فیسکو سب ڈویژن سدھا رکے عملے نے من مانیوں کی ”حد”کردی

ٹھیکریوالہ(نامہ نگار) سب ڈویژن فیسکو سدھار کے عملے نے شہریوں کو خوار کرنے کا وطیرہ بنا لیا،دھاڑی والی جگہ فوری طور پر اور عام شہریوں کیلئے حیلے بہانے ،تفصیلات کے مطابق سب ڈویژن فیسکو سدھار کے عملے نے شہریوں کو خوار کرنے کا وطیرہ بنا لیا ہے کمپلینٹ لکھوانے کیلئے شہریوں کی کال بھی نہیں سنی جاتی اور اگر سن بھی لے تو تھوڑ ی دیر کا کہہ کر پورا پورا دن گزار دیتے ہیں کال نہ سننے کے باعث شہریوں کو دفتر کا چکر لگانا پڑتا ہے اور پھر بھی یہی جواب ملتا ہے کہ آپ گھر پہنچو ہم ابھی آئے لیکن آتے اپنی مرضی سے ہے اور اگر رات کی کمپلینٹ ہو تو گھر بیٹھے شہریوں کو گھنٹہ کا کہہ کر کال بند کر دیتے ہیں شہریوں کو انتظار کرنے پہ لگا دیتے ہیں اس کے باوجود کبھی وقت پہ نہیں آتے ہمیشہ اگلے دن کمپلینٹ حل کرتے ہیں آج کے اس دور میں بچوں والے گھروں میں پانی کے بغیر بلکل بھی گزارہ نہیں ہوتا لیکن فیسکو ملازمین کو کوئی پرواہ نہیں ہوتی من مرضی سے کام کرتے ہیں عام شہریوں کی مشکلات سے ان کا کوئی لینا دینا نہیں سرکاری نوکری کو بادشاہوں کی طرح کر رہے ہیں جب کہ یہ عوام کے ہی ملازم ہوتے ہیں اور عوام کو ہی خوار کرتے ہیں آج کے دور میں عام شہری کو خوار کرنے کا مطلب رشوت طلب کرنا ہے دھاڑی لگے تو پھر ان کی کوئی مصروفیت نہیں ہوتی دھاڑی نہ لگنے والی جگہ پہ فیلڈ ورک کا بتاتے رہتے ہیں کہ ہم کونسا ویلے ہیں شہریوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز سے مطالبہ کیا ہے سب ڈویژن فیسکو سدھار میں موجود کالی بھیڑوں کو فوری نکالا جائے اور عام شہریوں کی مشکلات کے حل کو فوری یقینی بنایا جائے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں