48

فلسطین پر اسرائیلی مظالم’ امت مسلمہ خاموش (اداریہ)

اسرائیل کی غزہ میں پناہ گزینوں کے کیمپ’ پلے گرائونڈ میں کھیلتے بچوں اور پولیس کی گاڑی پر فائرنگ’ 7بچوں اور خواتین سمیت 74 فلسطینی شہید اور درجنوں زخمی ہو گئے صہیونی فوج نے جیالہ نصیرت’ کیمپوں اور رفح پر بھی بمباری کی جس میں مزید 56 سے زائد فلسطینی شہید ہو گئے، اسرائیل فلسطینیوں پر زمین تنگ کر رہا ہے اور وہ فلسطینیوں کی نسل کشی کر کے اپنی ناجائز ریاست کا قیام یقینی بنانا چاہتا ہے اسرائیل عالمی میڈیا پر بھی دبائو ڈال کر خوف وہراس پھیلانے میں مصروف ہے اس نے عالمی میڈیا کے دفاتر جس عمارت میں قائم تھے اسے بھی میزائل سے تباہ کر دیا تھا تاکہ اسکی فرعونیت دنیا پر آ شکار نہ ہو ہزاروں کی تعداد میں فلسطینیوں کو شہید کیا جا چکا ہے، دوسری جانب فلسطینیوں پر مظالم پر دنیا اسلام مجرمانہ خاموشی اختیار کئے ہوئے تھے اس سلسلے میں او آئی سی کا اجلاس بھی محض دکھاوے کے سوا کچھ نہیں، 43ممالک کی اسلامی افواج بھی اپنا کردار ادا کرنے میں تساہل سے کام لے رہی ہے، مسلمانوں کی امن پسندی سے کفار اچھی طرح واقف ہیں مسلمانوں کی مخالف طاقتیں کھل کر اسرائیل کا ساتھ دے رہی ہیں اقوام متحدہ امریکہ کے لے پالک بچے کی مانند ہے جسے امریکہ اپنی مرضی سے استعمال کرتا ہے اور ویسے بھی ”ویٹوپاور” کا طریقہ کار اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ ان چند ممالک کی مرضی کے علاوہ دنیا میں کسی مظلوم کے حق میں قرارداد تک پاس نہیں ہو سکتی یہ الگ بات ہے کہ قرارداد پاس ہونے کے بعد بھی کیا ہو گا؟ جب مسلم حکمران ہی بے حس ہو چکے ہوں! فلسطینی مظلوم عوام کسی غیرت مند بہادر اور جذبہ جہاد سے سرشار اسلامی لیڈر کی منتظر ہے جو انہیں اسرائیلی مظالم سے نجات دلا سکے لیکن صورتحال یہ ہے کہ اسلامی ممالک کے اکثر حکمران یہ سمجھتے ہیں کہ اگر انہوں نے امریکہ سمیت یورپی ممالک کی منشاء کے خلاف کوئی کام کیا تو وہ انہیں اقتدار سے ہٹا دیں گے یعنی ان کی نظر میں نعوذباﷲ اقتدار اعلیٰ امریکہ کے پاس ہے اور وہ ہی اپنی مرضی سے اسلامی ممالک میں حکمرانوں کو مناصب عطا کرتا ہے اگر امریکہ کو ناراض کر دیا گیا اور اسرائیل کے خلاف کوئی سخت الفاظ کہے گئے تو اقتدار سے محروم ہونا پڑے گا تو ایسی صورت میں عام مسلمانوں کی جانب سے ایسے حکمرانوں سے اسرائیل کے خلاف کارروائی کی امید لگا لینا بے وقوفی ہے جو اسرائیل کے خلاف بیان دینے کیلئے بھی تیار نہیں دولت مند اسلامی ممالک کے حکمرانوں کا اقتدار امریکہ کی تمام باتیں مان لینے اور مجرمانہ خاموشی اختیار کرنے کے بعد بھی محفوظ نہیں اور امریکہ ایک ایک کر کے ان ممالک میں نہ صرف اقتدار میں تبدیلی لا رہی ہے بلکہ مختلف حیلوں بہانوں سے خانہ جنگی پیدا کر کے انہیں مکمل تباہ وبرباد کر رہا ہے اور ان کے تمام وسائل پر قابض ہوتا چلا جا رہا ہے اسلامی ممالک کے حکمرانوں کی دولت کا زیادہ حصہ امریکہ ویورپ میں بڑی بڑی کمپنیوں اور کاروباری شکل میں موجود ہے اور ان حکمرانوں کے معاشی مفادات بھی امریکہ اور یورپ سے ہی جڑے ہوئے ہیں اس لئے وہ ان ممالک کی مرضی کے خلاف کوئی بات کرنے کو تیار نہیں دولت مند اسلامی ممالک فلسطینیوں کی اس قدر مدد کرتے ہیں کہ انہیں اپنے ممالک میں رہائش وملازمت دیکر اسرائیل کے مظالم سے نجات دلا دیتے ہیں یعنی نہ تو فلسطینی وہاں ہوں گے اور نہ ہی اسرائیل کے مظالم کا نشانہ بنیں گے اسی طرز عمل کے باعث اسرائیل مسلسل اپنی حدود میں توسیع کرتا چلا جا رہا ہے اور فلسطینی عوام کو اسرائیل کے مظالم سے اﷲ کے سوا کوئی بچانے والا نہیں، جو اسلامی حکمرانوں کیلئے لمحہ فکریہ سے کم نہیں’ اسلامی ملک ایران نے اسرائیل پر حملہ کیا مگر دیگر اسلامی ممالک اس کا ساتھ دینے میں ہچکچا رہے ہیں کہ مباداوہ مشکل میں نہ پڑ جائیں جبکہ صہیونیوں کا ساتھ دینے کیلئے امریکہ برطانیہ اور کئی یورپی ممالک تیار بیٹھے ہیں، اگر مسلم ممالک نے اتحاد نہ کیا تو پھر کفار مسلمانوں پر دبائو بڑھانے میں کامیاب رہیں گے جو ان کیلئے اچھا نہیں ہو گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں