7

فضائی آلودگی، موسمیاتی تبدیلی اور سانس کی بیماریاں

فضائی آلودگی اور موسمیاتی تبدیلی آج دنیا کو درپیش سب سے سنگین مسائل میں شامل ہیں، مگر پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک میں ان کے اثرات کہیں زیادہ شدید اور خطرنا ک شکل اختیار کر چکے ہیں۔ بدلتے موسمی حالات، غیر معمولی درجہ حرارت، بڑھتی ہوئی اسموگ اور آلودہ ہوا نے انسانی صحت، بالخصوص سانس کے نظام کو شدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔ یہ مسئلہ اب محض ماحولیاتی نہیں رہا بلکہ ایک سنگین صحتِ عامہ کے بحران کی صورت اختیار کر چکا ہے۔
پاکستان کے بڑے شہروں، خصوصا لاہور، کراچی، فیصل آباد، پشاور اور راولپنڈی میں فضائی آلودگی خطرناک حد تک بڑھ چکی ہے۔ گاڑیوں سے نکلنے والا دھواں، صنعتی اخراج، اینٹوں کے بھٹوں کا دھواں، کوڑا کرکٹ جلانے کا رجحان اور جنگلات کی مسلسل کٹائی فضا کو زہریلا بنا رہے ہیں۔ سردیوں کے موسم میں اسموگ کی شدت میں اضافہ اس مسئلے کو مزید سنگین بنا دیتا ہے، کیونکہ کم درجہ حرار ت آلودہ ذرات کو فضا میں دیر تک معلق رکھتا ہے، جسکے نتیجے میں سانس لینا مشکل ہو جاتا ہے۔
موسمیاتی تبد یلی اس صورتحال کو مزید بگاڑ رہی ہے۔ عالمی درجہ حرارت میں اضافے کے باعث ہیٹ ویوز زیادہ شدت اختیار کر چکی ہیں، جبکہ سردیوں کا دورانیہ غیر متوازن ہو گیا ہے۔ یہ موسمی بے اعتدالیاں فضائی آلودگی کے ذرات کو زیادہ نقصان دہ بنا دیتی ہیں۔ تحقیق سے ثابت ہو چکا ہے کہ زیادہ درجہ حرارت فضا میں موجود خطرناک گیسوں اور باریک ذرات (Particulate Matter)کے اثرات کو بڑھا دیتا ہے، جو پھیپھڑوں کے اندر گہرائی تک جا کر شدید نقصان پہنچاتے ہیں۔
طبی ماہرین کے مطابق فضائی آلودگی دمہ، الرجی، برونکائٹس، نمونیا، دائمی سانس کی بیماری (COPD)اور پھیپھڑوں کے انفیکشنز میں واضح اضافے کا سبب بن رہی ہے۔خاص طور پر بچے، بزرگ، حاملہ خوا تین اور پہلے سے بیمار افراد اس کے شدید اثرات کا شکار ہو رہے ہیں۔ حالیہ برسوں میں اسپتالوں میں سانس کے مریضوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے، جبکہ اسکول جانے والے بچوں میں دمہ اور الرجی کے کیسز تشویشناک حد تک بڑھ چکے ہیں۔
موسمیاتی تبدیلی کے نتیجے میں غیر معمولی بارشیں، نمی اور درجہ حرارت میں اچانک تبدیلی فنگس، وائرس اور بیکٹیریا کے پھیلا کو فروغ دیتی ہیں، جو سانس کی بیماریوں کو مزید پیچیدہ بنا دیتی ہیں۔ اس کے علاوہ، سیلاب اور شدید بارشوں کے بعد پیدا ہونے والی آلودگی بھی سانس کے مسائل کو جنم دیتی ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ عوامل مستقبل میں سانس کی بیماریوں کے پھیلا کو مزید تیز کر سکتے ہیں۔
فضائی آلودگی کے اثرات صرف صحت تک محدود نہیں بلکہ یہ معاشی اور سماجی مسائل کو بھی جنم دیتی ہے۔ بیمار افراد کی بڑھتی تعداد صحت کے نظام پر دبائو ڈالتی ہے، جبکہ کام کرنے کی صلاحیت میں کمی ملکی معیشت کو متاثر کرتی ہے۔ بچوں کی تعلیمی کارکردگی پر بھی منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں، کیونکہ مسلسل بیمار رہنے سے ان کی جسمانی اور ذہنی نشوونما متاثر ہوتی ہے۔
ماہرین صحت اور ماحولیات اس با ت پر متفق ہیں کہ اگر بروقت اور موثر اقدامات نہ کیے گئے تو پاکستان میں سانس کی بیماریاں ایک بڑے قومی بحران کی شکل اختیا ر کر سکتی ہیں۔ اسکے لیے ضروری ہے کہ صنعتی اخراج پر سخت نگرانی کی جائے، صاف اور قابلِ تجدید توانائی کو فروغ دیا جائے، پبلک ٹرانسپورٹ کے نظام کو بہتر بنایا جائے، اینٹوں کے بھٹوں کو جدید ٹیکنالوجی پر منتقل کیا جائے اور بڑے پیمانے پر شجرکاری کی جائے۔
ساتھ ہی عوام میں شعور بیدار کرنا بھی نہایت ضروری ہے، تاکہ لوگ فضائی آلودگی کے خطرات کو سمجھیں اور ذاتی سطح پر احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔ ماسک کا استعمال، غیر ضروری گاڑیوں کے استعمال میں کمی اور ماحول دوست طرزِ زندگی اپنانا اس سلسلے میں اہم اقدامات ہو سکتے ہیں۔
آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ فضائی آلودگی اور موسمیاتی تبدیلی سے پیدا ہونیوالی سانس کی بیماریاں ایک خاموش مگر جان لیوا خطرہ ہیں۔ اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے حکومت، اداروں اور عوام کو مشترکہ طور پر فوری اور سنجیدہ اقدامات کرنے ہوں گے، کیونکہ صاف ہوا صر ف ایک ماحولیاتی مسئلہ نہیں بلکہ ہر انسان کا بنیادی حق ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں