فیسکو کیخلاف عوامی شکایات بڑھ گئیں

فیصل آباد(وقائع نگار خصوصی) بجلی سپلائی کرنے والی منافع بخش کمپنی فیسکو کی کارکردگی نہ ہونے کے برابر، ہزاروں، لاکھوں روپے کے بل ادا کرنیوالے صارفین شکایات کے ازالے کیلئے مختلف دفاتر کے دھکے کھانے پر مجبور، فیسکو BODکا عہدہ نمائشی بن کر رہ گیا، تفصیل کے مطابق فیسکو کے دائرہ کار میں فیصل آباد سمیت آٹھ اضلاع شامل ہیں، جہاں56لاکھ سے زائد صارفین کو بجلی فراہم کی جاتی ہے، یہ بجلی صارفین ماہانہ اربوں روپے کے بلز ادا کرتے ہیں، فیصل آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی(فیسکو) کی ریکوری کا جائزہ لیا جائے تو یہ سو فیصد ہے مگر اس کے باوجودکارکردگی زیرو ہے، اس صورتحال کی بڑی وجہ فیسکو میں شامل وہ کالی بھیڑیں ہیں جو اپنے فرائض ذمہ دارانہ طریقہ سے انجام نہیں دیتی اور ادارے کی کارکردگی متاثر ہوتی ہے، اگرچہ اچھے اور برے لوگ ہر جگہ موجود ہوتے ہیں، فیسکو میں محنتی اور فرض شناس لوگوں کی کمی نہیں مگر وہ کالی بھیڑیں جن میں چھوٹے لائن مین سے لیکرکئی ایس ڈی او اور ایکسیئن بھی شامل ہیں ، وہ بجلی صارفین کیلئے درد سر بن چکے ہیں، بجلی صارفین ادھار لیں یا اپنی کوئی قیمتی چیز فروخت کریں، انہیں ہر صورت بجلی بل ادا کرنا ہوتے ہیں لیکن عام صارف کو شکایات کے ازالے کے لیے سفارش یا رشوت دینی پڑتی ہے ، اگر وہ رشوت نہ دیں اور ان کے پاس کوئی سفارش نہ ہو تو ان کی شکایات نہیں سنی جاتیں، فیسکو میں شامل ان کالی بھیڑوں کے متعلق جو رشوت یا سفارش کے بغیر عام صارف کی شکایت حل نہیں کرتے، اوپر بات کی جائے تو فیسکو افسران چپ سادھ لیتے ہیں، عمر فاروق خان جب سے چیئرمین فیسکوBODبنے ہیں ، یہ عہدہ نمائشی بن کر رہ گیا ہے، ان کا دفتر جانا نہ ہونے کے برابر ہے اور اگر دفتر پہنچیں بھی تو عام صارف کیا خاص صارف کی بھی ان تک رسائی مشکل ہوتی ہے ،اس کے برعکس سابق چیئرمین فیسکوBODملک تحسین احمد اعوان کی کارکردگی ہر لحاظ سے مثالی تھی، بجلی صارفین کی شکایات کا فوری حل ان کی اولین ترجیح رہا، فیسکو میں شامل کالی بھیڑوں کو لگام ڈالنے کیلئے بھی انہوں نے بھر پور اقدامات اٹھائے جس سے صارفین کی شکایات حل ہونے سے ان کا فیسکو پر اعتماد بڑھا، ملک تحسین احمد اعوان نے فیسکو کو ہر لحاظ سے بہترین ادارہ بنانے پر مکمل توجہ دی اور یہی وجہ ہے کہ لوگ آج بھی چیئرمین فیسکو BODکی حیثیت سے ان کی کارکردگی کو مثالی قرار دیتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں