داروں پر جہنم کے دروازے بند کردو۔ اے جبرائیل: زمین پر چلے جا، سرکش شیطانوں کو بیڑیاں ڈال دو، زنجیروں میں جکڑ دو۔سمندر کی اتھاہ گہرائیوں میں اٹھا پھینکو۔تا کہ میرے حبیب مکرمۖکی امت پر روزوں کے حوالے سے فساد پیدا نہ کر سکیں۔اللہ جل شانہ ماہ رمضان المبارک کی ہر شب کو تین مرتبہ یہ آواز دیتا ہے کہ ہے کوئی سوال کرنے والا کہ اس کے سوال کے مطابق میں اسے عطا کروں؟ ہے کوئی تو بہ کرنے والا کہ میں اس کی توبہ قبول کرلوں؟ ہے کوئی بخشش مانگنے والا کہ میں اس کے گناہوں پر قلم عفو پھیر دوں؟ پھر اللہ تعالی آواز دیتا ہے کون ہے جو اس ہستی کو قرض دے جس کے بھرے خزانوں میں بھی کمی واقع نہیں ہوتی اورجو پوراپورا عطاکرنیوالا ہے۔اللہ تعالی ماہ رمضان المبارک کے ہر ہر دن میں افطاری کے وقت دس لاکھ ایسے لوگوں کو جہنم سے آزادی عطا فرماتا ہے۔ جن پر عذاب واجب ہو چکا ہوتا ہے۔ جب جمعتہ المبارک کا دن اور جمعہ کی رات آتی ہے تو ان کی ہر ساعت میں دس لاکھ جہنمیوں کو جہنم سے آزاد فرماتا ہے۔ جب ماہ رمضان المبارک کا آخری دن ہوتا ہے تو اس دن میں امت مصطفی ۖکے اتنے گنہگاروں کی بخشش فرما دیتا ہے جتنے مہینہ کے شروع سے لے کر آخر تک جہنم سے آزاد کئے ہوئے ہوتے ہیں۔ جب شب قدر آتی ہے تو اللہ تعالی حضرت جبرائیل امین علیہ السلام کو زمین پر اترنے کا حکم دیتا ہے۔ حضرت جبرائیل امین علیہ السلام فرشتوں کے جھرمٹ میں سبز جھنڈے لے کر زمین پر آتے ہیں ایک جھنڈا کعبہ کی چھت پر نصب کر دیتے ہیں۔ حضرت جبرائیل امین علیہ السلام کے چھ سو پر ہیں۔ ان میں سے دو پروں کو شب قدر میں پھیلاتا ہے تو شرق و غرب اس کے دو پروں کے نیچے آجاتے ہیں پھر حضرت جبرائیل امین علیہ السلام ملائکہ کو کہتے ہیں اس امت کے ہر قیام کرنے والے، نماز پڑھنے والے، ذکر کرنے والے کو سلام کرو۔ ان سے مصافحہ کرو، ان کی دعاں پر آمین کہو۔ طلوع فجر تک یہی سلسلہ جاری رہتا ہے۔ جب سپیدہ سحر طلوع ہوتا ہے تو حضرت جبرائیل امین علیہ السلام ندا دیتے ہیں اے ملائکہ کے گروہ کوچ کیلئے تیار ہو جا۔ فرشتے کہتے ہیں اے جبرائیل: اللہ تعالی نے امت مصطفیۖ میں سے مومنوں کے ساتھ کیا کیا؟ حضرت جبرائیل امین علیہ السلام فرماتے ہیں کہ اللہ تعالی نے ان پر نظر رحمت فرمائی۔ انہیں معاف فرما دیا ہے اور ان کی بخشش و مغفرت فرمادی ہے لیکن چار قسم کے لوگوں پرنہ تو نظر رحمت فرمائی اور نہ ہی ان کیلئے بخشش و مغفرت کا پروانہ جاری ہوا۔ فرشتے پوچھتے ہیں کہ وہ کون لوگ ہیں؟ حضرت جبرائیل امین علیہ السلام کہتے ہیں شرابی، والدین کا نافرمان، صلہ رحمی سے منہ موڑنے والا اور اپنے مسلمان بھائی سے تین دن سے زیادہ ناراض رہنے والا۔جب عید الفطر کی پہلی شب آتی ہے جسے لیل الجائزہ کہا جاتا ہے اس شب کے گزرنے پر عید الفطرکی صبح کو اللہ تعالی فرشتوں کو بھیجتا ہے وہ روئے زمین کے ہر شہر میں داخل ہو جاتے ہیں۔ بازاروں کے کونوں میں کھڑے ہو کر آواز لگاتے ہیں جنہیں جن و انس کے سوا ہر مخلوق سنتی ہے۔ اے امت محمدۖاپنے رب کریم کی بارگاہ میں چلو وہ تمہیں اجر عظیم اور بڑے بڑے گناہوں کی بخشش کا مژدہ جاں فزا سنانے والا ہے۔ جب امت مصطفیۖعید گاہوں میں جمع ہو جاتی ہے تو اللہ تعالی فرشتوں سے پوچھتا ہے اے فرشتو! مزدور جب اپنا کام مکمل کرلے تو مزدور کی جزا کیا ہونی چاہئیے؟ فرشتے عرض کرتے ہیں اے ہمارے آقا و مولی اس کی جزا یہ ہونی چاہئے کہ اس کو پورا پورا اجر دیا جائے۔ اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے اے میرے فرشتوتم گواہ ہو جا کہ میں نے ماہ رمضان المبارک میں ان کے روزوں پر اپنی خوشنودی اور بخشش کا صلہ انہیں دیا ہے۔ اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے میرے بندو! مجھ سے مانگو میری عزت و جلال کی قسم دین و دنیا کے اعتبار سے جو بھی آج تم مجھ سے مانگو گے میں تمہیں بالضرور عطا کروں گا۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول مکرم نور مجسم ۖنے ارشاد فرمایا کہ میری امت کو رمضان میں پانچ ایسی خصوصیات عطا کی گئی ہیں جو ان سے قبل کسی امت کو عطا نہیں کی گئیں۔ (1) روزہ دار کے منہ کی بو اللہ تعالی کے ہاں کستوری کی خوشبو سے بھی زیادہ پسندیدہ ہے۔ (2)رمضان المبارک میں افطاری تک فرشتے میری امت کیلئے بخشش کی دعا مانگتے رہتے ہیں۔ (3)رمضان المبارک میں سرکش شیطانوں کو زنجیروں سے جکڑ دیا جاتا ہے وہ پھر اس طرح قابو نہیں پاسکتے جس طرح رمضان المبارک کے علاوہ قابو پاتے ہیں۔(4)ہر روز میری امت کیلئے جنت کو آراستہ کیا جاتا ہے اور اللہ تعالی جنت سے فرماتا ہے بہت جلد میرے نیک و صالح بندے اپنے آپ سے مصیبتوں اور مشقتوں کا بوجھ اتار کر تیرے پاس پہنچ جائیں گے۔ (5)ماہ رمضان المبارک کی آخری شب ان کی بخشش کا اعلان کر دیا جاتا ہے۔ عرض کیا گیا۔ یارسول اللہ ۖ کیا وہ لیلتہ القدر ہے؟ آپ ۖ نے ارشادفرمایا۔نہیں بلکہ کام کرنے والا جب اپنا کام مکمل کرلے تو اسے اس کا اجر پورا پورا دیا جاتا ہے۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور اکرم رحمت عالمۖنے اپنے صحابہ کرام علیہم الرضوان کو بشارت دیتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ تمہارے پاس وہ ماہ مبارک آرہا ہے۔ جس کے روزوں کو تم پر فرض کیا گیا ہے۔ اس ماہ مبارک میں تم پر جنت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں، جہنم کے دروازے بند کر دیئے جاتے ہیں، شیطانوں کو مقید کر دیا جاتا ہے، اس ماہ مبارک میں لیلتہ القدر ہے جو ہزار مہینوں سے افضل ہے۔ حضرت خیثمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ صحابہ کرام علیہم الرضوان فرماتے تھے ایک ماہ رمضان سے دوسرے ماہ رمضان المبارک تک، حج سے حج تک، جمع المبارک سے جمعتہ المبارک تک اور ایک نماز سے دوسری نماز تک کبیرہ گناہوں سے احتراز کیا جائے تو صغیرہ گناہوں کا کفارہ بن جاتے ہیں۔: جب ماہ رمضان المبارک شروع ہوتا تو حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے خوش آمدید ہمیں پاک وصاف کرنے والے سارے کا سارا ماہ رمضان المبارک بھلائی ہی بھلائی ہے۔ دن کو روزہ اور راتوں کو قیام ہے۔ اس میں خرچ کرنا اللہ تعالی کی راہ میں خرچ کرنے کی طرح ہے۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ جس نے ایمان اورحصول ثواب کی نیت سے ماہ رمضان المبارک کے روز ے رکھے اور راتوں کو قیام کیا اس کے سابقہ گناہ بخش دیئے جاتے ہیں۔ آپ رضی اللہ عنہ سے دوسری روایت یوں ہے کہ اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے ابن آدم جو بھی عمل کرتا ہے اس کا ثواب دس گنا سے ستر گنا تک بڑھا دیتا ہوں، سوائے روزہ کے کہ روزہ میرے لئے ہے اور میں ہی اسکی جزا ہوں کہ وہ کھانا، پینا اور خواہشات نفسانی میرے لئے ترک کرتا ہے۔ روزہ ڈھال ہے، روزہ دار کیلئے دو خوشیاں ہیں ایک افطاری کے وقت اور ایک میدان حشر میں اپنے رب سے ملاقات کے وقت ہوگی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں